ghazalKuch Alfaaz

بستی بھی سمندر بھی شایاں بھی میرا ہے آنکھیں بھی مری خواب پریشاں بھی میرا ہے جو ڈوبتی جاتی ہے حقیقت کشتی بھی ہے مری جو ٹوٹتا جاتا ہے حقیقت پیمان بھی میرا ہے جو ہاتھ اٹھے تھے حقیقت سبھی ہاتھ تھے مری جو چاک ہوا ہے حقیقت گریبان بھی میرا ہے ج سے کی کوئی آواز لگ پہچان لگ منزل حقیقت قافلہ بے سر و ساماں بھی میرا ہے ویرا لگ مقتل پہ حجاب آیا تو ا سے بار خود چیخ پڑا ہے وہ ہے وہ کہ یہ عنوان بھی میرا ہے وارفتگی صبح بشارت کو خبر کیا اندیشہ صد شام غریباں بھی میرا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ وارث گل ہوں کہ نہیں ہوں م گر اے جان خمیازہ توہین بہاراں بھی میرا ہے مٹی کی گواہی سے بڑی دل کی گواہی یوں ہوں تو یہ زنجیر یہ زندان بھی میرا ہے

Related Ghazal

ہے وہ ہے وہ راہ جنت کا اصل نقشہ چرا رہا تھا سو انگلیوں کو تری لبوں پر پھرا رہا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے لیے بھی سر اپنا ہاں ہے وہ ہے وہ ہلا رہا تھا مجھے پتا ہے تو صرف باتیں بنا رہا تھا بچھڑ کے ہم سے ہماری غلطی گنا رہا تھا ہمارا غم تھا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کو آنکھیں دکھا رہا تھا حقیقت خود کو دنیا کا ایک حصہ بنا چکی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے حصے کا پیار ج سے پر لٹا رہا تھا تمہیں نے جانے کو کہ دیا ہے تمہیں کہوگے اسے بلاؤ حقیقت شعر اچھے سنا رہا تھا

Vikram Gaur Vairagi

29 likes

دلچسپ دلچسپ ب سے اب یہی ہوں کیا جاناں سے مل کر بے حد خوشی ہوں کیا مل رہی ہوں بڑے تپاک کے ساتھ مجھ کو یکسر بھلا چکی ہوں کیا یاد ہیں اب بھی اپنے خواب تمہیں مجھ سے مل کر ادا سے بھی ہوں کیا ب سے مجھے یوںہی اک خیال آیا سوچتی ہوں تو سوچتی ہوں کیا اب مری کوئی زندگی ہی نہیں اب بھی جاناں مری زندگی ہوں کیا کیا کہا عشق جاویدانی ہے آخری بار مل رہی ہوں کیا ہاں فضا یاں کی سوئی سوئی سی ہے تو بے حد تیز روشنی ہوں کیا مری سب طنز نبھے گی ہی رہے جاناں بے حد دور جا چکی ہوں کیا دل ہے وہ ہے وہ اب سوز انتظار نہیں شمع امید بجھ گئی ہوں کیا ا سے سمندر پہ تش لگ کام ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بان جاناں اب بھی بہ رہی ہوں کیا

Jaun Elia

39 likes

پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا

Fahmi Badayuni

96 likes

اپنی آنکھوں ہے وہ ہے وہ بھر کر لے جانے ہیں مجھ کو ا سے کے آنسو کام ہے وہ ہے وہ لانے ہے دیکھو ہم کوئی وحشی نہیں دیوانے ہیں جاناں سے بٹن کھلواتے نہیں لگواتے ہیں ہم جاناں اک دوجے کی سیڑھی ہے جاناں باقی دنیا تو سانپوں کے خانے ہیں پاکیزہ چیزوں کو پاکیزہ لکھو مت لکھو ا سے کی آنکھیں مے خانے ہیں

Varun Anand

63 likes

ہے وہ ہے وہ نے تو ب سے مزاق ہے وہ ہے وہ پوچھا خراب ہے حقیقت پیر ہاتھ دیکھ کے بولا خراب ہے ہر دن اسے دکھایا کہ کتنے غنیم ہیں ہر رات ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ سوچا خراب ہے یہ عشق ہوں چکا ہے ترپ چال تاش کی آگے غلام کے میرا اکا خراب ہے آزاد لڑ کیوں سے بھلی قید عورتیں زار کہ جھیل ٹھیک ہے دریا خراب ہے ہم ج سے خدا کی آ سے ہے وہ ہے وہ بیٹھے ہیں رات دن حقیقت جا چکا ہے بول کے دنیا خراب ہے زیادہ کسی کی موت پہ رونا نہیں صحیح اور جنم دن پہ شور شرابا خراب ہے آدھا بھی ا سے کے جتنا ہے وہ ہے وہ روشن نہیں ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے دیے کو بول رہا تھا خراب ہے

