ghazalKuch Alfaaz

ڈولی اٹھا کے لے گئے محلوں کے بادشاہ سڑکوں سے دیکھتے رہے سڑکوں کے بادشاہ امید کی کرن ہے وہ ہے وہ ہر اک کھیت جل گئے سلفا سے کھا کے مر گئے کھیتوں کے بادشاہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دوسری غزل کی طرف چل دیا تو دوست پچھلی بلاتی رہ گئی غزلوں کے بادشاہ آنکھوں کی تخت پوشی تو بینائی لے گئی آنسو بنیں گے دیکھ یوں پلکوں کے بادشاہ

Related Ghazal

آئینے آنکھ ہے وہ ہے وہ چبھتے تھے بستر سے بدن کترا تا تھا ایک یاد بسر کرتی تھی مجھے ہے وہ ہے وہ سان سے نہیں لے پاتا تھا ایک شخص کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ تھا سب کچھ میرا کھلنا بھی مرجھانا بھی روتا تھا تو رات اجڑ جاتی ہنستا تھا تو دن بن جاتا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ رب سے رابطے ہے وہ ہے وہ رہتا ممکن ہے کی ا سے سے رابطہ ہوں مجھے ہاتھ اٹھانا پڑتے تھے تب جا کر حقیقت فون اٹھاتا تھا مجھے آج بھی یاد ہے بچپن ہے وہ ہے وہ کبھی ا سے پر نظر ا گر پڑتی مری گدا سے پھول برستے تھے مری تختی پہ دل بن جاتا تھا ہم ایک زندان ہے وہ ہے وہ زندہ تھے ہم ایک زنجیر ہے وہ ہے وہ بڑھے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھ کر ہم کبھی زار تھے تو رونا آتا تھا حقیقت جسم دلائیں نہیں ہوں پاتا تھا ان آنکھوں سے مجرم ٹھہراتا تھا اپنا کہنے کو تو گھر ٹھہراتا تھا

Tehzeeb Hafi

129 likes

پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا

Fahmi Badayuni

96 likes

جاناں حقیقت نہیں ہوں حسرت ہوں جو ملے خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت دولت ہوں جاناں ہوں خوشبو کے خواب کی خوشبو اور اتنے ہی بے مروت ہوں ک سے طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں جاناں مری زندگی کی عادت ہوں ک سے لیے دیکھتے ہوں آئی لگ جاناں تو خود سے بھی خوبصورت ہوں داستان ختم ہونے والی ہے جاناں مری آخری محبت ہوں

Jaun Elia

315 likes

چارسازوں کے ب سے کی بات نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دواؤں کے ب سے کی بات نہیں چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ دیمکوں سے نجات جو کتابوں کے ب سے کی بات نہیں تیری خوشبو کو قید ہے وہ ہے وہ رکھنا عطر دانوں کے ب سے کی بات نہیں ختم کر دے عذاب قبروں کا تاج محلوں کے ب سے کی بات نہیں آنسوؤں ہے وہ ہے وہ جو جھلملاہٹ ہے حقیقت ستاروں کے ب سے کی بات نہیں ایسا لگتا ہے اب تیرا دیدار صرف آنکھوں کے ب سے کی بات نہیں

Fahmi Badayuni

30 likes

ویسے ہے وہ ہے وہ نے دنیا ہے وہ ہے وہ کیا دیکھا ہے جاناں کہتے ہوں تو پھروں اچھا دیکھا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کو اپنی وحشت تحفے ہے وہ ہے وہ دوں ہاتھ اٹھائے ج سے نے صحرا دیکھا ہے بن دیکھے ا سے کی تصویر بنا لوں گا آج تو ہے وہ ہے وہ نے ا سے کو اتنا دیکھا ہے ایک نظر ہے وہ ہے وہ منظر کب کھلتے ہیں دوست تو نے دیکھا بھی ہے تو کیا دیکھا ہے عشق ہے وہ ہے وہ بندہ مر بھی سکتا ہے ہے وہ ہے وہ نے دل کی دستاویز ہے وہ ہے وہ لکھا دیکھا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آنکھیں دیکھ کے ہی بتلا دوں گا جاناں ہے وہ ہے وہ سے ک سے ک سے نے دریا دیکھا ہے آگے سیدھے ہاتھ پہ ایک ترائی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے پہلے بھی یہ رستہ دیکھا ہے جاناں کو تو ا سے باغ کا نام پتا ہوگا جاناں نے تو ا سے شہر کا نقشہ دیکھا ہے

