ghazalKuch Alfaaz

مزاق سہنا نہیں ہے ہنسی نہیں کرنی ادا سے رہنے ہے وہ ہے وہ کوئی کمی نہیں کرنی یہ زندگی جو پکارے تو شک سا ہوتا ہے کہی ابھی تو مجھے خود کشی نہیں کرنی گناہ عشق رہا ہوتے ہی کریںگے پھروں گواہ بننا نہیں مخبری نہیں کرنی بڑے ہی نبھائیے ہے وہ ہے وہ یہ کہ کے ا سے نے وصل کیا مجھے تو جاناں سے کوئی بات ہی نہیں کرنی

Related Ghazal

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے

Tehzeeb Hafi

292 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے

Waseem Barelvi

107 likes

More from Swapnil Tiwari

یوں ہے وہ ہے وہ دل کا خیال رکھتا ہوں ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تیرا خیال رکھتا ہوں تیری مرضی کا بھی خیال نہیں تیرا اتنا خیال رکھتا ہوں اور مر جاتا ہے وہی بیمار جس کا اچھا خیال رکھتا ہوں تجھ کو پھروں بھی خراب ہونا ہے پھروں بھی تیرا خیال رکھتا ہوں

Swapnil Tiwari

3 likes

یہ دھوپ گری ہے جو مری لان ہے وہ ہے وہ آ کر لے جائے گی جل گرا ہی اسے شام اٹھا کر سینے ہے وہ ہے وہ چھپا شام کی آنکھوں سے بچا کر اک لہر کو ہم لائے سمندر سے اٹھا کر ہاں سمے سے پہلے ہی ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دےگی اسے صبح رکھی لگ گئی چاند سے گر شب یہ دبا کر اک صبح بھلی سی مری نزدیک سے گزری ہے وہ ہے وہ ہے وہ بیٹھا رہا ہجر کی اک رات بچھا کر پھروں صبح سے ہی آج الم دیکھ رہے ہیں یادوں کی کوئی فلم مری دل ہے وہ ہے وہ چلا کر پھروں چائے ہے وہ ہے وہ بسکٹ کی طرح بھوکھی سی یہ شام کھا جائے گی سورج کو سمندر ہے وہ ہے وہ ڈوبا کر

Swapnil Tiwari

0 likes

حقیقت لوٹ آئی ہے آف سے سے ہجر ختم ہوا ہمارے گال پہ اک ک سے سے ہجر ختم ہوا پھروں ایک آگ لگی ج سے ہے وہ ہے وہ وصل کی تھی چمک خیال یار کی ماچ سے سے ہجر ختم ہوا تھا بزم دنیا ہے وہ ہے وہ مشکل ہمارا ملنا سو نکل کے آ گئے مجل سے سے ہجر ختم ہوا بھلی شراب ہے یہ وصل نام ہے ا سے کا ب سے ایک جام پیا ج سے سے ہجر ختم ہوا تمہارے ہجر ہے وہ ہے وہ سو وصل سے گزر کر بھی یہ سوچتا ہوں ک ہاں ک سے سے ہجر ختم ہوا

Swapnil Tiwari

2 likes

ٹیبل لیمپ جلا رہتا ہے کونا ایک جگا رہتا ہے دو لوگوں کے بھی گھر ہے وہ ہے وہ مجھ سے کوئی لگ کوئی خفا رہتا ہے ہر دستک بیکار ہوئی ہے کیا ا سے گھر ہے وہ ہے وہ خدا رہتا ہے شرار نہیں ہے درد کا ٹریفک میرا زخم ہرا رہتا ہے حادثے بھی ہوتے رہتے ہیں میرا دل بھی لگا رہتا ہے

Swapnil Tiwari

9 likes

نیند سے آ کر بیٹھا ہے خواب مری گھر بیٹھا ہے عک سے میرا آئینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ لے کر پتھر بیٹھا ہے پلکیں جھکی ہیں صحرا کی ج سے پہ سمندر بیٹھا ہے ایک بگولا یادوں کا کھا کر چکر بیٹھا ہے ا سے کی نیندوں پر اک خواب تتلی بن کر بیٹھا ہے رات کی ٹیبل بک کر کے چاند ڈنر پر بیٹھا ہے اندھیارا خموشی کی اوڑھ کے چادر بیٹھا ہے آتش دھوپ گئی کب کی گھر ہے وہ ہے وہ کیونکر بیٹھا ہے

Swapnil Tiwari

2 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Swapnil Tiwari.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Swapnil Tiwari's ghazal.