ghazalKuch Alfaaz

بے چین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنا اک آگ سی جذبوں کی دہکائے ہوئے رہنا چھلکائے ہوئے چلنا خوشبو لب لعلیں کی اک باغ سا ساتھ اپنے مہکائے ہوئے رہنا اس حسن کا شیوہ ہے جب عشق نظر آئے پردے میں چلے جانا شرمائے ہوئے رہنا اک شام سی کر رکھنا کاجل کے کرشمے سے اک چاند سا آنکھوں میں چمکائے ہوئے رہنا عادت ہی بنا لی ہے تم نے تو منیرؔ اپنی جس شہر میں بھی رہنا اکتائے ہوئے رہنا

Related Ghazal

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

جو تری ساتھ رہتے ہوئے سوگوار ہوں خواب ہوں ایسے بے وجہ پہ اور بےشمار ہوں اب اتنی دیر بھی نا لگا یہ ہوں نا کہی تو آ چکا ہوں اور تیرا انتظار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھول ہوں تو پھروں تری بالو ہے وہ ہے وہ کیوں نہیں ہوں تو تیر ہے تو مری کلیجے کے پار ہوں ایک آستین چڑھانے کی عادت کو چھوڑ کر حافی جاناں آدمی تو بے حد شاندار ہوں

Tehzeeb Hafi

268 likes

अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें

Ahmad Faraz

130 likes

اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے

Waseem Barelvi

107 likes

More from Muneer Niyazi

بے خیالی ہے وہ ہے وہ یوں ہی ب سے اک ارادہ کر لیا اپنے دل کے شوق کو حد سے زیادہ کر لیا جانتے تھے دونوں ہم ا سے کو نبھا سکتے نہیں ا سے نے وعدہ کر لیا ہے وہ ہے وہ نے بھی وعدہ کر لیا غیر سے خوبصورت جو پا لی خرچ خود پر ہوں گئی جتنے ہم تھے ہم نے خود کو ا سے سے آدھا کر لیا شام کے رنگوں ہے وہ ہے وہ رکھ کر صاف پانی کا گلا سے آب سادہ کو حریف رنگ بادہ کر لیا ہجرتوں کا خوف تھا یا پر کشش کہ لگ مقام کیا تھا ج سے کو ہم نے خود دیوار جادہ کر لیا ایک ایسا بے وجہ بنتا جا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ منیر ج سے نے خود پر بند حسن و جام و بادہ کر لیا

Muneer Niyazi

6 likes

زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا دنیا سے خموشی سے گزر جائیں ہم تو کیا ہستی ہی اپنی کیا ہے زمانے کے سامنے اک خواب ہیں ج ہاں ہے وہ ہے وہ بکھر جائیں ہم تو کیا اب کون منتظر ہے ہمارے لیے و ہاں شام آ گئی ہے لوٹ کے گھر جائیں ہم تو کیا دل کی خلش تو ساتھ رہےگی تمام عمر دریا غم کے پار اتر جائیں ہم تو کیا

Muneer Niyazi

9 likes

ہنسی چھپا بھی گیا تو اور نظر ملا بھی گیا تو یہ اک جھلک کا تماشا ج گر جلا بھی گیا تو اٹھا تو جا بھی چکا تھا عجیب مہمان تھا صدائیں دے کے مجھے نیند سے جگا بھی گیا تو غضب ہوا جو اندھیرے ہے وہ ہے وہ جل اٹھی بجلی بدن کسی کا طلسمات کچھ دکھا بھی گیا تو لگ آیا کوئی لب بام شام ڈھلنے لگی وفور شوق سے آنکھوں ہے وہ ہے وہ خون آ بھی گیا تو ہوا تھی گہری گھٹا تھی حنا کی خوشبو تھی یہ ایک رات کا قصہ لہو رلا بھی گیا تو چلو منیر چلیں اب ی ہاں رہیں بھی تو کیا حقیقت سنگ دل تو ی ہاں سے کہی چلا بھی گیا تو

Muneer Niyazi

4 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Muneer Niyazi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Muneer Niyazi's ghazal.