ghazalKuch Alfaaz

دل ہے وہ ہے وہ اور تو کیا رکھا ہے تیرا درد چھپا رکھا ہے اتنے دکھوں کی تیز ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل کا دیپ جلا رکھا ہے دھوپ سے چہروں نے دنیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا اندھیر مچا رکھا ہے ا سے نگری کے کچھ لوگوں نے دکھ کا نام دوا رکھا ہے وعدہ یار کی بات لگ چھیڑو یہ دھوکہ بھی کھا رکھا ہے بھول بھی جاؤ بیتی باتیں ان باتوں ہے وہ ہے وہ کیا رکھا ہے چپ چپ کیوں رہتے ہوں ناصر یہ کیا روگ لگا رکھا ہے

Nasir Kazmi11 Likes

Related Ghazal

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

More from Nasir Kazmi

جب ذرا تیز ہوا ہوتی ہے کیسی سنسان فضا ہوتی ہے ہم نے دیکھے ہیں وہ سناٹے بھی جب ہر اک سانس صدا ہوتی ہے دل کا یہ حال ہوا تیرے بعد جیسے ویران آئینہ رو ہوتی ہے رونا آتا ہے ہمیں بھی لیکن اس میں توہین وفا ہوتی ہے منہ اندھیرے کبھی اٹھ کر دیکھو کیا تر و تازہ ہوا ہوتی ہے اجنبی دھیان کی ہر موج کے ساتھ کس قدر تیز ہوا ہوتی ہے غم کے بے نور گزرگاہوں میں اک کرن ذوق فضا ہوتی ہے غم گسار سفر راہ وفا مزہ آبلا پا ہوتی ہے گلشن فکر کی منہ بند کلی شب مہتاب میں وا ہوتی ہے جب نکلتی ہے نگار شب گل منہ پہ شبنم کی ردا ہوتی ہے حادثہ ہے کہ خزاں سے پہلے بو گل گل سے جدا ہوتی ہے اک نیا دور جنم لیتا ہے ایک برزخ فنا ہوتی ہے جب کوئی غم نہیں ہوتا ناصر بےکلی دل کی سوا ہوتی ہے

Nasir Kazmi

2 likes

ہے وہ ہے وہ نے جب لکھنا سیکھا تھا پہلے تیرا نام لکھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت دل پامال سمیم ہوں ج سے نے بار امانت سر پہ لیا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت اسم عظیم ہوں ج سے کو جن و ملک نے سجدہ کیا تھا تو نے کیوں میرا ہاتھ لگ پکڑا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب رستے سے بھٹکا تھا جو پایا ہے حقیقت تیرا ہے جو کھویا حقیقت بھی تیرا تھا تجھ بن ساری عمر گزاری لوگ کہی گے تو میرا تھا پہلی بارش بھیجنے والے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری درشن کا پیاسا تھا

Nasir Kazmi

9 likes

शहर सुनसान है किधर जाएँ ख़ाक हो कर कहीं बिखर जाएँ रात कितनी गुज़र गई लेकिन इतनी हिम्मत नहीं कि घर जाएँ यूँँ तेरे ध्यान से लरज़ता हूँ जैसे पत्ते हवा से डर जाएँ उन उजालों की धुन में फिरता हूँ छब दिखाते ही जो गुज़र जाएँ रैन अँधेरी है और किनारा दूर चाँद निकले तो पार उतर जाएँ

Nasir Kazmi

1 likes

ناصر کیا کہتا پھرتا ہے کچھ لگ سنو تو بہتر ہے دیوا لگ ہے دیوانے کے منا لگ لگو تو بہتر ہے کل جو تھا حقیقت آج نہیں جو آج ہے کل مٹ جائےگا روخی سوخی جو مل جائے شکر کروں تو بہتر ہے کل یہ تاب و توں لگ رہےگی ٹھنڈا ہوں جائےگا لہو نام خدا ہوں جوان ابھی کچھ کر گزرو لگ تو بہتر ہے کیا جانے کیا رت بدلے حالات کا کوئی ٹھیک نہیں اب کے سفر ہے وہ ہے وہ جاناں بھی ہمارے ساتھ چلو تو بہتر ہے کپڑے بدل کر بال بنا کر ک ہاں چلے ہوں ک سے کے لیے رات بے حد کالی ہے ناصر گھر ہے وہ ہے وہ رہو تو بہتر ہے

Nasir Kazmi

8 likes

نئے کپڑے بدل کر جاؤں ک ہاں اور بال بناؤں ک سے کے لیے حقیقت بے وجہ تو شہر ہی چھوڑ گیا تو ہے وہ ہے وہ باہر جاؤں ک سے کے لیے ج سے دھوپ کی دل ہے وہ ہے وہ ٹھنڈک تھی حقیقت دھوپ اسی کے ساتھ گئی ان جلتی بلتی گلیوں ہے وہ ہے وہ اب خاک اڑاؤں ک سے کے لیے حقیقت شہر ہے وہ ہے وہ تھا تو ا سے کے لیے اوروں سے بھی ملنا پڑتا تھا اب ایسے ویسے لوگوں کے ہے وہ ہے وہ ناز اٹھاؤں ک سے کے لیے اب شہر ہے وہ ہے وہ ا سے کا بدل ہی نہیں کوئی ویسا جان غزل ہی نہیں ایوان غزل ہے وہ ہے وہ لفظوں کے گل دان سجاؤں ک سے کے لیے مدت سے کوئی آیا لگ گیا تو سنسان پڑی ہے گھر کی فضا ان خالی کمروں ہے وہ ہے وہ ناصر اب شمع جلاؤں ک سے کے لیے اب شہر ہے وہ ہے وہ ا سے کا بدل ہی نہیں کوئی ویسا جان غزل ہی نہیں ایوان غزل ہے وہ ہے وہ لفظوں کے گل دان سجاؤں ک سے کے لیے مدت سے کوئی آیا لگ گیا تو سنسان پڑی ہے گھر کی فضا ان خالی کمروں ہے وہ ہے وہ ناصر اب شمع جلاؤں ک سے کے لیے

Nasir Kazmi

9 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Nasir Kazmi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Nasir Kazmi's ghazal.