ghazalKuch Alfaaz

بستر کو جھٹکنا پڑتا ہے کپڑو کو بدلنا پڑتا ہے لوگوں کو بسر کرنے کے لیے کمروں سے نکلنا پڑتا ہے ہم ان باغوں ہے وہ ہے وہ خلوتے ہے جن باغوں ہے وہ ہے وہ خوشبو کے لیے پھولوں کو اچکنا پڑتا ہے,कलियों کو مسلنا پڑتا ہے پہلی کو بھلانے کے لیے دوسری عورت لائی جاتی ہے اک زہر اگلنے کے لیے دوسرا زہر نگلنا پڑتا ہے حقیقت روز کہی سے اڑھائی ہوں کر آ جاتی ہے اور مجھے کتوں کو ہتکنا پڑتا ہے کیڑوں کو کچلنا پڑتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پل ہے وہ ہے وہ ا سے کے جسم کی سیر سے فارغ ہوں جاتا ہوں م گر مجھے ا سے رفتار کو حاصل کرنے کے لیے جلنا پڑتا ہے شاداب گزرگا ہوں پہ تری کانٹو کی تجارت ہوتی ہے ویران گزرگا ہوں پہ مری آنکھوں کو چھلکنا پڑتا ہے تاخیر سے لوٹنے والوں کی تکلیف بھی دوہری ہوتی ہے ہاتھوں کو بھی ملنا پڑتا ہے با ہوں کو بھی ملنا پڑتا ہے

Muzdum Khan13 Likes

Related Ghazal

آنکھوں ہے وہ ہے وہ رہا دل ہے وہ ہے وہ اتر کر نہیں دیکھا کشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا ذہانت ا گر جاؤں گا سب چونک پڑیں گے اک عمر ہوئی دن ہے وہ ہے وہ کبھی گھر نہیں دیکھا ج سے دن سے چلا ہوں مری منزل پہ نظر ہے آنکھوں نے کبھی میل کا پتھر نہیں دیکھا یہ پھول مجھے کوئی وراثت ہے وہ ہے وہ ملے ہیں جاناں نے میرا کانٹوں بھرا بستر نہیں دیکھا یاروں کی محبت کا یقین کر لیا ہے وہ ہے وہ نے پھولوں ہے وہ ہے وہ چھپایا ہوا خنجر نہیں دیکھا محبوب کا گھر ہوں کہ بزرگوں کی زمینیں جو چھوڑ دیا پھروں اسے مڑ کر نہیں دیکھا خط ایسا لکھا ہے کہ نگینے سے جڑے ہیں حقیقت ہاتھ کہ ج سے نے کوئی زیور نہیں دیکھا پتھر مجھے کہتا ہے میرا چاہنے والا ہے وہ ہے وہ ہے وہ موم ہوں ا سے نے مجھے چھو کر نہیں دیکھا

Bashir Badr

38 likes

تھک جاتا ہوں روز کے آنے جانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ میرا بستر لگوا دو مے خانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ پھول ہے مت کہیے کہیے ا سے کا ہاتھ ہے پھول کو پھول بنانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کب سے موقعے کی تاک ہے وہ ہے وہ ہوں اس کا کو جانے من کہ دوں جانے انجانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ آنکھوں ہے وہ ہے وہ مت روک مجھے جانا ہے ادھر یہ رستہ کھلتا ہے ج سے تہخانے ہے وہ ہے وہ

Charagh Sharma

19 likes

تری پیچھے ہوں گی دنیا پاگل بن کیا بولا ہے وہ ہے وہ نے کچھ سمجھا پاگل بن صحرا ہے وہ ہے وہ بھی ڈھونڈ لے دریا پاگل بن ورنا مر جائےگا پیاسا پاگل بن آدھا دا لگ آدھا پاگل نہیں نہیں نہیں اس کا کا کو پانا ہے تو پورا پاگل بن دانائی دکھلانے سے کچھ حاصل نہیں پاگل خا لگ ہے یہ دنیا پاگل بن دیکھیں تجھ کو لوگ تو پاگل ہوں جائیں اتنا عمدہ اتنا اعلیٰ پاگل بن لوگوں سے ڈر لگتا ہے تو گھر ہے وہ ہے وہ بیٹھ ج ہنستے ہے تو مری جیسا پاگل بن

