حضور شاہ ہے وہ ہے وہ دائم کی ستکار ہے چمن ہے وہ ہے وہ نیروے کی ستکار ہے قد و گیسو ہے وہ ہے وہ قی سے و کوہکن کی ستکار ہے ج ہاں ہم ہیں و ہاں دار و رسن کی ستکار ہے کریںگے کوہکن کے حوصلے کا امتحاں آخر ابھی ا سے خستہ کے نسیم مصر تن کی ستکار ہے شکیب و دل پامال اہل انجمن کو کیا بو پیرہن کی بد خواں اسے یوسف کی خون کوہکن کی ستکار ہے حقیقت آیا بزم ہے وہ ہے وہ دیکھو لگ کہ یوں پھروں کہ غافل تھے شست بت ناوک فگن کی ستکار ہے رہے دل ہی ہے وہ ہے وہ تیر اچھا ج گر کے پار ہوں بہتر غرض دل وابستہ کی ستکار ہے نہیں کچھ صبحا و زنار کے فندے ہے وہ ہے وہ گیرائی وفاداری ہے وہ ہے وہ شیخ و برہمن کی ستکار ہے پڑا رہ اے تاب زلف پر شکن بے تابی سے کیا حاصل م گر پھروں تلخی کام و دہن کی ستکار ہے رگ و پہ ہے وہ ہے وہ جب اترے زہر غم تب دیکھیے کیا ہوں ابھی تو حاجت مند کی ستکار ہے حقیقت آویں گے مری گھر وعدہ کیسا دیکھنا تاکتے نئے فتنوں ہے وہ ہے وہ اب چرخ کہن کی ستکار ہے
Related Ghazal
زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی
Ali Zaryoun
102 likes
اک پل ہے وہ ہے وہ اک ص گرا کا مزہ ہم سے پوچھیے دو دن کی زندگی کا مزہ ہم سے پوچھیے بھولے ہیں رفتہ رفتہ ا نہیں مدتوں ہے وہ ہے وہ ہم قسطوں ہے وہ ہے وہ خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے آغاز کرنے والے کا مزہ آپ جانیے انجام کرنے والے کا مزہ ہم سے پوچھیے جلتے دیوں ہے وہ ہے وہ جلتے گھروں جیسی ذو ک ہاں سرکار روشنی کا مزہ ہم سے پوچھیے حقیقت جان ہی گئے کہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان سے پیار ہے آنکھوں کی مخبری کا مزہ ہم سے پوچھیے ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرح ہنسیے م گر ہنسی کا مزہ ہم سے پوچھیے ہم توبہ کر کے مر گئے بے موت اے خمار توہین مے کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے
Khumar Barabankvi
95 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا
Fahmi Badayuni
96 likes
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
More from Mirza Ghalib
رون گرا ہوئی ہے کوکب شہریار کی اتراے کیوں لگ خاک سر رہ گزاری کی جب ا سے کے دیکھنے کے لیے آئیں بادشاہ لوگوں ہے وہ ہے وہ کیوں نمود لگ ہوں لالہ زار کی بھوکے نہیں ہیں سیر گلستاں کے ہم ولے کیونکر لگ کھائیے کہ ہوا ہے بہار کی
Mirza Ghalib
0 likes
