حقیقت لوٹ آئی ہے آف سے سے ہجر ختم ہوا ہمارے گال پہ اک ک سے سے ہجر ختم ہوا پھروں ایک آگ لگی ج سے ہے وہ ہے وہ وصل کی تھی چمک خیال یار کی ماچ سے سے ہجر ختم ہوا تھا بزم دنیا ہے وہ ہے وہ مشکل ہمارا ملنا سو نکل کے آ گئے مجل سے سے ہجر ختم ہوا بھلی شراب ہے یہ وصل نام ہے ا سے کا ب سے ایک جام پیا ج سے سے ہجر ختم ہوا تمہارے ہجر ہے وہ ہے وہ سو وصل سے گزر کر بھی یہ سوچتا ہوں ک ہاں ک سے سے ہجر ختم ہوا
Related Ghazal
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا
Hasan Abbasi
235 likes
جاناں حقیقت نہیں ہوں حسرت ہوں جو ملے خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت دولت ہوں جاناں ہوں خوشبو کے خواب کی خوشبو اور اتنے ہی بے مروت ہوں ک سے طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں جاناں مری زندگی کی عادت ہوں ک سے لیے دیکھتے ہوں آئی لگ جاناں تو خود سے بھی خوبصورت ہوں داستان ختم ہونے والی ہے جاناں مری آخری محبت ہوں
Jaun Elia
315 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
More from Swapnil Tiwari
نیند سے آ کر بیٹھا ہے خواب مری گھر بیٹھا ہے عک سے میرا آئینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ لے کر پتھر بیٹھا ہے پلکیں جھکی ہیں صحرا کی ج سے پہ سمندر بیٹھا ہے ایک بگولا یادوں کا کھا کر چکر بیٹھا ہے ا سے کی نیندوں پر اک خواب تتلی بن کر بیٹھا ہے رات کی ٹیبل بک کر کے چاند ڈنر پر بیٹھا ہے اندھیارا خموشی کی اوڑھ کے چادر بیٹھا ہے آتش دھوپ گئی کب کی گھر ہے وہ ہے وہ کیونکر بیٹھا ہے
Swapnil Tiwari
2 likes
دھوپ کے بھیتر چھپ کر نکلی تاریکی سائے بھر نکلی رات گری تھی اک گڈھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ شام کا ہاتھ پکڑ کر نکلی رویا ا سے سے مل کر رویا چاہت بھی سے بدل کر نکلی پھول تو پھولوں سا ہونا تھا تتلی کیسی پتھر نکلی سوت ہیں گھر کے ہر کونے ہے وہ ہے وہ ہے وہ مکڑی پوری بُن کر نکلی تازہ دم ہونے کو اداسی لے کر غم کا شاور نکلی جاں نکلی ا سے کے پہلو ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت ہی میرا مگہر نکلی ہجر کی شب سے گھبراتے تھے یار یہی شب بہتر نکلی جب بھی چور مری گھر آئی ایک ہنسی ہی زیور نکلی آتش کندن روح ملی ہے عمر کی آگ ہے وہ ہے وہ جل کر نکلی
Swapnil Tiwari
1 likes
یوں ہے وہ ہے وہ دل کا خیال رکھتا ہوں ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تیرا خیال رکھتا ہوں تیری مرضی کا بھی خیال نہیں تیرا اتنا خیال رکھتا ہوں اور مر جاتا ہے وہی بیمار جس کا اچھا خیال رکھتا ہوں تجھ کو پھروں بھی خراب ہونا ہے پھروں بھی تیرا خیال رکھتا ہوں
Swapnil Tiwari
3 likes
مزاق سہنا نہیں ہے ہنسی نہیں کرنی ادا سے رہنے ہے وہ ہے وہ کوئی کمی نہیں کرنی یہ زندگی جو پکارے تو شک سا ہوتا ہے کہی ابھی تو مجھے خود کشی نہیں کرنی گناہ عشق رہا ہوتے ہی کریںگے پھروں گواہ بننا نہیں مخبری نہیں کرنی بڑے ہی نبھائیے ہے وہ ہے وہ یہ کہ کے ا سے نے وصل کیا مجھے تو جاناں سے کوئی بات ہی نہیں کرنی
Swapnil Tiwari
5 likes
ٹیبل لیمپ جلا رہتا ہے کونا ایک جگا رہتا ہے دو لوگوں کے بھی گھر ہے وہ ہے وہ مجھ سے کوئی لگ کوئی خفا رہتا ہے ہر دستک بیکار ہوئی ہے کیا ا سے گھر ہے وہ ہے وہ خدا رہتا ہے شرار نہیں ہے درد کا ٹریفک میرا زخم ہرا رہتا ہے حادثے بھی ہوتے رہتے ہیں میرا دل بھی لگا رہتا ہے
Swapnil Tiwari
9 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Swapnil Tiwari.
Similar Moods
More moods that pair well with Swapnil Tiwari's ghazal.







