داستان زندگی کے صرف کچھ کردار سچ جھوٹ ہے ذاتی مکان اور سب کرایہ دار سچ یہ زبان کھلتی نہیں ویسے تو سب کے سامنے پوچھتا ہے تو بتا دوں گا تجھے دو چار سچ جھوٹ کہنا چھوڑ دوں گا ب سے مجھے اتنا بتا کون اب تک کہ سکا ہر ایک کو ہر بار سچ جو خدا کو چاہتا ہے اس کا کو جنت سچ لگے اور کافر کو تو لگتا ہے یہی سنسر سچ
Related Ghazal
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی
Ali Zaryoun
102 likes
More from Divy Kamaldhwaj
دیکھ رہا ہے کس کا چہرہ آگے بڑھ مل جائےگا تجھ کو رستہ آگے بڑھ بیٹھے بیٹھے کیول اتنا ملتا ہے جتنا چھوڑے آگے والا آگے بڑھ ا سے رن ہے وہ ہے وہ جے اور پراجے مری ہے تو گانڈیؤ اٹھا کر حملہ آگے بڑھ معصوموں کی بھوک کی قیمت کیا ہوں گی دو گالی روپیہ اور تانا آگے بڑھ بھیگی آنکھیں ٹوٹا دل اور چلانا صدیوں کا یہ کھیل پرانا آگے بڑھ طوفاں بجلی اور بونڈر تو ہوں گے ہمت سے ب سے ناو چلانا آگے بڑھ
Divy Kamaldhwaj
10 likes
بچھڑ کر مل رہے ہیں سب پرانی یار سالو بعد بدل کر بھی نہیں بدلے ہیں یہ مکار سالو بعد اکیلا ہے نہپٹ کوئی زمانے سے کٹا سا ہے تو کوئی ایک سے بڑھ کر ہوا دو چار سالو بعد کسی کو مل نہیں پایا کبھی اظہار کا موقع ابھی تک ہے ادھورا ہی کسی کا پیار سالو بعد کسی ہے وہ ہے وہ کچھ نہیں بدلا م گر ہاں یہ تو بدلا ہے مری سب یار اب لگتے ہیں ذمہ دار سالو بعد
Divy Kamaldhwaj
4 likes
راز جو بھی تھا نظر ہے وہ ہے وہ آ گیا تو آپ کا چہرہ نظر ہے وہ ہے وہ آ گیا تو سمے آیا تھا برا سو دیکھ لو آپ کا لہجہ نظر ہے وہ ہے وہ آ گیا تو ڈوبنے والی تھی کشتی عشق کی اور اک تنکہ نظر ہے وہ ہے وہ آ گیا تو پاک تھا ہے وہ ہے وہ اور دامن تھا سفید خون کا دھبہ نظر ہے وہ ہے وہ آ گیا تو کام بھی سارا کیا اور چپ رہے بولنے والا نظر ہے وہ ہے وہ آ گیا تو کل پتا جی ہن سے رہے تھے اور تبھی پیر کا چھالا نظر ہے وہ ہے وہ آ گیا تو
Divy Kamaldhwaj
6 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Divy Kamaldhwaj.
Similar Moods
More moods that pair well with Divy Kamaldhwaj's ghazal.







