دو ناووں پر پاؤں پسارے ایسے کیسے حقیقت بھی پیارا ہم بھی پیاری ایسے کیسے سورج بولا بن مری دنیا اندھی ہے ہنسکر بولے چاند ستارے تم ایسے کیسے تری حصے کی خوشیوں سے بیر نہیں پر مری حق ہے وہ ہے وہ صرف گٹھلیاں ایسے کیسے گالوں پر بوسہ دے کر جب چلی گئی حقیقت کہتے رہ گئے ہونٹ بیچارے ایسے کیسے مجھ چنو کو یاں پر دیکھ کے کہتے ہیں حقیقت اتنا آگے بنا سہارے ایسے کیسے چنو ہی مقطعے پر پہنچی غزل سرسری کی بول اٹھے سارے کے سارے ایسے کیسے
Related Ghazal
ہے وہ ہے وہ نے چاہا تو نہیں تھا کہ کبھی ایسا ہوں لیکن اب ٹھان چکے ہوں تو چلو اچھا ہوں جاناں سے ناراض تو ہے وہ ہے وہ اور کسی بات پہ ہوں جاناں م گر اور کسی خیال و خواب سے شرمندہ ہوں اب کہی جا کے یہ معلوم ہوا ہے مجھ کو ٹھیک رہ جاتا ہے جو بے وجہ تری جیسا ہوں ایسے حالات ہے وہ ہے وہ ہوں بھی کوئی حسا سے تو کیا اور بے ح سے بھی ا گر ہوں تو کوئی کتنا ہوں تاکہ تو سمجھے کہ مردوں کے بھی دکھ ہوتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے چاہا بھی یہی تھا کہ تیرا بیٹا ہوں
Jawwad Sheikh
50 likes
کسی لبا سے کی خوشبو جب اڑ کے آتی ہے تری بدن کی جدائی بے حد ستاتی ہے تری گلاب ترستے ہیں تیری خوشبو کو تیری سفید چمیلی تجھے بلاتی ہے تری بغیر مجھے چین کیسے پڑتا ہیں مری بغیر تجھے نیند کیسے آتی ہے
Jaun Elia
113 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
جینا مشکل ہے کہ آسان ذرا دیکھ تو لو لوگ لگتے ہیں پریشان ذرا دیکھ تو لو پھروں مقرر کوئی سرگرم سر منبر ہے ک سے کے ہے قتل کا سامان ذرا دیکھ تو لو یہ نیا شہر تو ہے خوب بسایا جاناں نے کیوں پرانا ہوا ویران ذرا دیکھ تو لو ان چراغوں کے تلے ایسے اندھیرے کیوں ہے جاناں بھی رہ جاؤگے حیران ذرا دیکھ تو لو جاناں یہ کہتے ہوں کہ ہے وہ ہے وہ غیر ہوں پھروں بھی شاید نکل آئی کوئی پہچان ذرا دیکھ تو لو یہ ستائش کی تمنا یہ صلے کی پرواہ ک ہاں لائے ہیں یہ ارمان ذرا دیکھ تو لو
Javed Akhtar
33 likes
کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے جانے کیسے لوگ حقیقت ہوں گے جو ا سے کو بھاتے ہوں گے شام ہوئے خوش باش ی ہاں کے مری پا سے آ جاتے ہیں مری بجھنے کا نہظارہ کرنے آ جاتے ہوں گے حقیقت جو لگ آنے والا ہے نا ا سے سے مجھ کو زار تھا آنے والوں سے کیا زار آتے ہیں آتے ہوں گے ا سے کی یاد کی باد صبا ہے وہ ہے وہ اور تو کیا ہوتا ہوگا یوںہی مری بال ہیں بکھرے اور بکھر جاتے ہوں گے یاروں کچھ تو ذکر کروں جاناں ا سے کی خوشگوار بان ہوں کا حقیقت جو سمٹتے ہوں گے ان ہے وہ ہے وہ حقیقت تو مر جاتے ہوں گے میرا سان سے اکھڑتے ہی سب بین کریںگے روئیںگے زبان مری بعد بھی زبان سان سے لیے جاتے ہوں گے
Jaun Elia
88 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Asad Akbarabadi.
Similar Moods
More moods that pair well with Asad Akbarabadi's ghazal.







