ghazalKuch Alfaaz

bikhar jaenge ham kya jab tamasha khatm hoga mire maabud akhir kab tamasha khatm hoga charaghh-e-hujra-e-darvesh ki bujhti hui lau hava se kah gai hai ab tamasha khatm hoga kahani men nae kirdar shamil ho gae hain nahin maalum ab kis dhab tamasha khatm hoga kahani aap uljhi hai ki uljhai gai hai ye uqda tab khulega jab tamasha khatm hoga zamin jab adl se bhar jaegi nurun-ala-nur ba-nam-e-maslak-o-mazhab tamasha khatm hoga ye sab kath-putliyan raqsan rahengi raat ki raat sahar se pahle pahle sab tamasha khatm hoga tamasha karne valon ko khabar di ja chuki hai ki parda kab girega kab tamasha khatm hoga dil-e-na-mutmain aisa bhi kya mayus rahna jo khalq utthi to sab kartab tamasha khatm hoga bikhar jaenge hum kya jab tamasha khatm hoga mere mabud aakhir kab tamasha khatm hoga charagh-e-hujra-e-darwesh ki bujhti hui lau hawa se kah gai hai ab tamasha khatm hoga kahani mein nae kirdar shamil ho gae hain nahin malum ab kis dhab tamasha khatm hoga kahani aap uljhi hai ki uljhai gai hai ye uqda tab khulega jab tamasha khatm hoga zamin jab adl se bhar jaegi nurun-ala-nur ba-nam-e-maslak-o-mazhab tamasha khatm hoga ye sab kath-putliyan raqsan rahengi raat ki raat sahar se pahle pahle sab tamasha khatm hoga tamasha karne walon ko khabar di ja chuki hai ki parda kab girega kab tamasha khatm hoga dil-e-na-mutmain aisa bhi kya mayus rahna jo khalq utthi to sab kartab tamasha khatm hoga

Related Ghazal

زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی

Ali Zaryoun

102 likes

تری پیچھے ہوں گی دنیا پاگل بن کیا بولا ہے وہ ہے وہ نے کچھ سمجھا پاگل بن صحرا ہے وہ ہے وہ بھی ڈھونڈ لے دریا پاگل بن ورنا مر جائےگا پیاسا پاگل بن آدھا دا لگ آدھا پاگل نہیں نہیں نہیں اس کا کا کو پانا ہے تو پورا پاگل بن دانائی دکھلانے سے کچھ حاصل نہیں پاگل خا لگ ہے یہ دنیا پاگل بن دیکھیں تجھ کو لوگ تو پاگل ہوں جائیں اتنا عمدہ اتنا اعلیٰ پاگل بن لوگوں سے ڈر لگتا ہے تو گھر ہے وہ ہے وہ بیٹھ ج ہنستے ہے تو مری جیسا پاگل بن

Varun Anand

81 likes

ا سے کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ جو خنجر ہے زیادہ تیز ہے اور پھروں بچپن سے ہی ا سے کا نشا لگ تیز ہے جب کبھی ا سے پار جانے کا خیال آتا مجھے کوئی آہستہ سے کہتا تھا کی دریا تیز ہے آج ملنا تھا بچھڑ جانے کی نیت سے ہمیں آج بھی حقیقت دیر سے پہنچا ہے کتنا تیز ہے اپنا سب کچھ ہار کے لوٹ آئی ہوں لگ مری پا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہیں کہتا بھی رہتا کی دنیا تیز ہے آج ا سے کے گال چومے ہیں تو اندازہ ہوا چائے اچھی ہے م گر تھوڑا سا میٹھا تیز ہے

Tehzeeb Hafi

220 likes

تماشا دیر و حرم دیکھتے ہیں تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں ہماری طرف اب حقیقت کم دیکھتے ہیں حقیقت نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں زمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں

Dagh Dehlvi

84 likes

بچھڑ کر ا سے کا دل لگ بھی گیا تو تو کیا لگے گا حقیقت تھک جائےگا اور مری گلے سے آ لگے گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مشکل ہے وہ ہے وہ تمہارے کام آؤں یا نا آؤں مجھے آواز دے لینا تمہیں اچھا لگے گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے کوشش سے اس کا کو بھول جانے ہے وہ ہے وہ لگا ہوں زیادہ بھی ا گر لگ جائے تو ہفتہ لگے گا

