عذاب یہ بھی کسی اور پر نہیں آیا کہ ایک عمر چلے اور گھر نہیں آیا ا سے ایک خواب کی حسرت ہے وہ ہے وہ جل بجھیں آنکھیں حقیقت ایک خواب کہ اب تک نظر نہیں آیا کریں تو ک سے سے کریں نارسائیوں کا گلہ سفر تمام ہوا ہم سفر نہیں آیا دلوں کی بات بدن کی زبان سے کہ دیتے یہ چاہتے تھے م گر دل ادھر نہیں آیا عجیب ہی تھا مری دور گمراہی کا رفیق بچھڑ گیا تو تو کبھی لوٹ کر نہیں آیا حریم لفظ و معانی سے نسبتیں بھی رہیں م گر سلیقہ عرض ہنر نہیں آیا
Related Ghazal
کبھی ملیںگے تو یہ قرض بھی اتاریںگے تمہارے چہرے کو پہروں تلک نہہاریںگے یہ کیا ستم کہ کھلاڑی بدل دیا ا سے نے ہم ا سے امید پہ بیٹھے تھے ہم ہی ہاریںگے ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے بدن تو چو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے
Vikram Gaur Vairagi
70 likes
چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں
Ali Zaryoun
105 likes
پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا
Fahmi Badayuni
96 likes
چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا
Waseem Barelvi
103 likes
تماشا دیر و حرم دیکھتے ہیں تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں ہماری طرف اب حقیقت کم دیکھتے ہیں حقیقت نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں زمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں
Dagh Dehlvi
84 likes
More from Iftikhar Arif
وفا کی خیر مناتا ہوں بے وفائی ہے وہ ہے وہ بھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی قید ہے وہ ہے وہ ہوں قید سے رہائی ہے وہ ہے وہ بھی لہو کی آگ ہے وہ ہے وہ جل بجھ گئے بدن تو کھلا رسائی ہے وہ ہے وہ بھی خسارہ ہے نا رسائی ہے وہ ہے وہ بھی بدلتے رہتے ہیں موسم گزرتا رہتا ہے سمے م گر یہ دل کہ وہیں کا وہیں جدائی ہے وہ ہے وہ بھی لحاظ حرمت پیمان لگ پا سے ہم خوابی غضب طرح کے تصادم تھے آشنائی ہے وہ ہے وہ بھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ د سے بر سے سے کسی خواب کے عذاب ہے وہ ہے وہ ہوں وہی عذاب در آیا ہے ا سے دہائی ہے وہ ہے وہ بھی تصادم دل و دنیا ہے وہ ہے وہ دل کی ہار کے بعد حجاب آنے لگا ہے غزل سرائی ہے وہ ہے وہ بھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ جا رہا ہوں اب ا سے کی طرف اسی کی طرف جو مری ساتھ تھا مری شکستہ پائی ہے وہ ہے وہ بھی
Iftikhar Arif
0 likes
یہ بستی جانی پہچانی بے حد ہے ی ہاں وعدوں کی ارزانی بے حد ہے شگفتہ لفظ لکھے جا رہے ہیں م گر لہجوں ہے وہ ہے وہ ویرانی بے حد ہے سبک ظرفوں کے آب ہے وہ ہے وہ نہیں لفظ م گر شوق گل افشانی بے حد ہے ہے بازاروں ہے وہ ہے وہ پانی سر سے اونچا مری گھر ہے وہ ہے وہ بھی تغیانی بے حد ہے لگ جانے کب مری صحرا ہے وہ ہے وہ آئی حقیقت اک دریا کہ طوفانی بے حد ہے لگ جانے کب مری آنگن ہے وہ ہے وہ برسے حقیقت اک بادل کہ نقصانی بے حد ہے
Iftikhar Arif
0 likes
دیار نور ہے وہ ہے وہ تیرہ شبوں کا ساتھی ہوں کوئی تو ہوں جو مری وحشتوں کا ساتھی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے جھوٹ بھی بولوں تو مجھ سے سچ بولے مری مزاج کے سب موسموں کا ساتھی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ہاتھ لگ آؤں حقیقت میرا ہوں کے رہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ گر پڑوں تو مری پستیوں کا ساتھی ہوں حقیقت مری نام کی نسبت سے معتبر ٹھہرے گلی گلی مری رسوائیوں کا ساتھی ہوں کرے چھوؤں گا جو مجھ سے تو مری لہجے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ چپ ر ہوں تو مری تیوروں کا ساتھی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے آپ کو دیکھوں حقیقت مجھ کو دیکھے جائے حقیقت مری نف سے کی گمراہیاں کا ساتھی ہوں حقیقت خواب دیکھے تو دیکھے مری حوالے سے مری خیال کے سب م دی کا ساتھی ہوں
Iftikhar Arif
1 likes
थकन तो अगले सफ़र के लिए बहाना था उसे तो यूँँ भी किसी और सम्त जाना था वही चराग़ बुझा जिस की लौ क़यामत थी उसी पे ज़र्ब पड़ी जो शजर पुराना था मता-ए-जाँ का बदल एक पल की सरशारी सुलूक ख़्वाब का आँखों से ताजिराना था हवा की काट शगूफ़ों ने जज़्ब कर ली थी तभी तो लहजा-ए-ख़ुशबू भी जारेहाना था वही फ़िराक़ की बातें वही हिकायत-ए-वस्ल नई किताब का एक इक वरक़ पुराना था क़बा-ए-ज़र्द निगार-ए-ख़िज़ाँ पे सजती थी तभी तो चाल का अंदाज़ ख़ुसरवाना था
Iftikhar Arif
2 likes
मेरे ख़ुदा मुझे इतना तो मो'तबर कर दे मैं जिस मकान में रहता हूँ उस को घर कर दे ये रौशनी के तआ'क़ुब में भागता हुआ दिन जो थक गया है तो अब इस को मुख़्तसर कर दे मैं ज़िंदगी की दुआ माँगने लगा हूँ बहुत जो हो सके तो दुआओं को बे-असर कर दे सितारा-ए-सहरी डूबने को आया है ज़रा कोई मिरे सूरज को बा-ख़बर कर दे क़बीला-वार कमानें कड़कने वाली हैं मेरे लहू की गवाही मुझे निडर कर दे मैं अपने ख़्वाब से कट कर जियूँ तो मेरा ख़ुदा उजाड़ दे मिरी मिट्टी को दर-ब-दर कर दे मेरी ज़मीन मेरा आख़िरी हवाला है सो मैं रहूँ न रहूँ इस को बारवर कर दे
Iftikhar Arif
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Iftikhar Arif.
Similar Moods
More moods that pair well with Iftikhar Arif's ghazal.