Varun Anand

81 likes

نہیں ہے منہسیر ا سے بات پر یاری ہماری کے تو کرتا رہے ناحق طرفداری ہماری اندھیرے ہے وہ ہے وہ ہمیں رکھنا تو خموشی سے رکھنا کہی منجملہ و اسباب ماتم نا ہوں جائے بیداری ہماری م گر اچھا تو یہ ہوتا ہم ایک ساتھ رہتے بھری رہتی تری کپڑو سے الماری ہماری ہم آسانی سے کھل جائے م گر ایک مسئلہ ہے تمہاری سطح سے اوپر ہے تہداری ہماری کہانیکار نے کردار ہی ایسا دیا ہے اداکاری نہیں لگتی اداکاری ہماری ہمیں جیتے چلے جانے پر مائل کرنے والی یہا کوئی نہیں لیکن سخنکاری ہماری

Jawwad Sheikh

26 likes

جاناں ثروت کو پڑھتی ہوں کتنی اچھی لڑکی ہوں بات نہیں سنتی ہوں کیوں غزلیں بھی تو سنتی ہوں کیا رشتہ ہے شاموں سے سورج کی کیا لگتی ہوں لوگ نہیں ڈرتے رب سے جاناں لوگوں سے ڈرتی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جیتا ہوں جاناں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کیوں مجھ پہ مرتی ہوں آدم اور سدھر جائے جاناں بھی حد ہی کرتی ہوں ک سے نے جینز کری ممنوع پہنو اچھی لگتی ہوں

Ali Zaryoun

48 likes

More from Muzdum Khan

حقیقت جو مری تابکاری ہے وہ ہے وہ پگھلنے لگ گیا تو جو ستارہ بھی نہیں تھا حقیقت بھی جلنے لگ گیا تو خوبصورت عورتوں نے کر دی بینائی عطا آنکھ ملنے والا آخر ہاتھ ملنے لگ گیا تو دوسرا پاؤں نہیں رکھنے دیا ہے وہ ہے وہ نے اسے پہلا پاؤں رکھتے ہی چشمہ ابلنے لگ گیا تو

Muzdum Khan

8 likes

تیری تصویر معطل نہیں ہوتی مری دوست ورنا دیوار تو پاگل نہیں ہوتی مری دوست عشق ہے وہ ہے وہ جیت مقدر سے ہے محنت سے نہیں ایسے کھیلوں ہے وہ ہے وہ ریہرسل نہیں ہوتی مری دوست ا سے نے بےچینی بھی بخشی ہے بڑی مشکل سے اور بےچینی مسلسل نہیں ہوتی مری دوست

Muzdum Khan

9 likes

مجھے لگ مانگتی تو بولتی خدا دو مجھے بچا لیا ہے گناہ سے تمہیں دعا دو مجھے یہ لوگ دیکھ رہیں ہیں مری چمک ہے وہ ہے وہ تمہیں کہی اکیلے جلانا ابھی بجھا دو مجھے مجھے کسی سے محبت نہیں تمہارے سوا تمہیں کسی سے محبت ہے تو بتا دو مجھے

Muzdum Khan

11 likes

ہمارا دل جب نہیں لگا تو سوال پیدا ہوا لگے گا جواب ہے وہ ہے وہ ہم نے کہ دیا ٹھیک ہے مغر اور کیا لگے گا یوں ہی کبھی تیر چوم کر حقیقت مری طرف چھوڑ دے کماں سے میرا مقدر تو ا سے طرح کا ہے تیر دشمن کو جا لگے گا کہ دوست ایسے معاشرے ہے وہ ہے وہ معاشقہ چاہتے ہیں مجھ سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے ہے وہ ہے وہ تھپڑ بھی خا لگ چا ہوں تو حقیقت بھی برقے ہے وہ ہے وہ آ لگے گا ہمارا نقشہ کرایہ محنت دماغ لگتا ہے راستوں پر تمہاری تو ان سے دوستی ہے تمہارا تو شکریہ لگے گا مشاعروں ہے وہ ہے وہ غزل نہیں لوگ صرف حلیوں کو دیکھتے ہیں میرا بھی ایک دوست ہے جو ہنسنے کے بعد جان ایلیا لگے گا

Muzdum Khan

11 likes

دنیا مری خلاف تھی تو بھی خلاف ہے یہ سچ نہیں ہے ہے تو مجھے اختلاف ہے جو بھی کرے ج ہاں بھی کرے ج سے طرح کرے اس کا کا کو مری طرف سے سبھی کچھ معاف ہے بھیگے ہوئے ہے دامن و رومال و آستیں حالانکہ آسمان پہ دم دار بھی صاف ہے آواز ہی سنی لگ ہوں ج سے بے وجہ نے کبھی ا سے کے لیے ہے وہ ہے وہ جو بھی ک ہوں انکشاف ہے بدنام ہوں گیا تو ہوں محبت ہے وہ ہے وہ نام پر مزدہم یہ میرا سب سے بڑا اعتراف ہے

Muzdum Khan

9 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Muzdum Khan.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Muzdum Khan's ghazal.