دائیں بازو ہے وہ ہے وہ گڑا تیر نہیں کھینچ سکا ای سے لیے کھول سے شمشیر نہیں کھینچ سکا شور اتنا تھا کہ آواز بھی ڈبے ہے وہ ہے وہ رہی بھیڑ اتنی تھی کہ زنجیر نہیں کھینچ سکا ہر نظر سے نظر انداز شدہ منظر ہوں حقیقت مداری ہوں جو رہگیر نہیں کھینچ سکا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے محنت سے ہتھیلی پہ لکیرے کھینچیں حقیقت جنہیں کاتب تقدیر نہیں کھینچ سکا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تصویر کشی کر کے جواں کی اولاد ان کے بچپن کی تصاویر نہیں کھینچ سکا مجھ پہ اک ہجر مسلط ہے ہمیشہ کے لیے ایسا جن ہے کہ کوئی پیر نہیں کھینچ سکا جاناں پہ کیا خاک اثر ہوگا مری شعروں کا جاناں کو تو میر تقی میر نہیں کھینچ سکا
Related Ghazal
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
More from Umair Najmi
جاناں اس کا خرابے ہے وہ ہے وہ چار چھے دن ٹہل گئی ہوں سو این ممکن ہے دل کی حالت بدل گئی ہوں تمام دن اس کا دعا ہے وہ ہے وہ کٹتا ہے کچھ دنوں سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاؤں کمرے ہے وہ ہے وہ تو اداسی نکل گئی ہوں کسی کے آنے پہ ایسے ہلچل ہوئی ہے مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ خاموش جنگل ہے وہ ہے وہ چنو خیروخواہ چل گئی ہوں یہ نہ ہوں گر ہے وہ ہے وہ ہلوں تو گرنے لگے برادہ دکھوں کی دیمک بدن کی لکڑی نگل گئی ہوں یہ چھوٹے چھوٹے کئی حوادث جو ہوں رہے ہیں کسی کے سر سے بڑی مصیبت نہ ٹل گئی ہوں ہمارا ملبا ہمارے قدموں ہے وہ ہے وہ آ گرا ہے پلیٹ ہے وہ ہے وہ چنو موم بتی پگھل گئی ہوں
Umair Najmi
10 likes
ہر اک ہزار ہے وہ ہے وہ ب سے پانچ سات ہیں ہم لوگ نصاب عشق پہ واجب زکات ہیں ہم لوگ دباؤ ہے وہ ہے وہ بھی جماعت کبھی نہیں جستجو دل شکستہ شروع دن سے محبت کے ساتھ ہیں ہم لوگ جو سیکھنی ہوں زبان سکوت بسم اللہ خموشیوں کی مکمل لغات ہیں ہم لوگ کہانیوں کے حقیقت کردار جو لکھے لگ گئے خبر سے حذف شدہ واقعات ہیں ہم لوگ یہ انتظار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دیکھ کر بنایا گیا تو ظہور ہجر سے پہلے کی بات ہیں ہم لوگ کسی کو راستہ دے دیں کسی کو پانی لگ دیں کہی پہ نیل کہی پر فرات ہیں ہم لوگ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جلا کے کوئی شب گزاری سکتا ہے سڑک پہ بکھرے ہوئے کاغذات ہیں ہم لوگ
Umair Najmi
10 likes
اک دن زبان سکوت کی پوری بناؤں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ گفتگو کو غیر ضروری بناؤں گا تصویر ہے وہ ہے وہ بناؤں گا دونوں کے ہاتھ اور دونوں ہے وہ ہے وہ ایک ہاتھ کی دوری بناؤں گا مدت سمیت جملہ ضوابط ہوں طے شدہ زبان تعلقات عبوری بناؤں گا تجھ کو خبر لگ ہوں گی کہ ہے وہ ہے وہ آ سے پا سے ہوں ا سے بار حاضری کو حضوری بناؤں گا رنگوں پہ اختیار ا گر مل سکا کبھی تیری سیاہ پتلیاں بھوری بناؤں گا جاری ہے اپنی ذات پہ تحقیق آج کل ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خلا پہ ایک تھیوری بناؤں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہ کر حقیقت شکل مکمل لگ کر سکا ا سے کو بھی لگ رہا تھا ادھوری بناؤں گا
Umair Najmi
20 likes
جہان بھر کی تمام آنکھیں نچوڑ کر جتنا نمہ بنےگا یہ کل ملا کر بھی ہجر کی رات مری گریے سے کم بنےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ دشت ہوں یہ مغالطہ ہے لگ شاعرا لگ مبالغہ ہے مری بدن پر کہی قدم رکھ کے دیکھ نقش قدم بنےگا ہمارا لاشہ بہاؤ ور لگ لحد مقد سے مزار ہوں گی یہ سرخ کرتا جلاؤ ور لگ بغاوتوں کا الم بنےگا تو کیوں لگ ہم پانچ سات دن تک مزید سوچیں بنانے سے قبل مری چھٹی ح سے بتا رہی ہے یہ رشتہ ٹوٹےگا غم بنےگا مجھ ایسے لوگوں کا ٹیڑھ پن قدرتی ہے سو اعتراض کیسا شدید نمہ خاک سے جو پیکر بنےگا یہ طے ہے خم بنےگا سنا ہوا ہے ج ہاں ہے وہ ہے وہ بے کار کچھ نہیں ہے سو جی رہے ہیں بنا ہوا ہے یقین کہ ا سے رائگانی سے کچھ اہم بنےگا کہ شہزادے کی عادتیں دیکھ کر سبھی ا سے پر متفق ہیں یہ جوں ہی حاکم بنا محل کا وسیع رقبہ حرم بنےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک ترتیب سے لگاتا رہا ہوں اب تک سکوت اپنا صدا کے وقفے نکال ا سے کو شروع سے سن ردم بنےگا سفید رومال جب کبوتر نہیں بنا تو حقیقت شعبدہ باز پلٹنے والوں سے کہ رہا تھا رکو خدا کی قسم بنےگا
Umair Najmi
6 likes
اک دن زبان سکوت کی پوری بناؤں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ گفتگو کو غیر ضروری بناؤں گا تصویر ہے وہ ہے وہ بناؤں گا دونوں کے ہاتھ اور دونوں ہے وہ ہے وہ ایک ہاتھ کی دوری بناؤں گا مدت سمیت جملہ ضوابط ہوں طے شدہ زبان تعلقات عبوری بناؤں گا تجھ کو خبر لگ ہوں گی کہ ہے وہ ہے وہ آ سے پا سے ہوں ا سے بار حاضری کو حضوری بناؤں گا رنگوں پہ اختیار ا گر مل سکا کبھی تیری سیاہ پتلیاں بھوری بناؤں گا جاری ہے اپنی ذات پہ تحقیق آج کل ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خلا پہ ایک تھیوری بناؤں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہ کر حقیقت شکل مکمل لگ کر سکا ا سے کو بھی لگ رہا تھا ادھوری بناؤں گا
Umair Najmi
10 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Umair Najmi.
Similar Moods
More moods that pair well with Umair Najmi's ghazal.