Kushal Dauneria

35 likes

More from Iftikhar Arif

کوئی تو پھول کھلائے دعا کے لہجے ہے وہ ہے وہ ہے وہ غضب طرح کی گھٹن ہے ہوا کے لہجے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ سمے ک سے کی رعونت پہ خاک ڈال گیا تو یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگ جانے آواز کون سے عذاب ہے وہ ہے وہ ہے ہوائیں چیخ پڑیں التجا کے لہجے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کھلا فریب محبت دکھائی دیتا ہے غضب غصہ ہے ا سے بےوفا کے لہجے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہی ہے مصلحت جبر احتیاط تو پھروں ہم اپنا حال کہی گے چھپا کے لہجے ہے وہ ہے وہ

Iftikhar Arif

1 likes

وفا کی خیر مناتا ہوں بے وفائی ہے وہ ہے وہ بھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی قید ہے وہ ہے وہ ہوں قید سے رہائی ہے وہ ہے وہ بھی لہو کی آگ ہے وہ ہے وہ جل بجھ گئے بدن تو کھلا رسائی ہے وہ ہے وہ بھی خسارہ ہے نا رسائی ہے وہ ہے وہ بھی بدلتے رہتے ہیں موسم گزرتا رہتا ہے سمے م گر یہ دل کہ وہیں کا وہیں جدائی ہے وہ ہے وہ بھی لحاظ حرمت پیمان لگ پا سے ہم خوابی غضب طرح کے تصادم تھے آشنائی ہے وہ ہے وہ بھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ د سے بر سے سے کسی خواب کے عذاب ہے وہ ہے وہ ہوں وہی عذاب در آیا ہے ا سے دہائی ہے وہ ہے وہ بھی تصادم دل و دنیا ہے وہ ہے وہ دل کی ہار کے بعد حجاب آنے لگا ہے غزل سرائی ہے وہ ہے وہ بھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ جا رہا ہوں اب ا سے کی طرف اسی کی طرف جو مری ساتھ تھا مری شکستہ پائی ہے وہ ہے وہ بھی

Iftikhar Arif

0 likes

یہ بستی جانی پہچانی بے حد ہے ی ہاں وعدوں کی ارزانی بے حد ہے شگفتہ لفظ لکھے جا رہے ہیں م گر لہجوں ہے وہ ہے وہ ویرانی بے حد ہے سبک ظرفوں کے آب ہے وہ ہے وہ نہیں لفظ م گر شوق گل افشانی بے حد ہے ہے بازاروں ہے وہ ہے وہ پانی سر سے اونچا مری گھر ہے وہ ہے وہ بھی تغیانی بے حد ہے لگ جانے کب مری صحرا ہے وہ ہے وہ آئی حقیقت اک دریا کہ طوفانی بے حد ہے لگ جانے کب مری آنگن ہے وہ ہے وہ برسے حقیقت اک بادل کہ نقصانی بے حد ہے

Iftikhar Arif

0 likes

ک ہاں کے نام و نسب علم کیا فضیلت کیا جہان رزق ہے وہ ہے وہ توقیر اہل حاجت کیا شکم کی آگ لیے پھروں رہی ہے شہر ب شہر سگ زما لگ ہیں ہم کیا ہماری ہجرت کیا دمشق مصلحت و کوفہ نفاق کے بیچ فغاں قافلہ بے نوا کی قیمت کیا معال عزت سادات عشق دیکھ کے ہم بدل گئے تو بدلنے پہ اتنی حیرت کیا قمار خا لگ ہستی ہے وہ ہے وہ ایک بازی پر تمام عمر لگا دی تو پھروں شکایت کیا فروغ صنعت قد آوری کا موسم ہے بیعت ہوئے پہ بھی نکلا ہے قد و قامت کیا

Iftikhar Arif

0 likes

मेरे ख़ुदा मुझे इतना तो मो'तबर कर दे मैं जिस मकान में रहता हूँ उस को घर कर दे ये रौशनी के तआ'क़ुब में भागता हुआ दिन जो थक गया है तो अब इस को मुख़्तसर कर दे मैं ज़िंदगी की दुआ माँगने लगा हूँ बहुत जो हो सके तो दुआओं को बे-असर कर दे सितारा-ए-सहरी डूबने को आया है ज़रा कोई मिरे सूरज को बा-ख़बर कर दे क़बीला-वार कमानें कड़कने वाली हैं मेरे लहू की गवाही मुझे निडर कर दे मैं अपने ख़्वाब से कट कर जियूँ तो मेरा ख़ुदा उजाड़ दे मिरी मिट्टी को दर-ब-दर कर दे मेरी ज़मीन मेरा आख़िरी हवाला है सो मैं रहूँ न रहूँ इस को बारवर कर दे

Iftikhar Arif

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Iftikhar Arif.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Iftikhar Arif's ghazal.