ghazalKuch Alfaaz

خوشی ضائع ہوں رہے تھے دیکھ کر روتا لگ تھا ج سے جگہ بنتا تھا رونا ہے وہ ہے وہ ادھر روتا لگ تھا صرف تیری چپ نے مری گال گیلے کر دیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو حقیقت ہوں جو کسی کی موت پر روتا لگ تھا مجھ پہ کتنے سانحے گزرے پر ان آنکھوں کو کیا میرا دکھ یہ ہیں کہ میرا ہم سفر روتا لگ تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کے وصل ہے وہ ہے وہ بھی ہجر کاٹا ہے کہی حقیقت مری کندھے پہ رکھ لیتا تھا سر روتا لگ تھا پیار تو پہلے بھی ا سے سے تھا م گر اتنا نہیں تب ہے وہ ہے وہ اس کا کو چھو تو لیتا تھا م گر روتا لگ تھا گریہ و زاری کو بھی اک خاص موسم چاہیے مری آنکھیں دیکھ لو ہے وہ ہے وہ سمے پر روتا لگ تھا

Tehzeeb Hafi44 Likes

Related Ghazal

یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے

Tehzeeb Hafi

292 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

سینا کچا رہا ہوں تو کیا چپ رہے کوئی کیوں چیخ چیخ کر لگ گلہ سروہا لے کوئی ثابت ہوا سکون دل و جاں کہی نہیں رشتوں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی ترک تعلقات کوئی مسئلہ نہیں یہ تو حقیقت راستہ ہے کہ ب سے چل پڑے کوئی دیوار جانتا تھا جسے ہے وہ ہے وہ حقیقت دھول تھی اب مجھ کو اعتماد کی دعوت لگ دے کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب مری خلاف زہر اگلتا پھیرے کوئی اے بے وجہ اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی ہاں ٹھیک ہے ہے وہ ہے وہ اپنی انا کا مریض ہوں آخر مری مزاج ہے وہ ہے وہ کیوں دخل دے کوئی اک بے وجہ کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر کاش ا سے زبان دراز کا منا نوچ لے کوئی

Jaun Elia

77 likes

अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें

Ahmad Faraz

130 likes

More from Tehzeeb Hafi

چیختے ہیں در و دیوار نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ آنکھ کھلنے پہ بھی منجملہ و اسباب ماتم نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ خواب کرنا ہوں سفر کرنا ہوں یا رونا ہوں مجھ ہے وہ ہے وہ خوبی ہے بیزار نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب بھلا اپنے لیے بننا سنورنا کیسا خود سے ملنا ہوں تو تیار نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کون آئےگا بھلا میری عیادت کے لیے بس اسی خوف سے بیمار نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ منزل عشق پہ نکلا تو کہا رستے نے ہر کسی کے لیے خوددار نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تیری تصویر سے تسکین نہیں ہوتی مجھے تیری آواز سے مخمور نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ لوگ کہتے ہیں ہے وہ ہے وہ بارش کی طرح ہوں حافی 9 اوقات لگاتار نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ

Tehzeeb Hafi

35 likes

رات کو دیپ کی لو کم نہیں رکھی جاتی دھند ہے وہ ہے وہ روشنی مدھیم نہیں رکھی جاتی کیسے دریا کی حفاظت تری ذمہ ٹھہراؤ تجھ سے اک آنکھ ا گر نمہ نہیں رکھی جاتی ا سے لیے چھوڑ کر جانے لگے سب چارا گر زخم سے عزت مرہم نہیں رکھی جاتی ایسے کیسے ہے وہ ہے وہ تجھے چاہنے لگ جاؤں بھلا گھر کی بنیاد تو یکدم نہیں رکھی جاتی

Tehzeeb Hafi

25 likes

موسموں کے تغیر کو بھاپا نہیں چھتریاں کھول دیں زخم بھرنے سے پہلے کسی نے مری پٹیاں کھول دیں ہم مچھیرے سے پوچھو سمندر نہیں ہے یہ افریت ہے جاناں نے کیا سوچ کر ساحلوں سے بندھی کشتیاں کھول دیں ا سے نے وعدوں کے پربت سے لٹکے ہوؤں کو سہارا دیا ا سے کی آواز پر کوہ پیماؤں نے رسیاں کھول دیں دشت غربت ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور میرا یار شب زاد باہم ملے یار کے پا سے جو کچھ بھی تھا یار نے گٹھریاں کھول دیں کچھ بر سے تو تری یاد کی ریل دل سے گزرتی رہی اور پھروں ہے وہ ہے وہ نے تھک ہار کے ایک دن پٹریاں کھول دیں ا سے نے صحراؤں کی سیر کرتے ہوئے اک شجر کے تلے اپنی آنکھوں سے عینک اتاری کہ دو ہرنیاں کھول دیں آج ہم کر چکے عہد ترک سخن پر رقم دفعۃً آج ہم نے نئے شاعروں کے لیے بھرتیاں کھول دیں

Tehzeeb Hafi

37 likes

اک ترا ہجر دائمی ہے مجھے ور لگ ہر چیز عارضی ہے مجھے ایک سایہ مری تعاقب ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک آواز ڈھونڈتی ہے مجھے مری آنکھوں پہ دو مقد سے ہاتھ یہ اندھیرا بھی روشنی ہے مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سخن ہے وہ ہے وہ ہوں ا سے جگہ کہ ج ہاں سان سے لینا بھی شاعری ہے مجھے ان پرندوں سے بولنا سیکھا پیڑ سے خموشی ملی ہے مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اسے کب کا بھول بھال چکا زندگی ہے کہ رو رہی ہے مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ کاغذ کی ایک کشتی ہوں پہلی بارش ہی آخری ہے مجھے

Tehzeeb Hafi

25 likes

تیری طرف میرا خیال کیا گیا تو کے پھروں ہے وہ ہے وہ تجھ کو سوچتا چلا گیا تو یہ شہر بن رہا تھا مری سامنے یہ گیت مری سامنے لکھا گیا تو یہ وصل ساری عمر پر محیط ہے یہ ہجر ایک رات ہے وہ ہے وہ سما گیا تو مجھے کسی کی آ سے تھی لگ پیا سے تھی یہ پھول مجھ کو بھول کر دیا گیا تو بچھڑ کے سان سے کھینچنا محال تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندگی سے ہاتھ کھینچتا گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک روز دست کیا گیا تو کے پھروں حقیقت باغ مری ہاتھ سے چلا گیا تو

Tehzeeb Hafi

56 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Tehzeeb Hafi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Tehzeeb Hafi's ghazal.