نئے کپڑے بدل کر جاؤں ک ہاں اور بال بناؤں ک سے کے لیے حقیقت بے وجہ تو شہر ہی چھوڑ گیا تو ہے وہ ہے وہ باہر جاؤں ک سے کے لیے ج سے دھوپ کی دل ہے وہ ہے وہ ٹھنڈک تھی حقیقت دھوپ اسی کے ساتھ گئی ان جلتی بلتی گلیوں ہے وہ ہے وہ اب خاک اڑاؤں ک سے کے لیے حقیقت شہر ہے وہ ہے وہ تھا تو ا سے کے لیے اوروں سے بھی ملنا پڑتا تھا اب ایسے ویسے لوگوں کے ہے وہ ہے وہ ناز اٹھاؤں ک سے کے لیے اب شہر ہے وہ ہے وہ ا سے کا بدل ہی نہیں کوئی ویسا جان غزل ہی نہیں ایوان غزل ہے وہ ہے وہ لفظوں کے گل دان سجاؤں ک سے کے لیے مدت سے کوئی آیا لگ گیا تو سنسان پڑی ہے گھر کی فضا ان خالی کمروں ہے وہ ہے وہ ناصر اب شمع جلاؤں ک سے کے لیے اب شہر ہے وہ ہے وہ ا سے کا بدل ہی نہیں کوئی ویسا جان غزل ہی نہیں ایوان غزل ہے وہ ہے وہ لفظوں کے گل دان سجاؤں ک سے کے لیے مدت سے کوئی آیا لگ گیا تو سنسان پڑی ہے گھر کی فضا ان خالی کمروں ہے وہ ہے وہ ناصر اب شمع جلاؤں ک سے کے لیے
Related Ghazal
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے جانے کیسے لوگ حقیقت ہوں گے جو ا سے کو بھاتے ہوں گے شام ہوئے خوش باش ی ہاں کے مری پا سے آ جاتے ہیں مری بجھنے کا نہظارہ کرنے آ جاتے ہوں گے حقیقت جو لگ آنے والا ہے نا ا سے سے مجھ کو زار تھا آنے والوں سے کیا زار آتے ہیں آتے ہوں گے ا سے کی یاد کی باد صبا ہے وہ ہے وہ اور تو کیا ہوتا ہوگا یوںہی مری بال ہیں بکھرے اور بکھر جاتے ہوں گے یاروں کچھ تو ذکر کروں جاناں ا سے کی خوشگوار بان ہوں کا حقیقت جو سمٹتے ہوں گے ان ہے وہ ہے وہ حقیقت تو مر جاتے ہوں گے میرا سان سے اکھڑتے ہی سب بین کریںگے روئیںگے زبان مری بعد بھی زبان سان سے لیے جاتے ہوں گے
Jaun Elia
88 likes
چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا
Waseem Barelvi
103 likes
حقیقت زما لگ گزر گیا تو کب کا تھا جو دیوا لگ مر گیا تو کب کا ڈھونڈتا تھا جو اک نئی دنیا لوٹ کے اپنے گھر گیا تو کب کا حقیقت جو لایا تھا ہم کو دریا تک پار اکیلے اتر گیا تو کب کا ا سے کا جو حال ہے وہی جانے اپنا تو زخم بھر گیا تو کب کا خواب در خواب تھا جو شیرازہ اب ک ہاں ہے بکھر گیا تو کب کا
Javed Akhtar
62 likes
ڈر ہے گھر ہے وہ ہے وہ کیسے بولا جائےگا چھوڑو جو بھی ہوگا دیکھا جائےگا نمبر لکھکر ہاتھوں ہے وہ ہے وہ پکڑا دینا تری گھر اک چھوٹا بچہ جائےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے ا سے کا چہرہ پڑھکر جاؤں گا میرا پیپر سب سے اچھا جائےگا
Vishal Singh Tabish
33 likes
More from Nasir Kazmi
دل ہے وہ ہے وہ اور تو کیا رکھا ہے تیرا درد چھپا رکھا ہے اتنے دکھوں کی تیز ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل کا دیپ جلا رکھا ہے دھوپ سے چہروں نے دنیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا اندھیر مچا رکھا ہے ا سے نگری کے کچھ لوگوں نے دکھ کا نام دوا رکھا ہے وعدہ یار کی بات لگ چھیڑو یہ دھوکہ بھی کھا رکھا ہے بھول بھی جاؤ بیتی باتیں ان باتوں ہے وہ ہے وہ کیا رکھا ہے چپ چپ کیوں رہتے ہوں ناصر یہ کیا روگ لگا رکھا ہے
Nasir Kazmi
11 likes