حریف زار مشکل نہیں فسوں نیاز دعا قبول ہوں یا رب کہ خیرو دراز لگ ہوں بہرزا بیابان نورد وہم وجود ہنوز تری تصور ہے وہ ہے وہ ہے نشیب و فراز وصال جلوہ تماشا ہے پر دماغ ک ہاں کہ دیجئے آئی لگ انتظار کو پرداز ہر ایک ذرہ عاشق ہے آفتاب پرست گئی لگ خاک ہوئے پر ہوا جلوہ ناز لگ پوچھ وسعت مے خا لگ جنوں تاکتے ج ہاں یہ کاسہ گردوں ہے ایک خاک انداز فریب صنعت ایجاد کا تماشا دیکھ نگاہ عک سے فروش و خیال آئی لگ ساز زی ب سے کہ جلوہ صیاد حیرت آرا ہے اڑی ہے صفحہ خاطر سے صورت پرواز ہجوم فکر سے دل مثل موج لرزے ہے کہ شیشہ چھوؤں گا و صہبا آبگین گداز سرسری سے ترک وفا کا گماں حقیقت معنی ہے کہ کھینچیے پر طائر سے صورت پرواز ہنوز اے اثر دید ننگ رسوائی نگاہ فت لگ خرام و در دو عالم باز
Mirza Ghalib
0 likes
ہم رشک کو اپنے بھی بے شرط نہیں کرتے مرتے ہیں ولے ان کی تمنا نہیں کرتے در پردہ انہیں غیر سے ہے ربط نہانی ظاہر کا یہ پردہ ہے کہ پردہ نہیں کرتے یہ بائس نومیدی نہ ارباب نہ ہوس ہے تاکتے کو برا کہتے ہیں اچھا نہیں کرتے
Mirza Ghalib
0 likes
کہتے تو ہو تم سب کہ بت غالبیہ مو آئے یک مرتبہ نزدیک تر کے کہو کوئی کہ وہ آئے ہوں کش مکش نزع میں ہاں جذب محبت کچھ کہ نہ سکوں پر وہ مری پوچھنے کو آئے ہے سائقہ و شعلہ و سیماب کا عالم آنا ہی سمجھ میں مری آتا نہیں گو آئے ظاہر ہے کہ نزدیک تر کے نہ بھاگیں گے نکیرین ہاں منہ سے مگر بادہ دوشینہ کی وعدے آئے جلاد سے ڈرتے ہیں نہ واعظ سے جھگڑتے ہم سمجھے ہوئے ہیں اسے جس بھیس میں جو آئے ہاں اہل طلب کون سنے مہ و انجم دیکھا کہ وہ ملتا نہیں اپنے ہی کو کھو آئے اپنا نہیں یہ شیوہ کہ آرام سے بیٹھیں اس در پہ نہیں بار تو کعبہ ہی کو ہو آئے کی ہم نفسوں نے اثر گریہ میں تقریر اچھے رہے آپ اس سے مگر مجھ کو ڈبو آئے اس انجمن ناز کی کیا بات ہے غالب ہم بھی گئے واں اور تری تقدیر کو رو آئے
Mirza Ghalib
0 likes
ہوں سے کو ہے نشاط کار کیا کیا لگ ہوں مرنا تو جینے کا مزہ کیا تجاہل پیشگی سے مدعا کیا ک ہاں تک اے سرپا ناز کیا کیا نوازش ہا بے جا دیکھتا ہوں شکایت ہا رنگیں کا گلہ کیا نگاہ بے مہابا چاہتا ہوں ت غافل ہا تمکین آزما کیا فروغ شعلہ خ سے یک نف سے ہے ہوں سے کو پا سے نامو سے وفا کیا نف سے موج محیط بے خو گرا ہے ت غافل ہا ساقی کا گلہ کیا دماغ عطر پیراہن نہیں ہے غم آوارگی ہا صبا کیا دل ہر قطرہ ہے ساز انل بحر ہم ا سے کے ہیں ہمارا پوچھنا کیا مہابا کیا ہے ہے وہ ہے وہ ضامن ادھر دیکھ شہیدان نگہ کا خوں بہا کیا سن اے غارت گر جن سے وفا سن شکست شیشہ دل کی صدا کیا کیا ک سے نے ج گر داری کا دعویٰ شکیب خاطر عاشق بھلا کیا یہ قاتل وعدہ دل پامال آزما کیوں یہ کافر فت لگ طاقت ربا کیا بلا جاں ہے تاکتے ا سے کی ہر بات عبارت کیا اشارت کیا ادا کیا
Mirza Ghalib
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Mirza Ghalib.
Similar Moods
More moods that pair well with Mirza Ghalib's ghazal.







