اول اول کی دوستی ہے ابھی اک غزل ہے کہ ہوں رہی ہے ابھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی شہر وفا ہے وہ ہے وہ نو وارد حقیقت بھی رک رک کے چل رہی ہے ابھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی ایسا ک ہاں کا زود شنا سے حقیقت بھی لگتا ہے سوچتی ہے ابھی دل کی وارفتگی ہے اپنی جگہ پھروں بھی کچھ احتیاط سی ہے ابھی گرچہ پہلا سا اجتناب نہیں پھروں بھی کم کم سپردگی ہے ابھی کیسا موسم ہے کچھ نہیں کھلتا بوندابان گرا بھی دھوپ بھی ہے ابھی خود کلامی ہے وہ ہے وہ کب یہ نشہ تھا ج سے طرح رو برو کوئی ہے ابھی رنگیں لاکھ خوبصورت ہوں دوریوں ہے وہ ہے وہ بھی دلکشی ہے ابھی فصل گل ہے وہ ہے وہ بہار پہلا گلاب ک سے کی زلفوں ہے وہ ہے وہ ٹانکتی ہے ابھی مدتیں ہوں گئیں فراز م گر حقیقت جو دیوانگی کہ تھی ہے ابھی
Related Ghazal
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی سوچا ہوا ہے ہے وہ ہے وہ حقیقت سمے آنے پہ کر جاؤں گا جاناں مجھے زہر لگتے ہوں اور ہے وہ ہے وہ کسی دن تمہیں پی کے مر جاؤں گا تو تو بینائی ہے مری تری علاوہ مجھے کچھ بھی دکھتا نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تجھ کو ا گر تری گھر پہ اتارا تو ہے وہ ہے وہ کیسے گھر جاؤں گا چاہتا ہوں تمہیں اور بے حد چاہتا ہوں تمہیں خود بھی معلوم ہے ہاں ا گر مجھ سے پوچھا کسی نے تو ہے وہ ہے وہ سیدھا منا پر مکر جاؤں گا تری دل سے تری شہر سے تری گھر سے تیری آنکھ سے تری در سے تیری گلیوں سے تری وطن سے نکالا ہوا ہوں کدھر جاؤں گا
Tehzeeb Hafi
241 likes
بغیر اس کا کو بتائے نبھانا پڑتا ہے یہ عشق راز ہے اس کا کو چھپانا پڑتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے ذہن کی ضد سے بے حد پریشاں ہوں تری خیال کی چوکھٹ پہ آنا پڑتا ہے تری بغیر ہی اچھے تھے کیا مصیبت ہے یہ کیسا پیار ہے ہر دن جتانا پڑتا ہے
Mehshar Afridi
73 likes
آئینے آنکھ ہے وہ ہے وہ چبھتے تھے بستر سے بدن کترا تا تھا ایک یاد بسر کرتی تھی مجھے ہے وہ ہے وہ سان سے نہیں لے پاتا تھا ایک شخص کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ تھا سب کچھ میرا کھلنا بھی مرجھانا بھی روتا تھا تو رات اجڑ جاتی ہنستا تھا تو دن بن جاتا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ رب سے رابطے ہے وہ ہے وہ رہتا ممکن ہے کی ا سے سے رابطہ ہوں مجھے ہاتھ اٹھانا پڑتے تھے تب جا کر حقیقت فون اٹھاتا تھا مجھے آج بھی یاد ہے بچپن ہے وہ ہے وہ کبھی ا سے پر نظر ا گر پڑتی مری گدا سے پھول برستے تھے مری تختی پہ دل بن جاتا تھا ہم ایک زندان ہے وہ ہے وہ زندہ تھے ہم ایک زنجیر ہے وہ ہے وہ بڑھے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھ کر ہم کبھی زار تھے تو رونا آتا تھا حقیقت جسم دلائیں نہیں ہوں پاتا تھا ان آنکھوں سے مجرم ٹھہراتا تھا اپنا کہنے کو تو گھر ٹھہراتا تھا
Tehzeeb Hafi
129 likes
More from Ahmad Faraz
