اسے ا سے سمے ا سے محفل ہے وہ ہے وہ ہونا چاہیے تھا خیر محبت ہے وہ ہے وہ انا کو دل سے کھونا چاہیے تھا خیر بچھڑتے سمے ا سے کی آنکھ ہے وہ ہے وہ کچھ بھی نہیں دیکھا اسے دو پل تو پلکوں کو بھیگو لگ چاہیے تھا خیر مجھے مصروف لمحوں نے کہی فرصت کی سچائی اسے ب سے ایک اچھا سا کھلونا چاہیے تھا خیر مری قصوں ہے وہ ہے وہ سن کر نام ا سے کا لوگ ہنستے تھے اسے ا سے بات پر تھوڑا تو رونا چاہیے تھا خیر مری دل کی تسلی کے لیے تصویر بھیجی ہے تمہیں ا سے سمے مری پا سے ہونا چاہیے تھا خیر
Related Ghazal
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے
Waseem Barelvi
107 likes
More from Sapna Moolchandani
کبھی ہم اپنے دل کو ا سے طرح بھی شاد کرتے ہیں کسی پنچھی کو تری نام سے آزاد کرتے ہیں اداسی ہے وہ ہے وہ خوشی کو ا سے طرح آباد کرتے ہیں ہنسا کر ایک بچے کو تجھے ہم یاد کرتے ہیں سمجھنے اور سننے والے ملتے ہی ک ہاں ہے اب ی ہاں موجود ہیں تو ہم بھی کچھ ارشاد کرتے ہیں میرا رب مجھ سے رازی ہے تو ب سے ا سے کا شبب یہ ہے عبادت پہلے سارے کام ا سے کے بعد کرتے ہیں کبھی تجھ سے ملیںگے تو کہی گے جھوٹ تجھ سے ہم لگ تیری فکر کرتے ہیں لگ تجھ کو یاد کرتے ہیں
Sapna Moolchandani
5 likes
کبھی دشمنوں سے لڑائی نہیں کی کبھی دوستوں کی برائی نہیں کی محبت ہے وہ ہے وہ اڑھائی ہوئے دل کی خاطر دعائیں کی ہم نے دوائی نہیں کی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا پتا کیسے جیتے ہیں حقیقت لوگ کبھی ہم نے تو بے وفائی نہیں کی مخالف ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتے ہی نہیں تھے سو حاسد رہے آشنائی نہیں کی حقیقت مفل سے تھا مفل سے ہے مفل سے رہے گا محبت کی ج سے نے کمائی نہیں کی
Sapna Moolchandani
9 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Sapna Moolchandani.
Similar Moods
More moods that pair well with Sapna Moolchandani's ghazal.