Tehzeeb Hafi

80 likes

More from Rishabh Sharma

ادا سے لڑ کیوں سے رابطہ نبھاتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک پھول ہوں جو تتلیاں بچاتا ہوں جی ہے وہ ہے وہ ہی عشق ہے وہ ہے وہ ہارے ہوؤں کا مرشد ہوں جی ہے وہ ہے وہ ہی ہر ص گرا ہے وہ ہے وہ قی سے بن کے آتا ہوں ستائی ہوتی ہیں جو آپ کے سمندر کی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایسی مچھلیوں کے ساتھ گوٹے تقاضا ہوں کسی کے واسطے کانٹے نہیں بچھاتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ م گر یوں بھی نہیں کے کانٹوں کو ہٹاتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ موسمی ہنسی کا مارا ہوں کہ کوئی دن ہے وہ ہے وہ ہے وہ سال بھر ہے وہ ہے وہ کوئی دن ہی مسکراتا ہوں بدن بھی آتے ہیں اور ہچکیاں بھی آتی ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جن کو بھول گیا تو ان کو یاد آتا ہوں نبھانے جیسا تو کچھ بھی نہیں ہے ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ م گر حقیقت مر لگ جائے کہی ا سے لیے نبھاتا ہوں

Rishabh Sharma

19 likes

سارا سامان لیے گھر سے نکل آئی ہے فون پر فون لگاتی ہوئی تنہائی ہے یاد آنے لگے ہیں لوگ مجھے گزرے ہوئے دوست کیا تو نے مری جھوٹی قسم کھائی ہے اپنی دنیا ہے وہ ہے وہ مگن رہنا اسے کہتے ہیں اک پلاسٹر جھڑی دیوار پہ جو کائی ہے بات جو دل پہ لگی ہے حقیقت کوئی بات نہیں سر کے اوپر سے گئی بات ہے وہ ہے وہ گہرائی ہے ا سے کے پہلو ہے وہ ہے وہ بھلا سوچتا ہوں کیا کیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ خواب ہے وہ ہے وہ آ گیا تو ہوں نیند نہیں آئی ہے

Rishabh Sharma

18 likes

جو کہ ہوتے ہوئے آزار بے حد ہوتا ہے بعد ہونے کے مزیدار بے حد ہوتا ہے دن بدلنے کے لیے خود کشی کرنے کے لیے ایک ہی بے وجہ کا انکار بے حد ہوتا ہے بھاگنے والے کو دنیا بھی بے حد چھوٹی ہے گھومنے والے کو بازار بے حد ہوتا ہے ج سے نے بھیجا ہے تمہیں جا کے اسے کہنا جاناں لاکھ پیادوں ہے وہ ہے وہ بھی سالار بے حد ہوتا ہے جنگ ہر چیز کو ہتھیار بنا دیتی ہے بچے کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ پرکار بے حد ہوتا ہے چھت سے چھت والوں ہے وہ ہے وہ دیوار کھڑی کرنے کو ان کے بچوں ہے وہ ہے وہ ہوا پیار بے حد ہوتا ہے

Rishabh Sharma

18 likes

کسی کے ساتھ ہوں پر ہوں کسی کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دھول جھونکتا ہوں زندگی کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بچھڑ کے مجھ سے حقیقت خود کو تلاش کرنے لگی تلاش بھی کسی اور آدمی کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کھلے کانسا کے تلے ناچنے کا من ہے ب سے کسی کا خواب نہیں مورنی کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ

Rishabh Sharma

12 likes

جھوٹے خدا کی بندگی ہے وہ ہے وہ آگ لگ گئی مجھ کو بھی خود سپردگی ہے وہ ہے وہ آگ لگ گئی مری طرف سے ہے وہ ہے وہ نے اسے پھول کیا دیا دونوں طرف سے دوستی ہے وہ ہے وہ آگ لگ گئی کچھ لوگ مری زندگی ہے وہ ہے وہ خاص لوگ تھے ان کو بھی مری روشنی ہے وہ ہے وہ آگ لگ گئی بادل ہمارے گاؤں سے آگے نکل گئے فصلیں اجڑ گئیں ن گرا ہے وہ ہے وہ آگ لگ گئی برہا کے دکھ سنجو کے ہے وہ ہے وہ نے شعر کیا کہے استاد مری شاعری ہے وہ ہے وہ آگ لگ گئی اک دن ہمارے سر سے کوئی ہاتھ اٹھ گیا تو اک دن ہماری زندگی ہے وہ ہے وہ آگ لگ گئی

Rishabh Sharma

17 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Rishabh Sharma.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Rishabh Sharma's ghazal.