ajiib manzar hai barishon ka makan paani men bah raha hai falak zamin ki hudud men hai nishan paani men bah raha hai tamam faslen ujad chuki hain na hal bacha hai na bail baaqi kisan girvi rakha hua hai lagan paani men bah raha hai azaab utra to paanv sab ke zamin ki sathon se aa lage hain hava ke ghar men nahin hai koi machan paani men bah raha hai koi kisi ko nahin bachata sab apni khatir hi tairte hain ye din qayamat ka din ho jaise jahan paani men bah raha hai udaas ankhon ke badalon ne dilon ke gard-o-ghhubar dhoe yaqin patthar bana khada hai guman paani men bah raha hai ajib manzar hai barishon ka makan pani mein bah raha hai falak zamin ki hudud mein hai nishan pani mein bah raha hai tamam faslen ujad chuki hain na hal bacha hai na bail baqi kisan girwi rakha hua hai lagan pani mein bah raha hai azab utra to panw sab ke zamin ki sathon se aa lage hain hawa ke ghar mein nahin hai koi machan pani mein bah raha hai koi kisi ko nahin bachata sab apni khatir hi tairte hain ye din qayamat ka din ho jaise jahan pani mein bah raha hai udas aankhon ke baadalon ne dilon ke gard-o-ghubar dhoe yaqin patthar bana khada hai guman pani mein bah raha hai
Related Ghazal
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
More from Shakeel Azmi
عجیب منظر ہے بارشوں کا مکان پانی ہے وہ ہے وہ بہ رہا ہے فلک ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کی حدود ہے وہ ہے وہ ہے نشان پانی ہے وہ ہے وہ بہ رہا ہے تمام فصلیں اجڑ چکی ہیں لگ حل بچا ہے لگ فصلوں باقی کسان گروی رکھا ہوا ہے لگان پانی ہے وہ ہے وہ بہ رہا ہے عذاب اترا تو پاؤں سب کے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کی سطحوں سے آ لگے ہیں ہوا کے گھر ہے وہ ہے وہ نہیں ہے کوئی مچان پانی ہے وہ ہے وہ بہ رہا ہے کوئی کسی کو نہیں بچاتا سب اپنی خاطر ہی تیرتے ہیں یہ دن خوشگوار کا دن ہوں چنو جہان پانی ہے وہ ہے وہ بہ رہا ہے ادا سے آنکھوں کے بادلوں نے دلوں کے گرد و غبار دھوئے یقین پتھر بنا کھڑا ہے گمان پانی ہے وہ ہے وہ بہ رہا
Shakeel Azmi
4 likes
अकेले रहने की ख़ुद ही सज़ा क़ुबूल की है ये हम ने इश्क़ किया है या कोई भूल की है ख़याल आया है अब रास्ता बदल लेंगे अभी तलक तो बहुत ज़िंदगी फ़ुज़ूल की है ख़ुदा करे कि ये पौदा ज़मीं का हो जाए कि आरज़ू मिरे आँगन को एक फूल की है न जाने कौन सा लम्हा मिरे क़रार का है न जाने कौन सी साअ'त तिरे हुसूल की है न जाने कौन सा चेहरा मिरी किताब का है न जाने कौन सी सूरत तिरे नुज़ूल की है जिन्हें ख़याल हो आँखों का लौट जाएँ वो अब इस के बा'द हुकूमत सफ़र में धूल की है ये शोहरतें हमें यूँँही नहीं मिली हैं 'शकील' ग़ज़ल ने हम से भी बहुत वसूल की है
Shakeel Azmi
18 likes
مجھ پہ ہیں سیکڑوں الزام مری ساتھ نہ چل تو بھی ہو جائےگا بدنام مری ساتھ نہ چل تو نئی صبح کے سورج کی ہے اجلی سی کرن میں ہوں اک دھول بھری شام مری ساتھ نہ چل اپنی خوشیاں مری آلام سے بادہ آشامی نہ کر مجھ سے مت مانگ میرا نام مری ساتھ نہ چل تو بھی کھو جائے گی ٹپکے ہوئے آنسو کی طرح دیکھ اے گردش ایام مری ساتھ نہ چل میری دیوار کو تو کتنا سنبھالےگا شکیل ٹوٹتا رہتا ہوں ہر گام مری ساتھ نہ چل
Shakeel Azmi
26 likes
ہے وہ ہے وہ بھی جاناں جیسا ہوں اپنے سے جدا مت سمجھو آدمی ہی مجھے رہنے دو خدا مت سمجھو یہ جو ہے وہ ہے وہ ہوش ہے وہ ہے وہ رہتا نہیں جاناں سے مل کر یہ میرا عشق ہے جاناں اس کا کو نشہ مت سمجھو را سے آتا نہیں سب کو یہ محبت کا مرض مری بیماری کو جاناں اپنی دوا مت سمجھو
Shakeel Azmi
51 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Shakeel Azmi.
Similar Moods
More moods that pair well with Shakeel Azmi's ghazal.







