رضوان پڑا ہوا تری در پر نہیں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیوں گردش مدام سے نزدیک تر لگ جائے دل انسان ہوں خواب و میک اپ نہیں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یا رب زما لگ مجھ کو مٹاتا ہے ک سے لیے لوح ج ہاں پہ حرف مکرر نہیں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ حد چاہیے سزا ہے وہ ہے وہ عقوبت کے واسطے آخر گناہگار ہوں کافر نہیں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے واسطے عزیز نہیں جانتے مجھے منع قدم بو سے و زمرد و زر و گوہر نہیں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ رکھتے ہوں جاناں قدم مری آنکھوں سے کیوں دریغ رتبے ہے وہ ہے وہ مہر و ماہ سے کم تر نہیں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کرتے ہوں مجھ کو وظیفہ خوار ک سے لیے کیا آسمان کے بھی برابر نہیں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تاکتے آشوب غم ہوں دو شاہ کو دعا حقیقت دن گئے کہ کہتے تھے نوکر نہیں ہوں ہے وہ ہے وہ
Related Ghazal
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
جاناں حقیقت نہیں ہوں حسرت ہوں جو ملے خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت دولت ہوں جاناں ہوں خوشبو کے خواب کی خوشبو اور اتنے ہی بے مروت ہوں ک سے طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں جاناں مری زندگی کی عادت ہوں ک سے لیے دیکھتے ہوں آئی لگ جاناں تو خود سے بھی خوبصورت ہوں داستان ختم ہونے والی ہے جاناں مری آخری محبت ہوں
Jaun Elia
315 likes
More from Mirza Ghalib
کوہ کے ہوں بار خاطر گر صدا ہوں جائیے بے تکلف اے شرار جستہ کیا ہوں جائیے بیضا آسا ننگ بال و پر ہے یہ کنج قف سے از سر نو زندگی ہوں گر رہا ہوں جائیے عالم بے انتہا لگ قلب نیاز کلفت وحشت سرسری فرش پا انداز سایہ بال ہما ہوں جائیے
Mirza Ghalib
0 likes
غم نہیں ہوتا ہے نحیف و زار کو بیش از یک نہفس فکر آشیاں سے کرتے ہیں روشن شم ماتم خانہ ہم محفلیں برہم کرے ہے گنجفہ باز خیال ہیں ورق گردانی نہیرنگ یک بت خانہ ہم باوجود یک جہاں ہنگامہ پیدائی نہیں ہیں چراغان شبستان دل پروانہ ہم زوف سے ہے نے قناعت سے یہ ترک جستجو ہیں وبال تکیہ گاہ ہمت مردانہ ہم دائم الحبس اس میں ہیں لاکھوں تمناہیں سرسری جانتے ہیں سینہ پر خوں کو زندان خانہ ہم بس کہ ہیں بد مست بشکن بشکن مے خانہ ہم دیدہ ساغر کو سمجھتے ہیں خط پیمانہ ہم بس کہ ہر یک مو زلف افشاں سے ہے تار شعاع شانہ صفت کو سمجھے ہیں دست شانہ ہم مشک از خود رفتگی سے ہیں بگلزار خیال آشنا تعبیر خواب سبزہ بیگانہ ہم فرت بے خوابی سے ہیں شب ہا ہجر یار میں جوں زبان شمع داغ گرمی افسانہ ہم شام غم میں سوز عشق آتش رخسار سے پر فشاں سوختن ہیں صورت پروانہ ہم حسرت عرض تمنا یاں سے سمجھا چاہیے دو جہاں حشر زبان خشک ہیں جوں شانہ ہم کشتی عالم بطوفان تغافل دے کہ ہیں عالم آب گداز جوہر افسانہ ہم وحشت بے ربطی پیچ و خم ہستی
