ghazalKuch Alfaaz

جو غیر تھے حقیقت اسی بات پر ہمارے ہوئے کہ ہم سے دوست بہت بے خبر ہمارے ہوئے کسے خبر حقیقت محبت تھی یا رقابت تھی بہت سے لوگ تجھے دیکھ کر ہمارے ہوئے اب اک ہجوم شکستہ دلان ہے ساتھ اپنے جنہیں کوئی نہ ملا ہم سفر ہمارے ہوئے کسی نے غم تو کسی نے مزاج غم بخشش سب اپنی اپنی جگہ چارہ گر ہمارے ہوئے بجھا کے طاق کی شمعیں نہ دیکھ تاروں کو اسی جنوں ہے وہ ہے وہ تو برباد گھر ہمارے ہوئے حقیقت اعتماد کہاں سے فراز لائیں گے کسی کو چھوڑ کے حقیقت اب اگر ہمارے ہوئے

Related Ghazal

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

آنکھ کو آئی لگ سمجھتے ہوں جاناں بھی سب کی طرح سمجھتے ہوں دوست اب کیوں نہیں سمجھتے جاناں جاناں تو کہتے تھے نا سمجھتے ہوں اپنا غم جاناں کو کیسے سمجھاؤں سب سے ہارا ہوا سمجھتے ہوں مری دنیا اجڑ گئی ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں اسے حادثہ سمجھتے ہوں آخری راستہ تو باقی ہے آخری راستہ سمجھتے ہوں

Himanshi babra KATIB

76 likes

یہ سات آٹھ پڑوسی ک ہاں سے آئی مری تمہارے دل ہے وہ ہے وہ تو کوئی لگ تھا سوائے مری کسی نے پا سے بٹھایا ب سے آگے یاد نہیں مجھے تو دوست و ہاں سے اٹھا کے لائے مری یہ سوچ کر لگ کیے اپنے درد ا سے کے سپرد حقیقت لالچی ہے اساسے لگ بیچ کھائے مری ادھر کدھر تو نیا ہے ی ہاں کہ پاگل ہے کسی نے کیا تجھے قصے نہیں سنائے مری حقیقت آزمائے مری دوست کو ضرور م گر اسے کہو کہ طریقے لگ آزمائے مری

Umair Najmi

59 likes

ج سے طرح سمے گزرنے کے لیے ہوتا ہے آدمی شکل پہ مرنے کے لیے ہوتا ہے تیری آنکھوں سے ملاقات ہوئی تب یہ کھلا ڈوبنے والا ابھرنے کے لیے ہوتا ہے عشق کیوں پیچھے ہٹا بات نبھانے سے میاں حسن تو خیر مکرنے کے لیے ہوتا ہے آنکھ ہوتی ہے کسی راہ کو تکنے کے لیے دل کسی پاؤں پہ دھرنے کے لیے ہوتا ہے دل کی دہلی کا چناؤ ہی ا پیش ہے صاحب جب بھی ہوتا ہے یہ ہَرنے کے لیے ہوتا ہے کوئی بستی ہوں اجڑنے کے لیے بستی ہے کوئی مجمع ہوں گزرا کے لیے ہوتا ہے

Ali Zaryoun

61 likes

ایک اور بے وجہ چھوڑ کر چلا گیا تو تو کیا ہوا ہمارے ساتھ کون سا یہ پہلی مرتبہ ہوا ازل سے ان ہتھیلیوں ہے وہ ہے وہ ہجر کی لکیر تھی تمہارا دکھ تو چنو مری ہاتھ ہے وہ ہے وہ بڑا ہوا مری خلاف دشمنوں کی صف ہے وہ ہے وہ ہے حقیقت اور ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے حد برا لگوںگا ا سے پر تیر کھینچتا ہوا