وحشتیں بڑھتی گئیں ہجر کے آزار کے ساتھ اب تو ہم بات بھی کرتے نہیں غم خوار کے ساتھ ہم نے اک عمر بسر کی ہے غم یار کے ساتھ میر دو دن لگ جیے ہجر کے آزار کے ساتھ اب تو ہم گھر سے نکلتے ہیں تو رکھ دیتے ہیں طاق پر عزت سادات بھی دستار کے ساتھ ا سے دودمان خوف ہے اب شہر کی گلیوں ہے وہ ہے وہ کہ لوگ چاپ سنتے ہیں تو لگ جاتے ہیں دیوار کے ساتھ ایک تو خواب لیے پھرتے ہوں گلیوں گلیوں ا سے پہ تکرار بھی کرتے ہوں خریدار کے ساتھ شہر کا شہر ہی ناصح ہوں تو کیا جون ایلیا ور لگ ہم رند تو بھیڑ جاتے ہیں دو چار کے ساتھ ہم کو ا سے شہر ہے وہ ہے وہ تعمیر کا سودا ہے ج ہاں لوگ معمار کو چن دیتے ہیں دیوار کے ساتھ جو شرف ہم کو ملا کوچہ جاناں سے فراز سو مقتل بھی گئے ہیں اسی پندار کے ساتھ
Ahmad Faraz
3 likes
جو غیر تھے حقیقت اسی بات پر ہمارے ہوئے کہ ہم سے دوست بہت بے خبر ہمارے ہوئے کسے خبر حقیقت محبت تھی یا رقابت تھی بہت سے لوگ تجھے دیکھ کر ہمارے ہوئے اب اک ہجوم شکستہ دلان ہے ساتھ اپنے جنہیں کوئی نہ ملا ہم سفر ہمارے ہوئے کسی نے غم تو کسی نے مزاج غم بخشش سب اپنی اپنی جگہ چارہ گر ہمارے ہوئے بجھا کے طاق کی شمعیں نہ دیکھ تاروں کو اسی جنوں ہے وہ ہے وہ تو برباد گھر ہمارے ہوئے حقیقت اعتماد کہاں سے فراز لائیں گے کسی کو چھوڑ کے حقیقت اب اگر ہمارے ہوئے
Ahmad Faraz
9 likes
یوںہی مر مر کے جیئیں سمے گزارے جائیں زندگی ہم تری ہاتھوں سے لگ مارے جائیں اب ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر کوئی گوتام لگ محمد لگ مسیح آسمانوں سے نئے لوگ اتارے جائیں حقیقت جو موجود نہیں ا سے کی مدد چاہتے ہیں حقیقت جو سنتا ہی نہیں ا سے کو پکارے جائیں باپ لرزاں ہے کہ پہنچی نہیں بارات اب تک اور ہم جولیاں دلہن کو سنواردے جائیں ہم کہ نادان جواری ہیں سبھی جانتے ہیں دل کی بازی ہوں تو جی جان سے ہارے جائیں تج دیا جاناں نے در یار بھی اکتا کے فراز اب ک ہاں ڈھونڈنے غم خوار تمہارے جائیں
Ahmad Faraz
4 likes
کیوں طبیعت کہی ٹھہرتی نہیں دوستی تو ادا سے کرتی نہیں ہم ہمیشہ کے سیر چشم صحیح تجھ کو دیکھیں تو آنکھ بھرتی نہیں شب ہجراں بھی روز بد کی طرح کٹ تو جاتی ہے پر گزرتی نہیں یہ محبت ہے سن زمانے سن اتنی آسانیاں سے مرتی نہیں ج سے طرح جاناں گزارتے ہوں فراز زندگی ا سے طرح گزرتی نہیں
Ahmad Faraz
6 likes
اب شوق سے کہ جاں سے گزر جانا چاہیے بول اے ہوا شہر کدھر جانا چاہیے کب تک اسی کو آخری منزل کہی گے ہم کوئے مراد سے بھی ادھر جانا چاہیے حقیقت سمے آ گیا تو ہے کہ ساحل کو چھوڑ کر گہرے سمندروں ہے وہ ہے وہ اتر جانا چاہیے اب رفتگاں کی بات نہیں کارواں کی ہے ج سے سمت بھی ہوں گرد سفر جانا چاہیے کچھ تو ثبوت خون تمنا کہی ملے ہے دل تہی تو آنکھ کو بھر جانا چاہیے یا اپنی خواہشوں کو مقد سے لگ جانتے یا خواہشوں کے ساتھ ہی مر جانا چاہیے
Ahmad Faraz
10 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ahmad Faraz.
Similar Moods
More moods that pair well with Ahmad Faraz's ghazal.







