چراغ خود ہی بجھایا بجھا کے چھوڑ دیا حقیقت غیر تھا اسے اپنا بنا کے چھوڑ دیا ہزار چہرے ہیں موجود آدمی غائب یہ ک سے خرابے ہے وہ ہے وہ دنیا نے لا کے چھوڑ دیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی جاں ہے وہ ہے وہ اسے جذب ک سے طرح کرتا اسے گلے سے لگایا لگا کے چھوڑ دیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جا چکا ہوں مری واسطے ادا سے لگ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت ہوں تو نے جسے مسکرا کے چھوڑ دیا کسی نے یہ لگ بتایا کہ فاصلہ کیا ہے ہر ایک نے مجھے رستہ دکھا کے چھوڑ دیا ہمارے دل ہے وہ ہے وہ ہے کیا جھانک کر لگ دیکھ سکے خود اپنی ذات سے پردہ اٹھا کے چھوڑ دیا حقیقت تیرا روگ بھی ہے اور ترا علاج بھی ہے اسی کو ڈھونڈ جسے تنگ آ کے چھوڑ دیا حقیقت صورت آشنا ہے وہ ہے وہ ملا بھی تو ا سے نے بات لگ کی کبھی کبھی کوئی جملہ چھپا کے چھوڑ دیا رکھوں کسی سے توقع تو کیا رکھوں ہم زاد خدا نے بھی تو ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر گرا کے چھوڑ دیا
Related Ghazal
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
جاناں حقیقت نہیں ہوں حسرت ہوں جو ملے خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت دولت ہوں جاناں ہوں خوشبو کے خواب کی خوشبو اور اتنے ہی بے مروت ہوں ک سے طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں جاناں مری زندگی کی عادت ہوں ک سے لیے دیکھتے ہوں آئی لگ جاناں تو خود سے بھی خوبصورت ہوں داستان ختم ہونے والی ہے جاناں مری آخری محبت ہوں
Jaun Elia
315 likes
تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا
Hasan Abbasi
235 likes
اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے
Mehshar Afridi
173 likes
چھوڑ کر جانے کا جھمکے نہیں ہوتا تھا کوئی بھی زخم ہوں ناسور نہیں ہوتا تھا میرے بھی ہونٹ پہ سگریٹ نہیں ہوتی تھی ا سے کی بھی مانگ ہے وہ ہے وہ سندور نہیں ہوتا تھا عورتیں پیار ہے وہ ہے وہ تب شوق نہیں رکھتی تھی آدمی عشق ہے وہ ہے وہ مزدور نہیں ہوتا تھا
Kushal Dauneria
54 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Shahzad Ahmad.
Similar Moods
More moods that pair well with Shahzad Ahmad's ghazal.