Tehzeeb Hafi

77 likes

More from Ahmad Faraz

کیوں طبیعت کہی ٹھہرتی نہیں دوستی تو ادا سے کرتی نہیں ہم ہمیشہ کے سیر چشم صحیح تجھ کو دیکھیں تو آنکھ بھرتی نہیں شب ہجراں بھی روز بد کی طرح کٹ تو جاتی ہے پر گزرتی نہیں یہ محبت ہے سن زمانے سن اتنی آسانیاں سے مرتی نہیں ج سے طرح جاناں گزارتے ہوں فراز زندگی ا سے طرح گزرتی نہیں

Ahmad Faraz

6 likes

وحشتیں بڑھتی گئیں ہجر کے آزار کے ساتھ اب تو ہم بات بھی کرتے نہیں غم خوار کے ساتھ ہم نے اک عمر بسر کی ہے غم یار کے ساتھ میر دو دن لگ جیے ہجر کے آزار کے ساتھ اب تو ہم گھر سے نکلتے ہیں تو رکھ دیتے ہیں طاق پر عزت سادات بھی دستار کے ساتھ ا سے دودمان خوف ہے اب شہر کی گلیوں ہے وہ ہے وہ کہ لوگ چاپ سنتے ہیں تو لگ جاتے ہیں دیوار کے ساتھ ایک تو خواب لیے پھرتے ہوں گلیوں گلیوں ا سے پہ تکرار بھی کرتے ہوں خریدار کے ساتھ شہر کا شہر ہی ناصح ہوں تو کیا جون ایلیا ور لگ ہم رند تو بھیڑ جاتے ہیں دو چار کے ساتھ ہم کو ا سے شہر ہے وہ ہے وہ تعمیر کا سودا ہے ج ہاں لوگ معمار کو چن دیتے ہیں دیوار کے ساتھ جو شرف ہم کو ملا کوچہ جاناں سے فراز سو مقتل بھی گئے ہیں اسی پندار کے ساتھ

Ahmad Faraz

3 likes

پھروں اسی رہ گزاری پر شاید ہم کبھی مل سکیں م گر شاید جن کے ہم منتظر رہے ان کو مل گئے اور ہم سفر شاید جان پہچان سے بھی کیا ہوگا پھروں بھی اے دوست غور کر شاید اجنبیت کی دھند چھٹ جائے چمک اٹھے تری نظر شاید زندگی بھر لہو رلائےگی یاد یاران بے خبر شاید جو بھی بچھڑے حقیقت کب ملے ہیں فراز پھروں بھی تو انتظار کر شاید

Ahmad Faraz

4 likes

یوںہی مر مر کے جیئیں سمے گزارے جائیں زندگی ہم تری ہاتھوں سے لگ مارے جائیں اب ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر کوئی گوتام لگ محمد لگ مسیح آسمانوں سے نئے لوگ اتارے جائیں حقیقت جو موجود نہیں ا سے کی مدد چاہتے ہیں حقیقت جو سنتا ہی نہیں ا سے کو پکارے جائیں باپ لرزاں ہے کہ پہنچی نہیں بارات اب تک اور ہم جولیاں دلہن کو سنواردے جائیں ہم کہ نادان جواری ہیں سبھی جانتے ہیں دل کی بازی ہوں تو جی جان سے ہارے جائیں تج دیا جاناں نے در یار بھی اکتا کے فراز اب ک ہاں ڈھونڈنے غم خوار تمہارے جائیں

Ahmad Faraz

4 likes

ج سے سے یہ طبیعت بڑی مشکل سے لگی تھی دیکھا تو حقیقت تصویر ہر اک دل سے لگی تھی تنہائی ہے وہ ہے وہ روتے ہیں کہ یوں دل کو سکون ہوں یہ چوٹ کسی صاحب محفل سے لگی تھی اے دل تری آشوب نے پھروں حشر جگایا بے درد ابھی آنکھ بھی مشکل سے لگی تھی خلقت کا غضب حال تھا ا سے کوئے ستم ہے وہ ہے وہ ہے وہ سائے کی طرح دامن قاتل سے لگی تھی اترا بھی تو کب درد کا چڑھتا ہوا دریا جب کشتی جاں موت کے ساحل سے لگی تھی

Ahmad Faraz

3 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ahmad Faraz.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ahmad Faraz's ghazal.