ghazalKuch Alfaaz

سارا سامان لیے گھر سے نکل آئی ہے فون پر فون لگاتی ہوئی تنہائی ہے یاد آنے لگے ہیں لوگ مجھے گزرے ہوئے دوست کیا تو نے مری جھوٹی قسم کھائی ہے اپنی دنیا ہے وہ ہے وہ مگن رہنا اسے کہتے ہیں اک پلاسٹر جھڑی دیوار پہ جو کائی ہے بات جو دل پہ لگی ہے حقیقت کوئی بات نہیں سر کے اوپر سے گئی بات ہے وہ ہے وہ گہرائی ہے ا سے کے پہلو ہے وہ ہے وہ بھلا سوچتا ہوں کیا کیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ خواب ہے وہ ہے وہ آ گیا تو ہوں نیند نہیں آئی ہے

Related Ghazal

مجھے ادا سے کر گئے ہوں خوش رہو مری مزاج پر گئے ہوں خوش رہو مری لیے لگ رک سکے تو کیا ہوا ج ہاں کہی ٹھہر گئے ہوں خوش رہو خوشی ہوئی ہے آج جاناں کو دیکھ کر بے حد نکھر سنور گئے ہوں خوش رہو ادا سے ہوں کسی کی بے وفائی پر وفا کہی تو کر گئے ہوں خوش رہو گلی ہے وہ ہے وہ اور لوگ بھی تھے آشنا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سلام بخیر کر گئے ہوں خوش رہو تمہیں تو مری دوستی پہ ناز تھا اسی سے اب مکر گئے ہوں خوش رہو کسی کی زندگی بنو کہ بندگی مری لیے تو مر گئے ہوں خوش رہو

Fazil Jamili

73 likes

سفر ہے وہ ہے وہ دھوپ تو ہوں گی جو چل سکو تو چلو سبھی ہیں بھیڑ ہے وہ ہے وہ جاناں بھی نکل سکو تو چلو کسی کے واسطے راہیں ک ہاں بدلتی ہیں جاناں اپنے آپ کو خود ہی بدل سکو تو چلو ی ہاں کسی کو کوئی راستہ نہیں دیتا مجھے گرا کے ا گر جاناں سنبھل سکو تو چلو کہی نہیں کوئی سورج دھواں دھواں ہے فضا خود اپنے آپ سے باہر نکل سکو تو چلو یہی ہے زندگی کچھ خواب چند امیدیں انہی کھلونوں سے جاناں بھی بہل سکو تو چلو

Nida Fazli

61 likes

بعد ہے وہ ہے وہ مجھ سے نا کہنا گھر پلٹنا ٹھیک ہے ویسے سننے ہے وہ ہے وہ یہی آیا ہے رستہ ٹھیک ہے شاخ سے پتہ گرے بارش گردشیں بادل چھٹے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہی تو سب کچھ غلط کرتا ہوں اچھا ٹھیک ہے ذہن تک تسلیم کر لیتا ہے ا سے کی برتری آنکھ تک تصدیق کر دیتی ہے بندہ ٹھیک ہے ایک تیری آواز سننے کے لیے زندہ ہے ہم تو ہی جب خاموش ہوں جائے تو پھروں کیا ٹھیک ہے

Tehzeeb Hafi

182 likes

ہم نے کب چاہا کہ حقیقت بے وجہ ہمارا ہوں جائے اتنا دکھ جائے کہ آنکھوں کا گزارا ہوں جائے ہم جسے پا سے بٹھا لیں حقیقت بچھڑ جاتا ہے جاناں جسے ہاتھ لگا دو حقیقت تمہارا ہوں جائے جاناں کو لگتا ہے کہ جاناں جیت گئے ہوں مجھ سے ہے یہی بات تو پھروں کھیل دوبارہ ہوں جائے ہے محبت بھی غضب طرز تجارت کہ ی ہاں ہر دکاں دار یہ چاہے کہ خسارہ ہوں جائے

Yasir Khan

92 likes

تمنا پھروں مچل جائے ا گر جاناں ملنے آ جاؤ یہ موسم بھی بدل جائے ا گر جاناں ملنے آ جاؤ مجھے غم ہے کہ ہے وہ ہے وہ نے زندگی ہے وہ ہے وہ کچھ نہیں پایا یہ غم دل سے نکل جائے ا گر جاناں ملنے آ جاؤ یہ دنیا بھر کے جھگڑے گھر کے قصے کام کی باتیں بلا ہر ایک ٹل جائے ا گر جاناں ملنے آ جاؤ نہیں ملتے ہوں مجھ سے جاناں تو سب ہمدرد ہیں مری زما لگ مجھ سے جل جائے ا گر جاناں ملنے آ جاؤ

