ghazalKuch Alfaaz

dosto durd pilao ki kadi raat kate mai men kuchh aur milao ki kadi raat kate ansuon se ye kadi raat nahin kat sakti aaj mai-khana lundhao ki kadi raat kate naghhme bazar men mahnge hain to kya ghham yaaro nauhe ko naghhma banao ki kadi raat kate ziist aur maut asatir-e-kuhan hain yaaro naya afsana sunao ki kadi raat kate koi mashhud hai ab aur na koi shahid aur agar hai to dikhao ki kadi raat kate ye bhi iman hi ka dusra rukh hai logo kufr ko diin banao ki kadi raat kate ye andhera ye samundar ye talatum aao aao aur mujh men samao ki kadi raat kate dosto durd pilao ki kadi raat kate mai mein kuchh aur milao ki kadi raat kate aansuon se ye kadi raat nahin kat sakti aaj mai-khana lundhao ki kadi raat kate naghme bazar mein mahnge hain to kya gham yaro nauhe ko naghma banao ki kadi raat kate zist aur maut asatir-e-kuhan hain yaro naya afsana sunao ki kadi raat kate koi mashhud hai ab aur na koi shahid aur agar hai to dikhao ki kadi raat kate ye bhi iman hi ka dusra rukh hai logo kufr ko din banao ki kadi raat kate ye andhera ye samundar ye talatum aao aao aur mujh mein samao ki kadi raat kate

Related Ghazal

آئینے آنکھ ہے وہ ہے وہ چبھتے تھے بستر سے بدن کترا تا تھا ایک یاد بسر کرتی تھی مجھے ہے وہ ہے وہ سان سے نہیں لے پاتا تھا ایک شخص کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ تھا سب کچھ میرا کھلنا بھی مرجھانا بھی روتا تھا تو رات اجڑ جاتی ہنستا تھا تو دن بن جاتا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ رب سے رابطے ہے وہ ہے وہ رہتا ممکن ہے کی ا سے سے رابطہ ہوں مجھے ہاتھ اٹھانا پڑتے تھے تب جا کر حقیقت فون اٹھاتا تھا مجھے آج بھی یاد ہے بچپن ہے وہ ہے وہ کبھی ا سے پر نظر ا گر پڑتی مری گدا سے پھول برستے تھے مری تختی پہ دل بن جاتا تھا ہم ایک زندان ہے وہ ہے وہ زندہ تھے ہم ایک زنجیر ہے وہ ہے وہ بڑھے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھ کر ہم کبھی زار تھے تو رونا آتا تھا حقیقت جسم دلائیں نہیں ہوں پاتا تھا ان آنکھوں سے مجرم ٹھہراتا تھا اپنا کہنے کو تو گھر ٹھہراتا تھا

Tehzeeb Hafi

129 likes

سر جھکاؤگے تو پتھر دیوتا ہوں جائےگا اتنا مت چاہو اسے حقیقت بےوفا ہوں جائےگا ہم بھی دریا ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنا ہنر معلوم ہے ج سے طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہوں جائےگا کتنی سچائی سے مجھ سے زندگی نے کہ دیا تو نہیں میرا تو کوئی دوسرا ہوں جائےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ خدا کا نام لے کر پی رہا ہوں دوستو زہر بھی ا سے ہے وہ ہے وہ ا گر ہوگا دوا ہوں جائےگا سب اسی کے ہیں ہوا خوشبو زمین و آ سماں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج ہاں بھی جاؤں گا ا سے کو پتا ہوں جائےگا

Bashir Badr

43 likes

تری جیسا کوئی ملا ہی نہیں کیسے ملتا کہی پہ تھا ہی نہیں گھر کے ملبے سے گھر بنا ہی نہیں زلزلے کا اثر گیا تو ہی نہیں مجھ پہ ہوں کر گزر گئی دنیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری راہ سے ہٹا ہی نہیں کل سے مصروف خیریت ہے وہ ہے وہ ہوں شعر تازہ کوئی ہوا ہی نہیں رات بھی ہم نے ہی صدارت کی بزم ہے وہ ہے وہ اور کوئی تھا ہی نہیں یار جاناں کو ک ہاں ک ہاں ڈھونڈا جاؤ جاناں سے ہے وہ ہے وہ بولتا ہی نہیں یاد ہے جو اسی کو یاد کروں ہجر کی دوسری دوا ہی نہیں

Fahmi Badayuni

33 likes

حقیقت نہیں میرا م گر ا سے سے محبت ہے تو ہے یہ ا گر رسموں رواجوں سے بغاوت ہے تو ہے سچ کو ہے وہ ہے وہ نے سچ کہا جب کہ دیا تو کہ دیا اب زمانے کی نظر ہے وہ ہے وہ یہ حماقت ہے تو ہے کب کہا ہے وہ ہے وہ نے کہ حقیقت مل جائے مجھ کو ہے وہ ہے وہ اسے غیر لگ ہوں جائے حقیقت ب سے اتنی حسرت ہے تو ہے جل گیا تو پروا لگ گر تو کیا غلطیاں ہے شمع کی رات بھر جلنا جلانا ا سے کی قسمت ہے تو ہے دوست بن کر دشمنوں سا حقیقت ستاتا ہے مجھے پھروں بھی ا سے ظالم پہ مرنا اپنی فطرت ہے تو ہے دور تھے اور دور ہیں ہر دم زمین و آسمان دوریوں کے بعد بھی دونوں ہے وہ ہے وہ قربت ہے تو ہے

Deepti Mishra

29 likes

سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں سو ا سے کے شہر ہے وہ ہے وہ کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے ا سے کو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز ا سے کی سو ہم بھی ا سے کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے ستارے تم تم بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے حشر ہیں ا سے کی غزال سی آنکھیں سنا ہے ا سے کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکليں ا سے کی سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کی سیاہ چشمگی خوشگوار ہے سو ا سے کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے آئی لگ تمثال ہے جبیں ا سے

Ahmad Faraz

65 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Saghar Nizami.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Saghar Nizami's ghazal.