ghazalKuch Alfaaz

دھوپ کے بھیتر چھپ کر نکلی تاریکی سائے بھر نکلی رات گری تھی اک گڈھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ شام کا ہاتھ پکڑ کر نکلی رویا ا سے سے مل کر رویا چاہت بھی سے بدل کر نکلی پھول تو پھولوں سا ہونا تھا تتلی کیسی پتھر نکلی سوت ہیں گھر کے ہر کونے ہے وہ ہے وہ ہے وہ مکڑی پوری بُن کر نکلی تازہ دم ہونے کو اداسی لے کر غم کا شاور نکلی جاں نکلی ا سے کے پہلو ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت ہی میرا مگہر نکلی ہجر کی شب سے گھبراتے تھے یار یہی شب بہتر نکلی جب بھی چور مری گھر آئی ایک ہنسی ہی زیور نکلی آتش کندن روح ملی ہے عمر کی آگ ہے وہ ہے وہ جل کر نکلی

Related Ghazal

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

کبھی یوں بھی آ مری آنکھ ہے وہ ہے وہ کہ مری نظر کو خبر لگ ہوں مجھے ایک رات نواز دے م گر ا سے کے بعد سحر لگ ہوں حقیقت بڑا رحیم و کریم ہے مجھے یہ صفت بھی عطا کرے تجھے بھولنے کی دعا کروں تو مری دعا ہے وہ ہے وہ اثر لگ ہوں مری بازوؤں ہے وہ ہے وہ تھکی تھکی ابھی محو خواب ہے چاندنی لگ اٹھے ستاروں کی پالکی ابھی آہٹوں کا گزر لگ ہوں یہ غزل کہ چنو ہرن کی آنکھ ہے وہ ہے وہ پچھلی رات کی چاندنی لگ بجھے خرابے کی روشنی کبھی بے چراغ یہ گھر لگ ہوں کبھی دن کی دھوپ ہے وہ ہے وہ جھوم کے کبھی شب کے پھول کو چوم کے یوں ہی ساتھ ساتھ چلیں صدا کبھی ختم اپنا سفر لگ ہوں

Bashir Badr

18 likes

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

More from Swapnil Tiwari

یوں ہے وہ ہے وہ دل کا خیال رکھتا ہوں ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تیرا خیال رکھتا ہوں تیری مرضی کا بھی خیال نہیں تیرا اتنا خیال رکھتا ہوں اور مر جاتا ہے وہی بیمار جس کا اچھا خیال رکھتا ہوں تجھ کو پھروں بھی خراب ہونا ہے پھروں بھی تیرا خیال رکھتا ہوں

Swapnil Tiwari

3 likes

حقیقت لوٹ آئی ہے آف سے سے ہجر ختم ہوا ہمارے گال پہ اک ک سے سے ہجر ختم ہوا پھروں ایک آگ لگی ج سے ہے وہ ہے وہ وصل کی تھی چمک خیال یار کی ماچ سے سے ہجر ختم ہوا تھا بزم دنیا ہے وہ ہے وہ مشکل ہمارا ملنا سو نکل کے آ گئے مجل سے سے ہجر ختم ہوا بھلی شراب ہے یہ وصل نام ہے ا سے کا ب سے ایک جام پیا ج سے سے ہجر ختم ہوا تمہارے ہجر ہے وہ ہے وہ سو وصل سے گزر کر بھی یہ سوچتا ہوں ک ہاں ک سے سے ہجر ختم ہوا

Swapnil Tiwari

2 likes

نیند سے آ کر بیٹھا ہے خواب مری گھر بیٹھا ہے عک سے میرا آئینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ لے کر پتھر بیٹھا ہے پلکیں جھکی ہیں صحرا کی ج سے پہ سمندر بیٹھا ہے ایک بگولا یادوں کا کھا کر چکر بیٹھا ہے ا سے کی نیندوں پر اک خواب تتلی بن کر بیٹھا ہے رات کی ٹیبل بک کر کے چاند ڈنر پر بیٹھا ہے اندھیارا خموشی کی اوڑھ کے چادر بیٹھا ہے آتش دھوپ گئی کب کی گھر ہے وہ ہے وہ کیونکر بیٹھا ہے

Swapnil Tiwari

2 likes

یہ دھوپ گری ہے جو مری لان ہے وہ ہے وہ آ کر لے جائے گی جل گرا ہی اسے شام اٹھا کر سینے ہے وہ ہے وہ چھپا شام کی آنکھوں سے بچا کر اک لہر کو ہم لائے سمندر سے اٹھا کر ہاں سمے سے پہلے ہی ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دےگی اسے صبح رکھی لگ گئی چاند سے گر شب یہ دبا کر اک صبح بھلی سی مری نزدیک سے گزری ہے وہ ہے وہ ہے وہ بیٹھا رہا ہجر کی اک رات بچھا کر پھروں صبح سے ہی آج الم دیکھ رہے ہیں یادوں کی کوئی فلم مری دل ہے وہ ہے وہ چلا کر پھروں چائے ہے وہ ہے وہ بسکٹ کی طرح بھوکھی سی یہ شام کھا جائے گی سورج کو سمندر ہے وہ ہے وہ ڈوبا کر

Swapnil Tiwari

0 likes

یہ جو مسلسل ہنستے ہوں کیوں ہنستے ہوں جاناں یوں بھی خوش لگتے ہوں کیوں ہنستے ہوں چھت سے نیچے دیکھ کے کیوں ہوتے ہوں خوش جب جاناں رسی دیکھتے ہوں کیوں ہنستے ہوں کوئی جو پوچھے حال تو کہتے ہوں اچھا ہوں گر جاناں سچمچ اچھے ہوں کیوں ہنستے ہوں

Swapnil Tiwari

3 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Swapnil Tiwari.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Swapnil Tiwari's ghazal.