ghazalKuch Alfaaz

bundon ki tarah chhat se tapakte hue aa jaao barsat ka mausam hai baraste hue aa jaao khushbu ho to jhonke ki tarah phuul se niklo dil ho to miri jaan dhadakte hue aa jaao do gaam pe mai-khana hai daftar se nikal kar is bhigte mausam men tahalte hue aa jaao mausam ke bahane gul-o-gulzar nikal aae tum bhi koi bahrup badalte hue aa jaao bundon ki tarah chhat se tapakte hue aa jao barsat ka mausam hai baraste hue aa jao khushbu ho to jhonke ki tarah phul se niklo dil ho to meri jaan dhadakte hue aa jao do gam pe mai-khana hai daftar se nikal kar is bhigte mausam mein tahalte hue aa jao mausam ke bahane gul-o-gulzar nikal aae tum bhi koi bahrup badalte hue aa jao

Related Ghazal

ج سے طرح سمے گزرنے کے لیے ہوتا ہے آدمی شکل پہ مرنے کے لیے ہوتا ہے تیری آنکھوں سے ملاقات ہوئی تب یہ کھلا ڈوبنے والا ابھرنے کے لیے ہوتا ہے عشق کیوں پیچھے ہٹا بات نبھانے سے میاں حسن تو خیر مکرنے کے لیے ہوتا ہے آنکھ ہوتی ہے کسی راہ کو تکنے کے لیے دل کسی پاؤں پہ دھرنے کے لیے ہوتا ہے دل کی دہلی کا چناؤ ہی ا پیش ہے صاحب جب بھی ہوتا ہے یہ ہَرنے کے لیے ہوتا ہے کوئی بستی ہوں اجڑنے کے لیے بستی ہے کوئی مجمع ہوں گزرا کے لیے ہوتا ہے

Ali Zaryoun

61 likes

آنکھ کو آئی لگ سمجھتے ہوں جاناں بھی سب کی طرح سمجھتے ہوں دوست اب کیوں نہیں سمجھتے جاناں جاناں تو کہتے تھے نا سمجھتے ہوں اپنا غم جاناں کو کیسے سمجھاؤں سب سے ہارا ہوا سمجھتے ہوں مری دنیا اجڑ گئی ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں اسے حادثہ سمجھتے ہوں آخری راستہ تو باقی ہے آخری راستہ سمجھتے ہوں

Himanshi babra KATIB

76 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے

Rahat Indori

102 likes

ک سے طرح ہوگا فقیروں کا گزارا اپائے ا سے سے کہنا کہ حقیقت اک بار دوبارہ اپائے کیسے ممکن ہے اسے اور کوئی کام لگ ہوں کیسے ممکن ہے کہ حقیقت صرف ہمارا اپائے تری افلاک پہ جائے تو ستارہ چمکے مری افلاک پہ آئی تو ستارہ اپائے ٹوٹے پتوار کی کشتی کا مقدر کیا ہے یہ تو دریا ہی بتائے یا کنارہ اپائے ایسا موقع ہوں کہ ب سے ایک ہی بچ سکتا ہوں اور ا سے سمے بھی ایک بے وجہ تمہارا اپائے

Zahid Bashir

40 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Javed Saba.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Javed Saba's ghazal.