din guzar jaenge sarkar koi baat nahin zakhm bhar jaenge sarkar koi baat nahin aap ka shahr agar baar samajhta hai hamen kuuch kar jaenge sarkar koi baat nahin aap ke jaur ka jab zikr chhida mahshar men ham mukar jaenge sarkar koi baat nahin ro ke jiine men bhala kaun si shirini hai hans ke mar jaenge sarkar koi baat nahin nikal aae hain 'adam' se to jhijhakna kaisa dar-ba-dar jaenge sarkar koi baat nahin din guzar jaenge sarkar koi baat nahin zakhm bhar jaenge sarkar koi baat nahin aap ka shahr agar bar samajhta hai hamein kuch kar jaenge sarkar koi baat nahin aap ke jaur ka jab zikr chhida mahshar mein hum mukar jaenge sarkar koi baat nahin ro ke jine mein bhala kaun si shirini hai hans ke mar jaenge sarkar koi baat nahin nikal aae hain 'adam' se to jhijhakna kaisa dar-ba-dar jaenge sarkar koi baat nahin
Related Ghazal
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی سوچا ہوا ہے ہے وہ ہے وہ حقیقت سمے آنے پہ کر جاؤں گا جاناں مجھے زہر لگتے ہوں اور ہے وہ ہے وہ کسی دن تمہیں پی کے مر جاؤں گا تو تو بینائی ہے مری تری علاوہ مجھے کچھ بھی دکھتا نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تجھ کو ا گر تری گھر پہ اتارا تو ہے وہ ہے وہ کیسے گھر جاؤں گا چاہتا ہوں تمہیں اور بے حد چاہتا ہوں تمہیں خود بھی معلوم ہے ہاں ا گر مجھ سے پوچھا کسی نے تو ہے وہ ہے وہ سیدھا منا پر مکر جاؤں گا تری دل سے تری شہر سے تری گھر سے تیری آنکھ سے تری در سے تیری گلیوں سے تری وطن سے نکالا ہوا ہوں کدھر جاؤں گا
Tehzeeb Hafi
241 likes
More from Abdul Hamid Adam
ہن سے ہن سے کے جام جام کو چھلکا کے پی گیا تو حقیقت خود پلا رہے تھے ہے وہ ہے وہ لہرا کے پی گیا تو توبہ کے ٹوٹنے کا بھی کچھ کچھ ملال تھا تھم تھم کے سوچ سوچ کے شرما کے پی گیا تو ساغر بدست بیٹھی رہی مری آرزو ساقی شفق سے جام کو ٹکرا کے پی گیا تو حقیقت دشمنوں کے طنز کو ٹھکرا کے پی گئے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دوستوں کے غیظ کو بھڑکا کے پی گیا تو سدہا مطالبات کے بعد ایک جام تلخ دنیا جبر و دل پامال کو دھڑکا کے پی گیا تو سو بار لغزشوں کی قسم کھا کے چھوڑ دی سو بار چھوڑنے کی قسم کھا کے پی گیا تو پیتا ک ہاں تھا صبح ازل ہے وہ ہے وہ بھلا عدم ساقی کے اعتبار پہ لہرا کے پی گیا تو
Abdul Hamid Adam
6 likes
जब तिरे नैन मुस्कुराते हैं ज़ीस्त के रंज भूल जाते हैं क्यूँँ शिकन डालते हो माथे पर भूल कर आ गए हैं जाते हैं कश्तियाँ यूँँ भी डूब जाती हैं नाख़ुदा किस लिए डराते हैं इक हसीं आँख के इशारे पर क़ाफ़िले राह भूल जाते हैं
Abdul Hamid Adam
5 likes
ہن سے کے بولا کروں بلایا کروں آپ کا گھر ہے آیا جایا کروں مسکراہٹ ہے حسن کا زیور مسکرانا لگ بھول جایا کروں حد سے بڑھ کر حسین لگتے ہوں جھوٹی ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ضرور کھایا کروں تاکہ دنیا کی دلکشی لگ گھٹے نت نئے پیرہن ہے وہ ہے وہ آیا کروں کتنے سادہ مزاج ہوں جاناں عدم ا سے گلی ہے وہ ہے وہ بے حد لگ جایا کروں
Abdul Hamid Adam
16 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Abdul Hamid Adam.
Similar Moods
More moods that pair well with Abdul Hamid Adam's ghazal.







