عجیب منظر ہے بارشوں کا مکان پانی ہے وہ ہے وہ بہ رہا ہے فلک ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کی حدود ہے وہ ہے وہ ہے نشان پانی ہے وہ ہے وہ بہ رہا ہے تمام فصلیں اجڑ چکی ہیں لگ حل بچا ہے لگ فصلوں باقی کسان گروی رکھا ہوا ہے لگان پانی ہے وہ ہے وہ بہ رہا ہے عذاب اترا تو پاؤں سب کے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کی سطحوں سے آ لگے ہیں ہوا کے گھر ہے وہ ہے وہ نہیں ہے کوئی مچان پانی ہے وہ ہے وہ بہ رہا ہے کوئی کسی کو نہیں بچاتا سب اپنی خاطر ہی تیرتے ہیں یہ دن خوشگوار کا دن ہوں چنو جہان پانی ہے وہ ہے وہ بہ رہا ہے ادا سے آنکھوں کے بادلوں نے دلوں کے گرد و غبار دھوئے یقین پتھر بنا کھڑا ہے گمان پانی ہے وہ ہے وہ بہ رہا
Related Ghazal
چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا
Waseem Barelvi
103 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
More from Shakeel Azmi
अकेले रहने की ख़ुद ही सज़ा क़ुबूल की है ये हम ने इश्क़ किया है या कोई भूल की है ख़याल आया है अब रास्ता बदल लेंगे अभी तलक तो बहुत ज़िंदगी फ़ुज़ूल की है ख़ुदा करे कि ये पौदा ज़मीं का हो जाए कि आरज़ू मिरे आँगन को एक फूल की है न जाने कौन सा लम्हा मिरे क़रार का है न जाने कौन सी साअ'त तिरे हुसूल की है न जाने कौन सा चेहरा मिरी किताब का है न जाने कौन सी सूरत तिरे नुज़ूल की है जिन्हें ख़याल हो आँखों का लौट जाएँ वो अब इस के बा'द हुकूमत सफ़र में धूल की है ये शोहरतें हमें यूँँही नहीं मिली हैं 'शकील' ग़ज़ल ने हम से भी बहुत वसूल की है
Shakeel Azmi
18 likes
مجھ پہ ہیں سیکڑوں الزام مری ساتھ نہ چل تو بھی ہو جائےگا بدنام مری ساتھ نہ چل تو نئی صبح کے سورج کی ہے اجلی سی کرن میں ہوں اک دھول بھری شام مری ساتھ نہ چل اپنی خوشیاں مری آلام سے بادہ آشامی نہ کر مجھ سے مت مانگ میرا نام مری ساتھ نہ چل تو بھی کھو جائے گی ٹپکے ہوئے آنسو کی طرح دیکھ اے گردش ایام مری ساتھ نہ چل میری دیوار کو تو کتنا سنبھالےگا شکیل ٹوٹتا رہتا ہوں ہر گام مری ساتھ نہ چل
Shakeel Azmi
26 likes
ہے وہ ہے وہ بھی جاناں جیسا ہوں اپنے سے جدا مت سمجھو آدمی ہی مجھے رہنے دو خدا مت سمجھو یہ جو ہے وہ ہے وہ ہوش ہے وہ ہے وہ رہتا نہیں جاناں سے مل کر یہ میرا عشق ہے جاناں اس کا کو نشہ مت سمجھو را سے آتا نہیں سب کو یہ محبت کا مرض مری بیماری کو جاناں اپنی دوا مت سمجھو
Shakeel Azmi
51 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Shakeel Azmi.
Similar Moods
More moods that pair well with Shakeel Azmi's ghazal.







