ا سے شہر تمنا ہے وہ ہے وہ کوئی مجھ سا جلوے ہے آندھی ہے وہ ہے وہ چراغوں پہ جسے پورا یقین ہے ا سے سے ہی مخاطب ہوں جو افلاک خود کشی ہے ا سے دنیا ہے وہ ہے وہ سکھ نامی کوئی اجازت بھی کہی ہے تعبیر بھلے چھین لے آنکھوں کی بصارت اک خواب حقیقت ہے وہ ہے وہ حقیقت سے حسین ہے بارش کی دعا تو ہے تو پھروں کو سے قضا ہے وہ ہے وہ ہے وہ گر تجھ سا نہیں کوئی تو مجھ سا بھی نہیں ہے ج سے جا پہ دھرا رہتا تھا درویش کا کاسا دعوی سے یہ کہتا ہوں خزا لگ بھی وہیں ہے
Related Ghazal
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
More from Ahmad Abdullah
यूँँ तो हर सम्त है इमदाद के बाज़ार खुले तेरे आगे ही मगर दस्त-ए-गुनहगार खुले आपने जुर्म किया आप का सर काटेंगे आपने इश्क़ किया आप की दस्तार खुले मेरे तोहफ़ों ने मोहब्बत का भरम तोड़ दिया चूड़ियाँ तंग निकल आई हैं और हार खुले
Ahmad Abdullah
26 likes
زندگی بےشمار رستے ہیں خود کو مجھ سے گزار رستے ہیں ایک رستہ ہے صرف مسجد کو مختلف کو ہزار رستے ہیں قافلہ مر رہا ہے سننے کو بول دے شہسوار رستے ہیں عشق نے ہی کہا تھا موسی کو ہوں جا دریا کے پار رستے ہیں ا سے علاقے ہے وہ ہے وہ ایک شاعر ہے ا سے لیے سوگوار رستے ہیں
Ahmad Abdullah
23 likes
کر رہے ہیں سب ادب سب ٹھیک ہے اور حقیقت بھی بے سبب سب ٹھیک ہے پوچھنا تھا واقعی سب ٹھیک تھا کہ رہے تھے آپ جب سب ٹھیک ہے سوچو دریا حال پوچھے ایک دن اور کہ دیں تش لگ لب سب ٹھیک ہے اوڑھ لی ہے چہرے پہ جھوٹی ہنسی اب بنا تصویر اب سب ٹھیک ہے
Ahmad Abdullah
25 likes
اذیت ہے کہ روز و شب گھٹن محسو سے ہوتی ہے بھلے ہوں پا سے مری سب گھٹن محسو سے ہوتی ہے گھٹن مری دیوانی ہے گھٹن کا ہے وہ ہے وہ دیوا لگ ہوں زمانے کو بنا زار گھٹن محسو سے ہوتی ہے مجھے تجھ پر نہیں خود پر بے حد افسو سے ہوتا ہے تری ہوتے ہوئے بھی جب گھٹن محسو سے ہوتی ہے وہی ج سے باغ ہے وہ ہے وہ سب لوگ تازہ سان سے لیتے ہیں مجھے ا سے باغ ہے وہ ہے وہ بھی اب گھٹن محسو سے ہوتی ہے
Ahmad Abdullah
26 likes
مفرور پرندوں کو یہ اعلان گیا تو ہے صیاد نشمن کا پتا جان گیا تو ہے زبان جسے دیمک لگی جاتی تھی حقیقت ہے وہ ہے وہ تھا اب جا کے میرا مری طرف دھیان گیا تو ہے شیشے ہے وہ ہے وہ بھلے ا سے نے مری نقل اتاری خوش ہوں کہ مجھے کوئی تو پہچان گیا تو ہے اب بات تیری کن پہ ہے کچھ کر مری مولا اک بے وجہ تری در سے پریشان گیا تو ہے یہ نام و نسب جا کے زمانے کو بتاؤ درویش تو دستک سے ہی پہچان گیا تو ہے
Ahmad Abdullah
50 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ahmad Abdullah.
Similar Moods
More moods that pair well with Ahmad Abdullah's ghazal.