جب ذرا تیز ہوا ہوتی ہے کیسی سنسان فضا ہوتی ہے ہم نے دیکھے ہیں وہ سناٹے بھی جب ہر اک سانس صدا ہوتی ہے دل کا یہ حال ہوا تیرے بعد جیسے ویران آئینہ رو ہوتی ہے رونا آتا ہے ہمیں بھی لیکن اس میں توہین وفا ہوتی ہے منہ اندھیرے کبھی اٹھ کر دیکھو کیا تر و تازہ ہوا ہوتی ہے اجنبی دھیان کی ہر موج کے ساتھ کس قدر تیز ہوا ہوتی ہے غم کے بے نور گزرگاہوں میں اک کرن ذوق فضا ہوتی ہے غم گسار سفر راہ وفا مزہ آبلا پا ہوتی ہے گلشن فکر کی منہ بند کلی شب مہتاب میں وا ہوتی ہے جب نکلتی ہے نگار شب گل منہ پہ شبنم کی ردا ہوتی ہے حادثہ ہے کہ خزاں سے پہلے بو گل گل سے جدا ہوتی ہے اک نیا دور جنم لیتا ہے ایک برزخ فنا ہوتی ہے جب کوئی غم نہیں ہوتا ناصر بےکلی دل کی سوا ہوتی ہے
Nasir Kazmi
2 likes
گلی گلی مری یاد بچھی ہے پیارے رستہ دیکھ کے چل مجھ سے اتنی وحشت ہے تو میری حدوں سے دور نکل ایک سمے ترا پھول سا چھوؤں گا ہاتھ تھا میرے شانے پر ایک یہ وقت کہ ہے وہ ہے وہ تنہا اور دکھ کے کانٹوں کا جنگل یاد ہے اب تک تجھ سے چیزیں کی حقیقت اندھیری شام مجھے تو خاموش کھڑا تھا لیکن باتیں کرتا تھا کاجل ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو ایک نئی دنیا کی دھن ہے وہ ہے وہ اطراف پھرتا ہوں میری تجھ سے کیسے سنانی ایک ہیں تیرے فکر و عمل میرا منہ کیا دیکھ رہا ہے دیکھ ای سے کالی رات کو دیکھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ وہی تیرا ہمراہی ہوں ساتھ مری چلنا ہوں تو چل
Nasir Kazmi
4 likes
ناصر کیا کہتا پھرتا ہے کچھ لگ سنو تو بہتر ہے دیوا لگ ہے دیوانے کے منا لگ لگو تو بہتر ہے کل جو تھا حقیقت آج نہیں جو آج ہے کل مٹ جائےگا روخی سوخی جو مل جائے شکر کروں تو بہتر ہے کل یہ تاب و توں لگ رہےگی ٹھنڈا ہوں جائےگا لہو نام خدا ہوں جوان ابھی کچھ کر گزرو لگ تو بہتر ہے کیا جانے کیا رت بدلے حالات کا کوئی ٹھیک نہیں اب کے سفر ہے وہ ہے وہ جاناں بھی ہمارے ساتھ چلو تو بہتر ہے کپڑے بدل کر بال بنا کر ک ہاں چلے ہوں ک سے کے لیے رات بے حد کالی ہے ناصر گھر ہے وہ ہے وہ رہو تو بہتر ہے
Nasir Kazmi
8 likes
دیار دل کی رات ہے وہ ہے وہ چراغ سا جلا گیا تو ملا نہیں تو کیا ہوا حقیقت شکل تو دکھا گیا تو حقیقت دوستی تو خیر اب نصیب دشمنان ہوئی حقیقت چھوٹی چھوٹی رنجشوں کا لطف بھی چلا گیا تو جدائیوں کے زخم درد زندگی نے بھر دیے تجھے بھی نیند آ گئی مجھے بھی دل پامال آ گیا تو پکارتی ہیں فرصتیں ک ہاں گئیں حقیقت صحبتیں ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ نگل گئی ا نہیں کہ آسمان کھا گیا تو یہ صبح کی سفیدیاں یہ دوپہر کی زردیاں اب آئینے ہے وہ ہے وہ دیکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ک ہاں چلا گیا تو یہ ک سے خوشی کی ریت پر غموں کو نیند آ گئی حقیقت لہر ک سے طرف گئی یہ ہے وہ ہے وہ ک ہاں سما گیا تو گئے دنوں کی لاش پر پڑے رہوگے کب تلک الم کشو اٹھو کہ آفتاب سر پہ آ گیا تو
Nasir Kazmi
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Nasir Kazmi.
Similar Moods
More moods that pair well with Nasir Kazmi's ghazal.







