ghazalKuch Alfaaz

دامن پہ لہو ہاتھ ہے وہ ہے وہ خنجر لگ ملےگا مل جائےگا پھروں بھی حقیقت ستم گر لگ ملےگا پتھر لیے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ جسے ڈھونڈ رہا ہے حقیقت تجھ کو تری ذات سے باہر لگ ملےگا آنکھوں ہے وہ ہے وہ بسا لو یہ ابھرتا ہوا سورج دن ڈھلنے لگے گا تو یہ منظر لگ ملےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے ہی گھر ہے وہ ہے وہ ہوں م گر سوچ رہا ہوں کیا مجھ کو مری گھر ہے وہ ہے وہ میرا گھر لگ ملےگا گزرو لگ کسی بستی سے ذرا بھی سے بدل کر نقشے ہے وہ ہے وہ تمہیں شہر ستم گر لگ ملےگا

Related Ghazal

کیا بادلوں ہے وہ ہے وہ سفر زندگی بھر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر بنایا لگ گھر زندگی بھر سبھی زندگی کے مزے لوٹتے ہیں لگ آیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ہنر زندگی بھر محبت رہی چار دن زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہا چار دن کا اثر زندگی بھر

Anwar Shaoor

95 likes

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی

Ali Zaryoun

102 likes

پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا

Fahmi Badayuni

96 likes

More from Ameer Qazalbash

فکر غربت ہے لگ اندیشہ تنہائی ہے زندگی کتنے حوادث سے گزر آئی ہے لوگ ج سے حال ہے وہ ہے وہ مرنے کی دعا کرتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے حال ہے وہ ہے وہ جینے کی قسم کھائی ہے ہم لگ سقراط لگ منصور لگ عیسی لیکن جو بھی قاتل ہے ہمارا ہی تمنا ئی ہے زندگی اور ہیں کتنے تری چہرے یہ بتا تجھ سے اک عمر کی حالانکہ شنا سائی ہے کون ناواقف انجام تبسم ہے امیر مری حالات پہ یہ ک سے کو ہنسی آئی ہے

Ameer Qazalbash

2 likes

خوف بن کر یہ خیال آتا ہے 9 مجھ کو دشت کر جائےگا اک روز سمندر مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ سرپا ہوں خبر نامہ امروز جہاں کل بھلا دے نہ یہ دنیا کہیں پڑھ کر مجھ کو ہر نفس مجھ ہے وہ ہے وہ تغیر کی شفافیت لرزاں مرتسم کر نہ سکا کوئی بھی منظر مجھ کو اپنے ساحل پہ ہے وہ ہے وہ خود تشنا دہن بیٹھا ہوں دیکھ دریا کی ترائی سے نکل کر مجھ کو مری سائے ہے وہ ہے وہ بھی مجھ کو نہیں رہنے دےگا میرے ہی گھر ہے وہ ہے وہ رکھے گا کوئی بے گھر مجھ کو کارگر کوئی بھی تلخی تقریر نہ ہونے دےگا کیا مقدر ہے کہ لے جائےگا در در مجھ کو کام آوےگی عشق دل نہ بیدار نگاہی بھی امیر خواب کہ جائےگا اک دن میرا پیکر مجھ کو

Ameer Qazalbash

0 likes

ہر گام حادثہ ہے ٹھہر جائیے جناب رستہ ا گر ہوں یاد تو گھر جائیے جناب زندہ اوی سے کے تلاطم ہیں سامنے خوابوں کی کشتیوں سے اتر جائیے جناب انصاف کی صلیب ہوں سچائیوں کا زہر مجھ سے ملے بغیر گزر جائیے جناب دن کا سفر تو کٹ گیا تو سورج کے ساتھ ساتھ اب شب کی صورت آشنا ہے وہ ہے وہ بکھر جائیے جناب کوئی چرا کے لے گیا تو صدیوں کا اعتقاد منبر کی سیڑھیوں سے اتر جائیے جناب

Ameer Qazalbash

2 likes

حقیقت سرفری ہوا تھی سنبھلنا پڑا مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ آخری چراغ تھا جلنا پڑا مجھے محسو سے کر رہا تھا اسے اپنے آ سے پا سے اپنا خیال خود ہی بدلنا پڑا مجھے سورج نے سیاہ بخت سیاہ بخت اجا گر کیا تو تھا لیکن تمام رات پگھلنا پڑا مجھے موزو گفتگو تھی مری خموشی کہی جو زہر پی چکا تھا اگلنا پڑا مجھے کچھ دور تک تو چنو کوئی مری ساتھ تھا پھروں اپنے ساتھ آپ ہی چلنا پڑا مجھے

Ameer Qazalbash

2 likes

پائیں ہر ایک راہ گزر پر اداسیاں نکلی ہوئی ہیں کب سے سفر پر اداسیاں خوابیدہ شہر جاگنے والا ہے لوٹ آؤ بیٹھی ہوئی ہیں شام سے گھر پر اداسیاں ہے وہ ہے وہ ہے وہ خوف سے لرزتا رہا پڑھ نہیں سکا پھیلی ہوئی تھیں ایک خبر پر اداسیاں سورج کے ہاتھ سبز قباؤں تک آ گئے اب ہیں ی ہاں ہر ایک شجر پر اداسیاں اپنے بھی خط و خال نگا ہوں ہے وہ ہے وہ اب نہیں ا سے طرح چھا گئی ہیں نظر پر اداسیاں پھیلا رہا ہے کون کبھی سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ خوابوں کے ایک ایک ن گر پر اداسیاں سب لوگ بن گئے ہیں ا گر اجنبی تو کیا چھوڑ آئیںگی مجھے مری در پر اداسیاں

Ameer Qazalbash

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ameer Qazalbash.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ameer Qazalbash's ghazal.