حقیقت جو مری تابکاری ہے وہ ہے وہ پگھلنے لگ گیا تو جو ستارہ بھی نہیں تھا حقیقت بھی جلنے لگ گیا تو خوبصورت عورتوں نے کر دی بینائی عطا آنکھ ملنے والا آخر ہاتھ ملنے لگ گیا تو دوسرا پاؤں نہیں رکھنے دیا ہے وہ ہے وہ نے اسے پہلا پاؤں رکھتے ہی چشمہ ابلنے لگ گیا تو
Related Ghazal
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
کیا بادلوں ہے وہ ہے وہ سفر زندگی بھر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر بنایا لگ گھر زندگی بھر سبھی زندگی کے مزے لوٹتے ہیں لگ آیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ہنر زندگی بھر محبت رہی چار دن زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہا چار دن کا اثر زندگی بھر
Anwar Shaoor
95 likes
More from Muzdum Khan
دنیا مری خلاف تھی تو بھی خلاف ہے یہ سچ نہیں ہے ہے تو مجھے اختلاف ہے جو بھی کرے ج ہاں بھی کرے ج سے طرح کرے اس کا کا کو مری طرف سے سبھی کچھ معاف ہے بھیگے ہوئے ہے دامن و رومال و آستیں حالانکہ آسمان پہ دم دار بھی صاف ہے آواز ہی سنی لگ ہوں ج سے بے وجہ نے کبھی ا سے کے لیے ہے وہ ہے وہ جو بھی ک ہوں انکشاف ہے بدنام ہوں گیا تو ہوں محبت ہے وہ ہے وہ نام پر مزدہم یہ میرا سب سے بڑا اعتراف ہے
Muzdum Khan
9 likes
تیری تصویر معطل نہیں ہوتی مری دوست ورنا دیوار تو پاگل نہیں ہوتی مری دوست عشق ہے وہ ہے وہ جیت مقدر سے ہے محنت سے نہیں ایسے کھیلوں ہے وہ ہے وہ ریہرسل نہیں ہوتی مری دوست ا سے نے بےچینی بھی بخشی ہے بڑی مشکل سے اور بےچینی مسلسل نہیں ہوتی مری دوست
Muzdum Khan
9 likes
مجھے لگ مانگتی تو بولتی خدا دو مجھے بچا لیا ہے گناہ سے تمہیں دعا دو مجھے یہ لوگ دیکھ رہیں ہیں مری چمک ہے وہ ہے وہ تمہیں کہی اکیلے جلانا ابھی بجھا دو مجھے مجھے کسی سے محبت نہیں تمہارے سوا تمہیں کسی سے محبت ہے تو بتا دو مجھے
Muzdum Khan
11 likes
ہمارا دل جب نہیں لگا تو سوال پیدا ہوا لگے گا جواب ہے وہ ہے وہ ہم نے کہ دیا ٹھیک ہے مغر اور کیا لگے گا یوں ہی کبھی تیر چوم کر حقیقت مری طرف چھوڑ دے کماں سے میرا مقدر تو ا سے طرح کا ہے تیر دشمن کو جا لگے گا کہ دوست ایسے معاشرے ہے وہ ہے وہ معاشقہ چاہتے ہیں مجھ سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے ہے وہ ہے وہ تھپڑ بھی خا لگ چا ہوں تو حقیقت بھی برقے ہے وہ ہے وہ آ لگے گا ہمارا نقشہ کرایہ محنت دماغ لگتا ہے راستوں پر تمہاری تو ان سے دوستی ہے تمہارا تو شکریہ لگے گا مشاعروں ہے وہ ہے وہ غزل نہیں لوگ صرف حلیوں کو دیکھتے ہیں میرا بھی ایک دوست ہے جو ہنسنے کے بعد جان ایلیا لگے گا
Muzdum Khan
11 likes
بستر کو جھٹکنا پڑتا ہے کپڑو کو بدلنا پڑتا ہے لوگوں کو بسر کرنے کے لیے کمروں سے نکلنا پڑتا ہے ہم ان باغوں ہے وہ ہے وہ خلوتے ہے جن باغوں ہے وہ ہے وہ خوشبو کے لیے پھولوں کو اچکنا پڑتا ہے,कलियों کو مسلنا پڑتا ہے پہلی کو بھلانے کے لیے دوسری عورت لائی جاتی ہے اک زہر اگلنے کے لیے دوسرا زہر نگلنا پڑتا ہے حقیقت روز کہی سے اڑھائی ہوں کر آ جاتی ہے اور مجھے کتوں کو ہتکنا پڑتا ہے کیڑوں کو کچلنا پڑتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پل ہے وہ ہے وہ ا سے کے جسم کی سیر سے فارغ ہوں جاتا ہوں م گر مجھے ا سے رفتار کو حاصل کرنے کے لیے جلنا پڑتا ہے شاداب گزرگا ہوں پہ تری کانٹو کی تجارت ہوتی ہے ویران گزرگا ہوں پہ مری آنکھوں کو چھلکنا پڑتا ہے تاخیر سے لوٹنے والوں کی تکلیف بھی دوہری ہوتی ہے ہاتھوں کو بھی ملنا پڑتا ہے با ہوں کو بھی ملنا پڑتا ہے
Muzdum Khan
13 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Muzdum Khan.
Similar Moods
More moods that pair well with Muzdum Khan's ghazal.







