دعا کروں کہ کوئی پیا سے نذر جام لگ ہوں حقیقت زندگی ہی نہیں ہے جو نا تمام لگ ہوں جو مجھ ہے وہ ہے وہ تجھ ہے وہ ہے وہ چلا آ رہا ہے صدیوں سے کہی حیات اسی فاصلے کا نام لگ ہوں کوئی چراغ لگ آنسو لگ آرزو سحر خدا کرے کہ کسی گھر ہے وہ ہے وہ ایسی شام لگ ہوں عجیب شرط لگائی ہے احتیاطوں نے کہ تیرا ذکر کروں اور تیرا نام لگ ہوں صبا مزاج کی تیزی بھی ایک نعمت ہے ا گر چراغ بجھانا ہی ایک کام لگ ہوں مسئلہ کتنی ہی صبحیں لہو لہو گزریں اک ایسی صبح بھی آئی کہ ج سے کی شام لگ ہوں
Related Ghazal
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
More from Waseem Barelvi
اپنے سائے کو اتنا سمجھانے دے مجھ تک مری حصے کی دھوپ آنے دے ایک نظر ہے وہ ہے وہ کئی زمانے دیکھے تو بوڑھی آنکھوں کی تصویر بنانے دے بابا دنیا جیت کے ہے وہ ہے وہ دکھلا دوں گا اپنی نظر سے دور تو مجھ کو جانے دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ا سے باغ کا ایک پرندہ ہوں مری ہی آواز ہے وہ ہے وہ مجھ کو گانے دے پھروں تو یہ اونچا ہی ہوتا جائےگا بچپن کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ چاند آ جانے دے فصلیں پک جائیں تو کھیت سے بچھڑیںگی روتی آنکھ کو پیار ک ہاں سمجھانے دے
Waseem Barelvi
7 likes
بھلا غموں سے ک ہاں ہار جانے والے تھے ہم آنسوؤں کی طرح مسکرانے والے تھے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کر دیا اعلان گمراہی ور لگ ہمارے پیچھے بے حد لوگ آنے والے تھے ا نہیں تو خاک ہے وہ ہے وہ ملنا ہی تھا کہ مری تھے یہ خوشی کون سے اونچے گھرانے والے تھے ا نہیں قریب لگ ہونے دیا کبھی ہے وہ ہے وہ نے جو دوستی ہے وہ ہے وہ حدیں بھول جانے والے تھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جن کو جان کے پہچان بھی نہیں سکتا کچھ ایسے لوگ میرا گھر جلانے والے تھے ہمارا المیہ یہ تھا کہ ہم سفر بھی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ وہی ملے جو بے حد یاد آنے والے تھے مسئلہ کیسی مقدم کی راہ تھی ج سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ وہی ملے جو بے حد دل دکھانے والے تھے
Waseem Barelvi
5 likes
نہیں کہ اپنا زما لگ بھی تو نہیں آیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کسی سے نبھانا بھی تو نہیں آیا جلا کے رکھ لیا ہاتھوں کے ساتھ دامن تک تمہیں چراغ بجھانا بھی تو نہیں آیا نئے مکان بنائے تو فاصلوں کی طرح ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ شہر بسانا بھی تو نہیں آیا حقیقت پوچھتا تھا مری آنکھ بھیگنے کا سبب مجھے بہانا بنانا بھی تو نہیں آیا مسئلہ دیکھنا مڑ مڑ کے حقیقت اسی کی طرف کسی کو چھوڑ کے جانا بھی تو نہیں آیا
Waseem Barelvi
4 likes
صرف تیرا نام لے کر رہ گیا تو آج دیوا لگ بے حد کچھ کہ گیا تو کیا مری تقدیر ہے وہ ہے وہ منزل نہیں فاصلہ کیوں مسکرا کر رہ گیا تو زندگی دنیا ہے وہ ہے وہ ایسا خوشی تھی جو ذرا پلکوں پہ ٹھہرا بہ گیا تو اور کیا تھا ا سے کی پرسش کا جواب اپنے ہی آنسو چھپا کر رہ گیا تو ا سے سے پوچھ اے کامیاب زندگی ج سے کا افسا لگ ادھورا رہ گیا تو ہاں یہ کیا دیوانگی تھی اے مسئلہ جو لگ کہنا چاہیے تھا کہ گیا تو
Waseem Barelvi
2 likes
کچھ اتنا خوف کا مارا ہوا بھی پیار لگ ہوں حقیقت اعتبار دلائے اور اعتبار لگ ہوں ہوا خلاف ہوں موجوں پہ اختیار لگ ہوں یہ کیسی ضد ہے کہ دریا کسی سے پار لگ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ گاؤں لوٹ رہا ہوں بے حد دنوں کے بعد خدا کرے کہ اسے میرا انتظار لگ ہوں ذرا سی بات پہ گھٹ گھٹ کے صبح کر دینا مری طرح بھی کوئی میرا غم گسار لگ ہوں دکھی سماج ہے وہ ہے وہ آنسو بھرے زمانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اسے یہ کون بتائے کہ خوشی بار لگ ہوں گناہگاروں پہ انگلی اٹھائے دیتے ہوں مسئلہ آج کہی جاناں بھی سنگسار لگ ہوں
Waseem Barelvi
7 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Waseem Barelvi.
Similar Moods
More moods that pair well with Waseem Barelvi's ghazal.







