ghazalKuch Alfaaz

dhanak dhanak miri poron ke khvab kar dega vo lams mere badan ko gulab kar dega qaba-e-jism ke har taar se guzarta hua kiran ka pyaar mujhe aftab kar dega junun-pasand hai dil aur tujh tak aane men badan ko naav lahu ko chanab kar dega main sach kahungi magar phir bhi haar jaungi vo jhuut bolega aur la-javab kar dega ana-parast hai itna ki baat se pahle vo uth ke band miri har kitab kar dega sukut-e-shahr-e-sukhan men vo phuul sa lahja samaaton ki faza khvab khvab kar dega isi tarah se agar chahta raha paiham sukhan-vari men mujhe intikhab kar dega miri tarah se koi hai jo zindagi apni tumhari yaad ke naam intisab kar dega dhanak dhanak meri poron ke khwab kar dega wo lams mere badan ko gulab kar dega qaba-e-jism ke har tar se guzarta hua kiran ka pyar mujhe aaftab kar dega junun-pasand hai dil aur tujh tak aane mein badan ko naw lahu ko chanab kar dega main sach kahungi magar phir bhi haar jaungi wo jhut bolega aur la-jawab kar dega ana-parast hai itna ki baat se pahle wo uth ke band meri har kitab kar dega sukut-e-shahr-e-sukhan mein wo phul sa lahja samaaton ki faza khwab khwab kar dega isi tarah se agar chahta raha paiham sukhan-wari mein mujhe intikhab kar dega meri tarah se koi hai jo zindagi apni tumhaari yaad ke nam intisab kar dega

Related Ghazal

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

More from Parveen Shakir

اب اتنی سادگی لائیں ک ہاں سے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کی خیر مانگے آ سماں سے ا گر چاہیں تو حقیقت دیوار کر دیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب کچھ نہیں کہنا زبان سے ستارہ ہی نہیں جب ساتھ دیتا تو کشتی کام لے کیا بادباں سے بھٹکنے سے ملے فرصت تو پوچھیں پتا منزل کا برق سے برق برق کی حاصل رہی ہے سو ہے آزاد رازداں سے ہوا کو راز داں ہم نے بنایا اور اب ناراض خوشبو کے بیاں سے ضروری ہوں گئی ہے دل کی ظفر جلوے فنا فی ال عشق جاتے ہیں مکان سے خیرو ہونا چاہتے تھے م گر فرصت لگ تھی کار ج ہاں سے وگر لگ فصل گل کی دودمان کیا تھی بڑی حکمت ہے وابستہ اڑائے سے کسی نے بات کی تھی ہن سے کے شاید زمانے بھر سے ہیں ہم خود گماں سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک اک تیر پہ خود ڈھال بنتی ا گر ہوتا حقیقت دشمن کی کماں سے جو سبزہ دیکھ کر خیمے لگائیں ا نہیں تکلیف کیوں پہنچے اڑائے سے جو اپنے پیڑ جلتے چھوڑ جائیں ا نہیں کیا حق کہ روٹھیں باغباں سے

Parveen Shakir

0 likes

بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا ہے وہ ہے وہ ہے وہ سمندر دیکھتی ہوں جاناں کنارہ دیکھنا یوں اندھیرا بھی بے حد آساں لگ تھا ا سے سے م گر جاتے جاتے ا سے کا حقیقت مڑ کر دوبارہ دیکھنا ک سے شباہت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند اے شب ہجراں ذرا اپنا ستارہ دیکھنا کیا خوشگوار ہے کہ جن کے نام پر پسپا ہوئے ان ہی لوگوں کو مقابل ہے وہ ہے وہ صف آرا دیکھنا جب بنام دل گواہی سر کی مانگی جائے گی خون ہے وہ ہے وہ ڈوبا ہوا پرچم ہمارا دیکھنا جیتنے ہے وہ ہے وہ بھی ج ہاں جی کا زیاں پہلے سے ہے ایسی بازی ہارنے ہے وہ ہے وہ کیا خسارہ دیکھنا آئینے کی آنکھ ہی کچھ کم لگ تھی مری لیے جانے اب کیا کیا دکھائےگا تمہارا دیکھنا ایک مشت خاک اور حقیقت بھی ہوا کی زد ہے وہ ہے وہ ہے زندگی کی قیامت کا استعارہ دیکھنا

Parveen Shakir

1 likes

اب اتنی سادگی لائیں ک ہاں سے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کی خیر مانگے آ سماں سے ا گر چاہیں تو حقیقت دیوار کر دیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب کچھ نہیں کہنا زبان سے ستارہ ہی نہیں جب ساتھ دیتا تو کشتی کام لے کیا بادباں سے بھٹکنے سے ملے فرصت تو پوچھیں پتا منزل کا برق سے برق برق کی حاصل رہی ہے سو ہے آزاد رازداں سے ہوا کو راز داں ہم نے بنایا اور اب ناراض خوشبو کے بیاں سے ضروری ہوں گئی ہے دل کی ظفر جلوے فنا فی ال عشق جاتے ہیں مکان سے خیرو ہونا چاہتے تھے م گر فرصت لگ تھی کار ج ہاں سے وگر لگ فصل گل کی دودمان کیا تھی بڑی حکمت ہے وابستہ اڑائے سے کسی نے بات کی تھی ہن سے کے شاید زمانے بھر سے ہیں ہم خود گماں سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک اک تیر پہ خود ڈھال بنتی ا گر ہوتا حقیقت دشمن کی کماں سے جو سبزہ دیکھ کر خیمے لگائیں ا نہیں تکلیف کیوں پہنچے اڑائے سے جو اپنے پیڑ جلتے چھوڑ جائیں ا نہیں کیا حق کہ روٹھیں باغباں سے

Parveen Shakir

0 likes

اب بھلا چھوڑ کے گھر کیا کرتے شام کے سمے سفر کیا کرتے تیری مصروفیتیں جانتے ہیں اپنے آنے کی خبر کیا کرتے جب ستارے تم ہی نہیں مل پائے لے کے ہم شم سے و قمر کیا کرتے حقیقت مسافر ہی کھلی دھوپ کا تھا سائے پھیلا کے شجر کیا کرتے خاک ہی اول و آخر ٹھہری کر کے زرے کو گوہر کیا کرتے رائے پہلے سے بنا لی تو نے دل ہے وہ ہے وہ اب ہم تری گھر کیا کرتے عشق نے سارے سلیقے بخشی حسن سے کسب ہنر کیا کرتے

Parveen Shakir

1 likes

چراغ راہ بجھا کیا کہ رہنما بھی گیا تو ہوا کے ساتھ مسافر کا نقش پا بھی گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھول چنتی رہی اور مجھے خبر لگ ہوئی حقیقت بے وجہ آ کے مری شہر سے چلا بھی گیا تو بے حد عزیز صحیح ا سے کو مری دلداری م گر یہ ہے کہ کبھی دل میرا دکھا بھی گیا تو اب ان دریچوں پہ گہرے دبیز پردے ہیں حقیقت تانک جھانک کا معصوم سلسلہ بھی گیا تو سب آئی مری عیادت کو حقیقت بھی آیا تھا جو سب گئے تو میرا درد آشنا بھی گیا تو یہ غربتیں مری آنکھوں ہے وہ ہے وہ کیسی اتری ہیں کہ خواب بھی مری رخصت ہیں رتجگا بھی گیا تو

Parveen Shakir

3 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Parveen Shakir.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Parveen Shakir's ghazal.