Mirza Ghalib
0 likes
महरम नहीं है तू ही नवा-हा-ए-राज़ का याँ वर्ना जो हिजाब है पर्दा है साज़ का रंग-ए-शिकस्ता सुब्ह-ए-बहार-ए-नज़ारा है ये वक़्त है शगुफ़्तन-ए-गुल-हा-ए-नाज़ का तू और सू-ए-ग़ैर नज़र-हा-ए-तेज़ तेज़ मैं और दुख तिरी मिज़ा-हा-ए-दराज़ का सर्फ़ा है ज़ब्त-ए-आह में मेरा वगर्ना में तोमा हूँ एक ही नफ़स-ए-जाँ-गुदाज़ का हैं बस-कि जोश-ए-बादास शीशे उछल रहे हर गोशा-ए-बिसात है सर शीशा-बाज़ का काविश का दिल करे है तक़ाज़ा कि है हुनूज़ नाख़ुन पे क़र्ज़ इस गिरह-ए-नीम-बाज़ का ताराज-ए-काविश-ए-ग़म-ए-हिज्राँ हुआ 'असद' सीना कि था दफ़ीना गुहर-हा-ए-राज़ का
Mirza Ghalib
2 likes
ہوں سے کو ہے نشاط کار کیا کیا لگ ہوں مرنا تو جینے کا مزہ کیا تجاہل پیشگی سے مدعا کیا ک ہاں تک اے سرپا ناز کیا کیا نوازش ہا بے جا دیکھتا ہوں شکایت ہا رنگیں کا گلہ کیا نگاہ بے مہابا چاہتا ہوں ت غافل ہا تمکین آزما کیا فروغ شعلہ خ سے یک نف سے ہے ہوں سے کو پا سے نامو سے وفا کیا نف سے موج محیط بے خو گرا ہے ت غافل ہا ساقی کا گلہ کیا دماغ عطر پیراہن نہیں ہے غم آوارگی ہا صبا کیا دل ہر قطرہ ہے ساز انل بحر ہم ا سے کے ہیں ہمارا پوچھنا کیا مہابا کیا ہے ہے وہ ہے وہ ضامن ادھر دیکھ شہیدان نگہ کا خوں بہا کیا سن اے غارت گر جن سے وفا سن شکست شیشہ دل کی صدا کیا کیا ک سے نے ج گر داری کا دعویٰ شکیب خاطر عاشق بھلا کیا یہ قاتل وعدہ دل پامال آزما کیوں یہ کافر فت لگ طاقت ربا کیا بلا جاں ہے تاکتے ا سے کی ہر بات عبارت کیا اشارت کیا ادا کیا
Mirza Ghalib
0 likes
حضور شاہ ہے وہ ہے وہ دائم کی ستکار ہے چمن ہے وہ ہے وہ نیروے کی ستکار ہے قد و گیسو ہے وہ ہے وہ قی سے و کوہکن کی ستکار ہے ج ہاں ہم ہیں و ہاں دار و رسن کی ستکار ہے کریںگے کوہکن کے حوصلے کا امتحاں آخر ابھی ا سے خستہ کے نسیم مصر تن کی ستکار ہے شکیب و دل پامال اہل انجمن کو کیا بو پیرہن کی بد خواں اسے یوسف کی خون کوہکن کی ستکار ہے حقیقت آیا بزم ہے وہ ہے وہ دیکھو لگ کہ یوں پھروں کہ غافل تھے شست بت ناوک فگن کی ستکار ہے رہے دل ہی ہے وہ ہے وہ تیر اچھا ج گر کے پار ہوں بہتر غرض دل وابستہ کی ستکار ہے نہیں کچھ صبحا و زنار کے فندے ہے وہ ہے وہ گیرائی وفاداری ہے وہ ہے وہ شیخ و برہمن کی ستکار ہے پڑا رہ اے تاب زلف پر شکن بے تابی سے کیا حاصل م گر پھروں تلخی کام و دہن کی ستکار ہے رگ و پہ ہے وہ ہے وہ جب اترے زہر غم تب دیکھیے کیا ہوں ابھی تو حاجت مند کی ستکار ہے حقیقت آویں گے مری گھر وعدہ کیسا دیکھنا تاکتے نئے فتنوں ہے وہ ہے وہ اب چرخ کہن کی ستکار ہے
Mirza Ghalib
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Mirza Ghalib.
Similar Moods
More moods that pair well with Mirza Ghalib's ghazal.