Javed Akhtar

48 likes

More from Rishabh Sharma

ادا سے لڑ کیوں سے رابطہ نبھاتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک پھول ہوں جو تتلیاں بچاتا ہوں جی ہے وہ ہے وہ ہی عشق ہے وہ ہے وہ ہارے ہوؤں کا مرشد ہوں جی ہے وہ ہے وہ ہی ہر ص گرا ہے وہ ہے وہ قی سے بن کے آتا ہوں ستائی ہوتی ہیں جو آپ کے سمندر کی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایسی مچھلیوں کے ساتھ گوٹے تقاضا ہوں کسی کے واسطے کانٹے نہیں بچھاتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ م گر یوں بھی نہیں کے کانٹوں کو ہٹاتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ موسمی ہنسی کا مارا ہوں کہ کوئی دن ہے وہ ہے وہ ہے وہ سال بھر ہے وہ ہے وہ کوئی دن ہی مسکراتا ہوں بدن بھی آتے ہیں اور ہچکیاں بھی آتی ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جن کو بھول گیا تو ان کو یاد آتا ہوں نبھانے جیسا تو کچھ بھی نہیں ہے ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ م گر حقیقت مر لگ جائے کہی ا سے لیے نبھاتا ہوں

Rishabh Sharma

19 likes

جو کہ ہوتے ہوئے آزار بے حد ہوتا ہے بعد ہونے کے مزیدار بے حد ہوتا ہے دن بدلنے کے لیے خود کشی کرنے کے لیے ایک ہی بے وجہ کا انکار بے حد ہوتا ہے بھاگنے والے کو دنیا بھی بے حد چھوٹی ہے گھومنے والے کو بازار بے حد ہوتا ہے ج سے نے بھیجا ہے تمہیں جا کے اسے کہنا جاناں لاکھ پیادوں ہے وہ ہے وہ بھی سالار بے حد ہوتا ہے جنگ ہر چیز کو ہتھیار بنا دیتی ہے بچے کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ پرکار بے حد ہوتا ہے چھت سے چھت والوں ہے وہ ہے وہ دیوار کھڑی کرنے کو ان کے بچوں ہے وہ ہے وہ ہوا پیار بے حد ہوتا ہے

Rishabh Sharma

18 likes

کسی کے ساتھ ہوں پر ہوں کسی کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دھول جھونکتا ہوں زندگی کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بچھڑ کے مجھ سے حقیقت خود کو تلاش کرنے لگی تلاش بھی کسی اور آدمی کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کھلے کانسا کے تلے ناچنے کا من ہے ب سے کسی کا خواب نہیں مورنی کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ

Rishabh Sharma

12 likes

کیا دوست محبت کا نیم کچھ نہیں ہوتا کھا لیتے ہیں سب جھوٹی قسم کچھ نہیں ہوتا وہ پردہ خود کشی پوچھتی رہتی ہے مجھے روز کیا واقعی میں اگلا جنم کچھ نہیں ہوتا پروت کے مہانے پہ کھڑا سوچ رہا ہوں کس نے کہا تھا ایک قدم کچھ نہیں ہوتا اور واقعہ مشہور تھا جس پیڑ کو لے کر اس پیڑ پہ لکھا تھا بھرم کچھ نہیں ہوتا وہ روشنی کے دن تھے رشبھ شرما تیرے ساتھ جب تو ہمیں سمجھاتا تھا غم کچھ نہیں ہوتا

Rishabh Sharma

18 likes

ڈولی اٹھا کے لے گئے محلوں کے بادشاہ سڑکوں سے دیکھتے رہے سڑکوں کے بادشاہ امید کی کرن ہے وہ ہے وہ ہر اک کھیت جل گئے سلفا سے کھا کے مر گئے کھیتوں کے بادشاہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دوسری غزل کی طرف چل دیا تو دوست پچھلی بلاتی رہ گئی غزلوں کے بادشاہ آنکھوں کی تخت پوشی تو بینائی لے گئی آنسو بنیں گے دیکھ یوں پلکوں کے بادشاہ

Rishabh Sharma

15 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Rishabh Sharma.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Rishabh Sharma's ghazal.