Tehzeeb Hafi

174 likes

More from Iftikhar Arif

وفا کی خیر مناتا ہوں بے وفائی ہے وہ ہے وہ بھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی قید ہے وہ ہے وہ ہوں قید سے رہائی ہے وہ ہے وہ بھی لہو کی آگ ہے وہ ہے وہ جل بجھ گئے بدن تو کھلا رسائی ہے وہ ہے وہ بھی خسارہ ہے نا رسائی ہے وہ ہے وہ بھی بدلتے رہتے ہیں موسم گزرتا رہتا ہے سمے م گر یہ دل کہ وہیں کا وہیں جدائی ہے وہ ہے وہ بھی لحاظ حرمت پیمان لگ پا سے ہم خوابی غضب طرح کے تصادم تھے آشنائی ہے وہ ہے وہ بھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ د سے بر سے سے کسی خواب کے عذاب ہے وہ ہے وہ ہوں وہی عذاب در آیا ہے ا سے دہائی ہے وہ ہے وہ بھی تصادم دل و دنیا ہے وہ ہے وہ دل کی ہار کے بعد حجاب آنے لگا ہے غزل سرائی ہے وہ ہے وہ بھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ جا رہا ہوں اب ا سے کی طرف اسی کی طرف جو مری ساتھ تھا مری شکستہ پائی ہے وہ ہے وہ بھی

Iftikhar Arif

0 likes

ک ہاں کے نام و نسب علم کیا فضیلت کیا جہان رزق ہے وہ ہے وہ توقیر اہل حاجت کیا شکم کی آگ لیے پھروں رہی ہے شہر ب شہر سگ زما لگ ہیں ہم کیا ہماری ہجرت کیا دمشق مصلحت و کوفہ نفاق کے بیچ فغاں قافلہ بے نوا کی قیمت کیا معال عزت سادات عشق دیکھ کے ہم بدل گئے تو بدلنے پہ اتنی حیرت کیا قمار خا لگ ہستی ہے وہ ہے وہ ایک بازی پر تمام عمر لگا دی تو پھروں شکایت کیا فروغ صنعت قد آوری کا موسم ہے بیعت ہوئے پہ بھی نکلا ہے قد و قامت کیا

Iftikhar Arif

0 likes

کوئی تو پھول کھلائے دعا کے لہجے ہے وہ ہے وہ ہے وہ غضب طرح کی گھٹن ہے ہوا کے لہجے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ سمے ک سے کی رعونت پہ خاک ڈال گیا تو یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگ جانے آواز کون سے عذاب ہے وہ ہے وہ ہے ہوائیں چیخ پڑیں التجا کے لہجے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کھلا فریب محبت دکھائی دیتا ہے غضب غصہ ہے ا سے بےوفا کے لہجے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہی ہے مصلحت جبر احتیاط تو پھروں ہم اپنا حال کہی گے چھپا کے لہجے ہے وہ ہے وہ

Iftikhar Arif

1 likes

یہ بستی جانی پہچانی بے حد ہے ی ہاں وعدوں کی ارزانی بے حد ہے شگفتہ لفظ لکھے جا رہے ہیں م گر لہجوں ہے وہ ہے وہ ویرانی بے حد ہے سبک ظرفوں کے آب ہے وہ ہے وہ نہیں لفظ م گر شوق گل افشانی بے حد ہے ہے بازاروں ہے وہ ہے وہ پانی سر سے اونچا مری گھر ہے وہ ہے وہ بھی تغیانی بے حد ہے لگ جانے کب مری صحرا ہے وہ ہے وہ آئی حقیقت اک دریا کہ طوفانی بے حد ہے لگ جانے کب مری آنگن ہے وہ ہے وہ برسے حقیقت اک بادل کہ نقصانی بے حد ہے

Iftikhar Arif

0 likes

دیار نور ہے وہ ہے وہ تیرہ شبوں کا ساتھی ہوں کوئی تو ہوں جو مری وحشتوں کا ساتھی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے جھوٹ بھی بولوں تو مجھ سے سچ بولے مری مزاج کے سب موسموں کا ساتھی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ہاتھ لگ آؤں حقیقت میرا ہوں کے رہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ گر پڑوں تو مری پستیوں کا ساتھی ہوں حقیقت مری نام کی نسبت سے معتبر ٹھہرے گلی گلی مری رسوائیوں کا ساتھی ہوں کرے چھوؤں گا جو مجھ سے تو مری لہجے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ چپ ر ہوں تو مری تیوروں کا ساتھی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے آپ کو دیکھوں حقیقت مجھ کو دیکھے جائے حقیقت مری نف سے کی گمراہیاں کا ساتھی ہوں حقیقت خواب دیکھے تو دیکھے مری حوالے سے مری خیال کے سب م دی کا ساتھی ہوں

Iftikhar Arif

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Iftikhar Arif.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Iftikhar Arif's ghazal.