اذیت ہے کہ روز و شب گھٹن محسو سے ہوتی ہے بھلے ہوں پا سے مری سب گھٹن محسو سے ہوتی ہے گھٹن مری دیوانی ہے گھٹن کا ہے وہ ہے وہ دیوا لگ ہوں زمانے کو بنا زار گھٹن محسو سے ہوتی ہے مجھے تجھ پر نہیں خود پر بے حد افسو سے ہوتا ہے تری ہوتے ہوئے بھی جب گھٹن محسو سے ہوتی ہے وہی ج سے باغ ہے وہ ہے وہ سب لوگ تازہ سان سے لیتے ہیں مجھے ا سے باغ ہے وہ ہے وہ بھی اب گھٹن محسو سے ہوتی ہے
Related Ghazal
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
درد سینے ہے وہ ہے وہ چھپائے رکھا ہم نے ماحول بنائے رکھا موت آئی تھی کئی دن پہلے اس کا کا کو باتوں ہے وہ ہے وہ لگائے رکھا دشت ہے وہ ہے وہ آئی بلا ٹلنے تک شور چڑیوں نے مچائے رکھا ورنا تاروں کو شکایت ہوتی ہم نے ہر زخم چھپائے رکھا کام دشوار تھا پھروں بھی دانش خود کو آسان بنائے رکھا
Madan Mohan Danish
31 likes
ابھی اک شور سا اٹھا ہے کہی کوئی خاموش ہوں گیا تو ہے کہی ہے کچھ ایسا کہ چنو یہ سب کچھ ا سے سے پہلے بھی ہوں چکا ہے کہی تجھ کو کیا ہوں گیا تو کہ چیزوں کو کہی رکھتا ہے ڈھونڈتا ہے کہی جو ی ہاں سے کہی لگ جاتا تھا حقیقت ی ہاں سے چلا گیا تو ہے کہی آج شمشان کی سی وعدے ہے ی ہاں کیا کوئی جسم جل رہا ہے کہی ہم کسی کے نہیں ج ہاں کے سوا ایسی حقیقت خاص بات کیا ہے کہی تو مجھے ڈھونڈ ہے وہ ہے وہ تجھے ڈھونڈوں کوئی ہم ہے وہ ہے وہ سے رہ گیا تو ہے کہی کتنی وحشت ہے درمیان ہجوم ج سے کو دیکھو گیا تو ہوا ہے کہی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو اب شہر ہے وہ ہے وہ کہی بھی نہیں کیا میرا نام بھی لکھا ہے کہی اسی کمرے سے کوئی ہوں کے وداع اسی کمرے ہے وہ ہے وہ چھپ گیا تو ہے کہی مل کے ہر بے وجہ سے ہوا محسو سے مجھ سے یہ بے وجہ مل چکا ہے کہی
Jaun Elia
40 likes
रब्त है मुझ से तिरा तो रब्त का उनवान बोल या मुझे अंजान कह दे या फिर अपनी जान बोल एक ही चेहरा नज़र में और लबों पे इक ही नाम और क्या होती है सच्चे इश्क़ की पहचान बोल ? मैं अँगूठी बेच कर ले आया तेरी बालियाँ सूने-सूने देखता कब तक मैं तेरे कान बोल ये मुलायम हाथ मेरे काम कब आएँगे जाँ? कब बिछेगा इन से मेरे घर में दस्तर-ख़्वान बोल ? कब मिलेगी सुब्ह तुझ से चाय की प्याली मुझे? कब तेरे हाथों का खाऊँगा कोई पकवान बोल ? कब तिरे वालिद मिरे वालिद से मिलने आएँगे? कब तिरी अम्मी को बोलूँगा मैं अम्मी जान बोल? पूछते है सब तिरा मैं कौन हूँ क्या नाम है बोलने का वक़्त है अब, बोल मेरी जान बोल
Varun Anand
22 likes
