ghazalKuch Alfaaz

اپنی تصویر کو آنکھوں سے لگاتا کیا ہے اک نظر مری طرف بھی ترا جاتا کیا ہے مری رسوائی ہے وہ ہے وہ حقیقت بھی ہیں برابر کے شریک مری قصے مری یاروں کو سناتا کیا ہے پا سے رہ کر بھی لگ پہچان سکا تو مجھ کو دور سے دیکھ کے اب ہاتھ ہلاتا کیا ہے ذہن کے پردوں پہ منزل کے ہیولے لگ بنا غور سے دیکھتا جا راہ ہے وہ ہے وہ آتا کیا ہے زخم دل جرم نہیں توڑ بھی دے مہر سکوت جو تجھے جانتے ہیں ان سے چھپاتا کیا ہے سفر شوق ہے وہ ہے وہ کیوں کانپتے ہیں پاؤں تری آنکھ رکھتا ہے تو پھروں آنکھ چراتا کیا ہے عمر بھر اپنے گریباں سے الجھنے والے تو مجھے مری ہی سائے سے ڈراتا کیا ہے چاندنی دیکھ کے چہرے کو چھپانے والے دھوپ ہے وہ ہے وہ بیٹھ کے اب بال سکھاتا کیا ہے مر گئے پیا سے کے مارے تو اٹھا ابر کرم بجھ گئی بزم تو اب شمع جلاتا کیا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ترا کچھ بھی نہیں ہوں م گر اتنا تو بتا دیکھ کر مجھ کو تری ذہن ہے وہ ہے وہ آتا کیا ہے تیرا احسا سے ذرا سا تری ہستی پایاب تو سمندر کی طرح شور مچاتا کیا ہے تجھ ہے وہ ہے وہ ک سے ب

Related Ghazal

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

تماشا دیر و حرم دیکھتے ہیں تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں ہماری طرف اب حقیقت کم دیکھتے ہیں حقیقت نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں زمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں

Dagh Dehlvi

84 likes

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Shahzad Ahmad.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Shahzad Ahmad's ghazal.