ghazalKuch Alfaaz

چراغ خود ہی بجھایا بجھا کے چھوڑ دیا حقیقت غیر تھا اسے اپنا بنا کے چھوڑ دیا ہزار چہرے ہیں موجود آدمی غائب یہ ک سے خرابے ہے وہ ہے وہ دنیا نے لا کے چھوڑ دیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی جاں ہے وہ ہے وہ اسے جذب ک سے طرح کرتا اسے گلے سے لگایا لگا کے چھوڑ دیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جا چکا ہوں مری واسطے ادا سے لگ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت ہوں تو نے جسے مسکرا کے چھوڑ دیا کسی نے یہ لگ بتایا کہ فاصلہ کیا ہے ہر ایک نے مجھے رستہ دکھا کے چھوڑ دیا ہمارے دل ہے وہ ہے وہ ہے کیا جھانک کر لگ دیکھ سکے خود اپنی ذات سے پردہ اٹھا کے چھوڑ دیا حقیقت تیرا روگ بھی ہے اور ترا علاج بھی ہے اسی کو ڈھونڈ جسے تنگ آ کے چھوڑ دیا حقیقت صورت آشنا ہے وہ ہے وہ ملا بھی تو ا سے نے بات لگ کی کبھی کبھی کوئی جملہ چھپا کے چھوڑ دیا رکھوں کسی سے توقع تو کیا رکھوں ہم زاد خدا نے بھی تو ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر گرا کے چھوڑ دیا

Related Ghazal

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

جاناں حقیقت نہیں ہوں حسرت ہوں جو ملے خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت دولت ہوں جاناں ہوں خوشبو کے خواب کی خوشبو اور اتنے ہی بے مروت ہوں ک سے طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں جاناں مری زندگی کی عادت ہوں ک سے لیے دیکھتے ہوں آئی لگ جاناں تو خود سے بھی خوبصورت ہوں داستان ختم ہونے والی ہے جاناں مری آخری محبت ہوں

Jaun Elia

315 likes

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے

Mehshar Afridi

173 likes

چھوڑ کر جانے کا جھمکے نہیں ہوتا تھا کوئی بھی زخم ہوں ناسور نہیں ہوتا تھا میرے بھی ہونٹ پہ سگریٹ نہیں ہوتی تھی ا سے کی بھی مانگ ہے وہ ہے وہ سندور نہیں ہوتا تھا عورتیں پیار ہے وہ ہے وہ تب شوق نہیں رکھتی تھی آدمی عشق ہے وہ ہے وہ مزدور نہیں ہوتا تھا

Kushal Dauneria

54 likes

More from Shahzad Ahmad

اپنی تصویر کو آنکھوں سے لگاتا کیا ہے اک نظر مری طرف بھی ترا جاتا کیا ہے مری رسوائی ہے وہ ہے وہ حقیقت بھی ہیں برابر کے شریک مری قصے مری یاروں کو سناتا کیا ہے پا سے رہ کر بھی لگ پہچان سکا تو مجھ کو دور سے دیکھ کے اب ہاتھ ہلاتا کیا ہے ذہن کے پردوں پہ منزل کے ہیولے لگ بنا غور سے دیکھتا جا راہ ہے وہ ہے وہ آتا کیا ہے زخم دل جرم نہیں توڑ بھی دے مہر سکوت جو تجھے جانتے ہیں ان سے چھپاتا کیا ہے سفر شوق ہے وہ ہے وہ کیوں کانپتے ہیں پاؤں تری آنکھ رکھتا ہے تو پھروں آنکھ چراتا کیا ہے عمر بھر اپنے گریباں سے الجھنے والے تو مجھے مری ہی سائے سے ڈراتا کیا ہے چاندنی دیکھ کے چہرے کو چھپانے والے دھوپ ہے وہ ہے وہ بیٹھ کے اب بال سکھاتا کیا ہے مر گئے پیا سے کے مارے تو اٹھا ابر کرم بجھ گئی بزم تو اب شمع جلاتا کیا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ترا کچھ بھی نہیں ہوں م گر اتنا تو بتا دیکھ کر مجھ کو تری ذہن ہے وہ ہے وہ آتا کیا ہے تیرا احسا سے ذرا سا تری ہستی پایاب تو سمندر کی طرح شور مچاتا کیا ہے تجھ ہے وہ ہے وہ ک سے ب

Shahzad Ahmad

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Shahzad Ahmad.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Shahzad Ahmad's ghazal.