ا سے کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ اتر جانے کو جی چاہتا ہے شام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے کسی کم ظرف کو با ظرف ا گر کہنا پڑے ایسے جینے سے تو مر جانے کو جی چاہتا ہے ایک اک بات ہے وہ ہے وہ سچائی ہے ا سے کی لیکن اپنے وعدوں سے مکر جانے کو جی چاہتا ہے قرض ٹوٹے ہوئے خوابوں کا ادا ہوں جائے ذات ہے وہ ہے وہ اپنی بکھر جانے کو جی چاہتا ہے اپنی پلکوں پہ سجائے ہوئے یادوں کے دیے ا سے کی نیندوں سے گزر جانے کو جی چاہتا ہے ایک اجڑے ہوئے ویران کھنڈر ہے وہ ہے وہ آذر نا مناسب ہے م گر جانے کو جی چاہتا ہے
Kafeel Aazar Amrohvi
12 likes
More from Ahmad Abdullah
यूँँ तो हर सम्त है इमदाद के बाज़ार खुले तेरे आगे ही मगर दस्त-ए-गुनहगार खुले आपने जुर्म किया आप का सर काटेंगे आपने इश्क़ किया आप की दस्तार खुले मेरे तोहफ़ों ने मोहब्बत का भरम तोड़ दिया चूड़ियाँ तंग निकल आई हैं और हार खुले
Ahmad Abdullah
26 likes
ا سے شہر تمنا ہے وہ ہے وہ کوئی مجھ سا جلوے ہے آندھی ہے وہ ہے وہ چراغوں پہ جسے پورا یقین ہے ا سے سے ہی مخاطب ہوں جو افلاک خود کشی ہے ا سے دنیا ہے وہ ہے وہ سکھ نامی کوئی اجازت بھی کہی ہے تعبیر بھلے چھین لے آنکھوں کی بصارت اک خواب حقیقت ہے وہ ہے وہ حقیقت سے حسین ہے بارش کی دعا تو ہے تو پھروں کو سے قضا ہے وہ ہے وہ ہے وہ گر تجھ سا نہیں کوئی تو مجھ سا بھی نہیں ہے ج سے جا پہ دھرا رہتا تھا درویش کا کاسا دعوی سے یہ کہتا ہوں خزا لگ بھی وہیں ہے
Ahmad Abdullah
12 likes
زندگی بےشمار رستے ہیں خود کو مجھ سے گزار رستے ہیں ایک رستہ ہے صرف مسجد کو مختلف کو ہزار رستے ہیں قافلہ مر رہا ہے سننے کو بول دے شہسوار رستے ہیں عشق نے ہی کہا تھا موسی کو ہوں جا دریا کے پار رستے ہیں ا سے علاقے ہے وہ ہے وہ ایک شاعر ہے ا سے لیے سوگوار رستے ہیں
Ahmad Abdullah
23 likes
کر رہے ہیں سب ادب سب ٹھیک ہے اور حقیقت بھی بے سبب سب ٹھیک ہے پوچھنا تھا واقعی سب ٹھیک تھا کہ رہے تھے آپ جب سب ٹھیک ہے سوچو دریا حال پوچھے ایک دن اور کہ دیں تش لگ لب سب ٹھیک ہے اوڑھ لی ہے چہرے پہ جھوٹی ہنسی اب بنا تصویر اب سب ٹھیک ہے
Ahmad Abdullah
25 likes
مفرور پرندوں کو یہ اعلان گیا تو ہے صیاد نشمن کا پتا جان گیا تو ہے زبان جسے دیمک لگی جاتی تھی حقیقت ہے وہ ہے وہ تھا اب جا کے میرا مری طرف دھیان گیا تو ہے شیشے ہے وہ ہے وہ بھلے ا سے نے مری نقل اتاری خوش ہوں کہ مجھے کوئی تو پہچان گیا تو ہے اب بات تیری کن پہ ہے کچھ کر مری مولا اک بے وجہ تری در سے پریشان گیا تو ہے یہ نام و نسب جا کے زمانے کو بتاؤ درویش تو دستک سے ہی پہچان گیا تو ہے
Ahmad Abdullah
50 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ahmad Abdullah.
Similar Moods
More moods that pair well with Ahmad Abdullah's ghazal.







