ghazalKuch Alfaaz

بچھڑ کر مل رہے ہیں سب پرانی یار سالو بعد بدل کر بھی نہیں بدلے ہیں یہ مکار سالو بعد اکیلا ہے نہپٹ کوئی زمانے سے کٹا سا ہے تو کوئی ایک سے بڑھ کر ہوا دو چار سالو بعد کسی کو مل نہیں پایا کبھی اظہار کا موقع ابھی تک ہے ادھورا ہی کسی کا پیار سالو بعد کسی ہے وہ ہے وہ کچھ نہیں بدلا م گر ہاں یہ تو بدلا ہے مری سب یار اب لگتے ہیں ذمہ دار سالو بعد

Related Ghazal

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

پاگل کیسے ہوں جاتے ہیں دیکھو ایسے ہوں جاتے ہیں خوابوں کا دھندہ کرتی ہوں کتنے پیسے ہوں جاتے ہیں دنیا سا ہونا مشکل ہے تری چنو ہوں جاتے ہیں مری کام خدا کرتا ہے تری ویسے ہوں جاتے ہیں

Ali Zaryoun

158 likes

अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें

Ahmad Faraz

130 likes

کیا بادلوں ہے وہ ہے وہ سفر زندگی بھر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر بنایا لگ گھر زندگی بھر سبھی زندگی کے مزے لوٹتے ہیں لگ آیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ہنر زندگی بھر محبت رہی چار دن زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہا چار دن کا اثر زندگی بھر

Anwar Shaoor

95 likes

More from Divy Kamaldhwaj

دیکھ رہا ہے کس کا چہرہ آگے بڑھ مل جائےگا تجھ کو رستہ آگے بڑھ بیٹھے بیٹھے کیول اتنا ملتا ہے جتنا چھوڑے آگے والا آگے بڑھ ا سے رن ہے وہ ہے وہ جے اور پراجے مری ہے تو گانڈیؤ اٹھا کر حملہ آگے بڑھ معصوموں کی بھوک کی قیمت کیا ہوں گی دو گالی روپیہ اور تانا آگے بڑھ بھیگی آنکھیں ٹوٹا دل اور چلانا صدیوں کا یہ کھیل پرانا آگے بڑھ طوفاں بجلی اور بونڈر تو ہوں گے ہمت سے ب سے ناو چلانا آگے بڑھ

Divy Kamaldhwaj

10 likes

راز جو بھی تھا نظر ہے وہ ہے وہ آ گیا تو آپ کا چہرہ نظر ہے وہ ہے وہ آ گیا تو سمے آیا تھا برا سو دیکھ لو آپ کا لہجہ نظر ہے وہ ہے وہ آ گیا تو ڈوبنے والی تھی کشتی عشق کی اور اک تنکہ نظر ہے وہ ہے وہ آ گیا تو پاک تھا ہے وہ ہے وہ اور دامن تھا سفید خون کا دھبہ نظر ہے وہ ہے وہ آ گیا تو کام بھی سارا کیا اور چپ رہے بولنے والا نظر ہے وہ ہے وہ آ گیا تو کل پتا جی ہن سے رہے تھے اور تبھی پیر کا چھالا نظر ہے وہ ہے وہ آ گیا تو

Divy Kamaldhwaj

6 likes

داستان زندگی کے صرف کچھ کردار سچ جھوٹ ہے ذاتی مکان اور سب کرایہ دار سچ یہ زبان کھلتی نہیں ویسے تو سب کے سامنے پوچھتا ہے تو بتا دوں گا تجھے دو چار سچ جھوٹ کہنا چھوڑ دوں گا ب سے مجھے اتنا بتا کون اب تک کہ سکا ہر ایک کو ہر بار سچ جو خدا کو چاہتا ہے اس کا کو جنت سچ لگے اور کافر کو تو لگتا ہے یہی سنسر سچ

Divy Kamaldhwaj

7 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Divy Kamaldhwaj.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Divy Kamaldhwaj's ghazal.