بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا ہے وہ ہے وہ ہے وہ سمندر دیکھتی ہوں جاناں کنارہ دیکھنا یوں اندھیرا بھی بے حد آساں لگ تھا ا سے سے م گر جاتے جاتے ا سے کا حقیقت مڑ کر دوبارہ دیکھنا ک سے شباہت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند اے شب ہجراں ذرا اپنا ستارہ دیکھنا کیا خوشگوار ہے کہ جن کے نام پر پسپا ہوئے ان ہی لوگوں کو مقابل ہے وہ ہے وہ صف آرا دیکھنا جب بنام دل گواہی سر کی مانگی جائے گی خون ہے وہ ہے وہ ڈوبا ہوا پرچم ہمارا دیکھنا جیتنے ہے وہ ہے وہ بھی ج ہاں جی کا زیاں پہلے سے ہے ایسی بازی ہارنے ہے وہ ہے وہ کیا خسارہ دیکھنا آئینے کی آنکھ ہی کچھ کم لگ تھی مری لیے جانے اب کیا کیا دکھائےگا تمہارا دیکھنا ایک مشت خاک اور حقیقت بھی ہوا کی زد ہے وہ ہے وہ ہے زندگی کی قیامت کا استعارہ دیکھنا
Related Ghazal
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
More from Parveen Shakir
اب اتنی سادگی لائیں ک ہاں سے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کی خیر مانگے آ سماں سے ا گر چاہیں تو حقیقت دیوار کر دیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب کچھ نہیں کہنا زبان سے ستارہ ہی نہیں جب ساتھ دیتا تو کشتی کام لے کیا بادباں سے بھٹکنے سے ملے فرصت تو پوچھیں پتا منزل کا برق سے برق برق کی حاصل رہی ہے سو ہے آزاد رازداں سے ہوا کو راز داں ہم نے بنایا اور اب ناراض خوشبو کے بیاں سے ضروری ہوں گئی ہے دل کی ظفر جلوے فنا فی ال عشق جاتے ہیں مکان سے خیرو ہونا چاہتے تھے م گر فرصت لگ تھی کار ج ہاں سے وگر لگ فصل گل کی دودمان کیا تھی بڑی حکمت ہے وابستہ اڑائے سے کسی نے بات کی تھی ہن سے کے شاید زمانے بھر سے ہیں ہم خود گماں سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک اک تیر پہ خود ڈھال بنتی ا گر ہوتا حقیقت دشمن کی کماں سے جو سبزہ دیکھ کر خیمے لگائیں ا نہیں تکلیف کیوں پہنچے اڑائے سے جو اپنے پیڑ جلتے چھوڑ جائیں ا نہیں کیا حق کہ روٹھیں باغباں سے
Parveen Shakir
0 likes
دھنک دھنک مری پورو کے خواب کر دےگا حقیقت لم سے مری بدن کو گلاب کر دےگا قباء جسم کے ہر تار سے گزرتا ہوا کرن کا پیار مجھے آفتاب کر دےگا جنوں پسند ہے دل اور تجھ تک آنے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بدن کو ناو لہو کو سرحدوں کر دےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ کہوںگی م گر پھروں بھی ہار جاؤںگی حقیقت جھوٹ بولےگا اور لا جواب کر دےگا انا پرست ہے اتنا کہ بات سے پہلے حقیقت اٹھ کے بند مری ہر کتاب کر دےگا سکوت شہر سخن ہے وہ ہے وہ حقیقت پھول سا لہجہ سماعتوں کی فضا خواب خواب کر دےگا اسی طرح سے ا گر چاہتا رہا پےہم سخن وری ہے وہ ہے وہ مجھے انتخاب کر دےگا مری طرح سے کوئی ہے جو زندگی اپنی تمہاری یاد کے نام انتساب کر دےگا
Parveen Shakir
1 likes
اگرچہ تجھ سے بے حد اختلاف بھی لگ ہوا م گر یہ دل تری جانب سے صاف بھی لگ ہوا تعلقات کے وارث ہے وہ ہے وہ ہی رکھا مجھ کو حقیقت مری حق ہے وہ ہے وہ لگ تھا اور خلاف بھی لگ ہوا غضب تھا جرم محبت کہ ج سے پہ دل نے مری سزا بھی پائی نہیں اور معاف بھی لگ ہوا صورت انسان ہے وہ ہے وہ ک ہاں سان سے لے سکوگے حقیقت لوگ کہ جن سے کو کہوں کا بے پیرہن بھی لگ ہوا غضب نہیں ہے کہ دل پر جمی ملی کائی بے حد دنوں سے تو یہ حوض صاف بھی لگ ہوا ہوا دہر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے لیے بجھاتی ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو تجھ سے کبھی اختلاف بھی لگ ہوا
Parveen Shakir
4 likes
گواہی کیسے ٹوٹتی معاملہ خدا کا تھا میرا اور ا سے کا رابطہ تو ہاتھ اور دعا کا تھا گلاب قیمت شگفت شام تک چکا سکے ادا حقیقت دھوپ کو ہوا جو قرض بھی صبا کا تھا بکھر گیا تو ہے پھول تو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے پوچھ گچھ ہوئی حساب باغباں سے ہے کیا دھرا ہوا کا تھا لہو چشیدہ ہاتھ ا سے نے چوم کر دکھا دیا جزا و ہاں ملی ج ہاں کہ مرحلہ سزا کا تھا جو بارشوں سے قبل اپنا رزق گھر ہے وہ ہے وہ بھر چکا حقیقت شہر مور سے لگ تھا بچیں دوربین بلا کا تھا
Parveen Shakir
2 likes
بچھڑا ہے جو اک بار تو ملتے نہیں دیکھا ا سے زخم کو ہم نے کبھی سلتے نہیں دیکھا اک بار جسے چاٹ گئی دھوپ کی خواہش پھروں شاخ پہ ا سے پھول کو کھلتے نہیں دیکھا یک لخت گرا ہے تو جڑیں تک نکل آئیں ج سے پیڑ کو آندھی ہے وہ ہے وہ بھی ہلتے نہیں دیکھا کانٹوں ہے وہ ہے وہ گھیرے پھول کو چوم آوےگی عشق دل لیکن تتلی کے پروں کو کبھی چھیلتے نہیں دیکھا ک سے طرح مری روح خا لگ وحدت پسند کر گیا تو آخر حقیقت زہر جسے جسم ہے وہ ہے وہ کھلتے نہیں دیکھا
Parveen Shakir
4 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Parveen Shakir.
Similar Moods
More moods that pair well with Parveen Shakir's ghazal.







