دیار نور ہے وہ ہے وہ تیرہ شبوں کا ساتھی ہوں کوئی تو ہوں جو مری وحشتوں کا ساتھی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے جھوٹ بھی بولوں تو مجھ سے سچ بولے مری مزاج کے سب موسموں کا ساتھی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ہاتھ لگ آؤں حقیقت میرا ہوں کے رہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ گر پڑوں تو مری پستیوں کا ساتھی ہوں حقیقت مری نام کی نسبت سے معتبر ٹھہرے گلی گلی مری رسوائیوں کا ساتھی ہوں کرے چھوؤں گا جو مجھ سے تو مری لہجے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ چپ ر ہوں تو مری تیوروں کا ساتھی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے آپ کو دیکھوں حقیقت مجھ کو دیکھے جائے حقیقت مری نف سے کی گمراہیاں کا ساتھی ہوں حقیقت خواب دیکھے تو دیکھے مری حوالے سے مری خیال کے سب م دی کا ساتھی ہوں
Related Ghazal
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
جاناں حقیقت نہیں ہوں حسرت ہوں جو ملے خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت دولت ہوں جاناں ہوں خوشبو کے خواب کی خوشبو اور اتنے ہی بے مروت ہوں ک سے طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں جاناں مری زندگی کی عادت ہوں ک سے لیے دیکھتے ہوں آئی لگ جاناں تو خود سے بھی خوبصورت ہوں داستان ختم ہونے والی ہے جاناں مری آخری محبت ہوں
Jaun Elia
315 likes
More from Iftikhar Arif
یہ بستی جانی پہچانی بے حد ہے ی ہاں وعدوں کی ارزانی بے حد ہے شگفتہ لفظ لکھے جا رہے ہیں م گر لہجوں ہے وہ ہے وہ ویرانی بے حد ہے سبک ظرفوں کے آب ہے وہ ہے وہ نہیں لفظ م گر شوق گل افشانی بے حد ہے ہے بازاروں ہے وہ ہے وہ پانی سر سے اونچا مری گھر ہے وہ ہے وہ بھی تغیانی بے حد ہے لگ جانے کب مری صحرا ہے وہ ہے وہ آئی حقیقت اک دریا کہ طوفانی بے حد ہے لگ جانے کب مری آنگن ہے وہ ہے وہ برسے حقیقت اک بادل کہ نقصانی بے حد ہے
Iftikhar Arif
0 likes
थकन तो अगले सफ़र के लिए बहाना था उसे तो यूँँ भी किसी और सम्त जाना था वही चराग़ बुझा जिस की लौ क़यामत थी उसी पे ज़र्ब पड़ी जो शजर पुराना था मता-ए-जाँ का बदल एक पल की सरशारी सुलूक ख़्वाब का आँखों से ताजिराना था हवा की काट शगूफ़ों ने जज़्ब कर ली थी तभी तो लहजा-ए-ख़ुशबू भी जारेहाना था वही फ़िराक़ की बातें वही हिकायत-ए-वस्ल नई किताब का एक इक वरक़ पुराना था क़बा-ए-ज़र्द निगार-ए-ख़िज़ाँ पे सजती थी तभी तो चाल का अंदाज़ ख़ुसरवाना था
Iftikhar Arif
2 likes
وفا کی خیر مناتا ہوں بے وفائی ہے وہ ہے وہ بھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی قید ہے وہ ہے وہ ہوں قید سے رہائی ہے وہ ہے وہ بھی لہو کی آگ ہے وہ ہے وہ جل بجھ گئے بدن تو کھلا رسائی ہے وہ ہے وہ بھی خسارہ ہے نا رسائی ہے وہ ہے وہ بھی بدلتے رہتے ہیں موسم گزرتا رہتا ہے سمے م گر یہ دل کہ وہیں کا وہیں جدائی ہے وہ ہے وہ بھی لحاظ حرمت پیمان لگ پا سے ہم خوابی غضب طرح کے تصادم تھے آشنائی ہے وہ ہے وہ بھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ د سے بر سے سے کسی خواب کے عذاب ہے وہ ہے وہ ہوں وہی عذاب در آیا ہے ا سے دہائی ہے وہ ہے وہ بھی تصادم دل و دنیا ہے وہ ہے وہ دل کی ہار کے بعد حجاب آنے لگا ہے غزل سرائی ہے وہ ہے وہ بھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ جا رہا ہوں اب ا سے کی طرف اسی کی طرف جو مری ساتھ تھا مری شکستہ پائی ہے وہ ہے وہ بھی
Iftikhar Arif
0 likes
کوئی تو پھول کھلائے دعا کے لہجے ہے وہ ہے وہ ہے وہ غضب طرح کی گھٹن ہے ہوا کے لہجے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ سمے ک سے کی رعونت پہ خاک ڈال گیا تو یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگ جانے آواز کون سے عذاب ہے وہ ہے وہ ہے ہوائیں چیخ پڑیں التجا کے لہجے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کھلا فریب محبت دکھائی دیتا ہے غضب غصہ ہے ا سے بےوفا کے لہجے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہی ہے مصلحت جبر احتیاط تو پھروں ہم اپنا حال کہی گے چھپا کے لہجے ہے وہ ہے وہ
Iftikhar Arif
1 likes
عذاب یہ بھی کسی اور پر نہیں آیا کہ ایک عمر چلے اور گھر نہیں آیا ا سے ایک خواب کی حسرت ہے وہ ہے وہ جل بجھیں آنکھیں حقیقت ایک خواب کہ اب تک نظر نہیں آیا کریں تو ک سے سے کریں نارسائیوں کا گلہ سفر تمام ہوا ہم سفر نہیں آیا دلوں کی بات بدن کی زبان سے کہ دیتے یہ چاہتے تھے م گر دل ادھر نہیں آیا عجیب ہی تھا مری دور گمراہی کا رفیق بچھڑ گیا تو تو کبھی لوٹ کر نہیں آیا حریم لفظ و معانی سے نسبتیں بھی رہیں م گر سلیقہ عرض ہنر نہیں آیا
Iftikhar Arif
2 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Iftikhar Arif.
Similar Moods
More moods that pair well with Iftikhar Arif's ghazal.







