ghazalKuch Alfaaz

dukhe hue hain hamen aur ab dukhao mat jo ho gae ho fasana to yaad aao mat khayal-o-khvab men parchhaiyan si nachti hain ab is tarah to miri ruuh men samao mat zamin ke log to kya do dilon ki chahat men khuda bhi ho to use darmiyan laao mat tumhara sar nahin tiflan-e-rah-guzar ke liye dayar-e-sang men ghar se nikal ke jaao mat sivae apne kisi ke bhi ho nahin sakte ham aur log hain logo hamen satao mat hamare ahd men ye rasm-e-ashiqi thahri faqir ban ke raho aur sada lagao mat vahi likho jo lahu ki zaban se milta hai sukhan ko parda-e-alfaz men chhupao mat supurd kar hi diya atish-e-hunar ke to phir tamam khaak hi ho jaao kuchh bachao mat dukhe hue hain hamein aur ab dukhao mat jo ho gae ho fasana to yaad aao mat khayal-o-khwab mein parchhaiyan si nachti hain ab is tarah to meri ruh mein samao mat zamin ke log to kya do dilon ki chahat mein khuda bhi ho to use darmiyan lao mat tumhaara sar nahin tiflan-e-rah-guzar ke liye dayar-e-sang mein ghar se nikal ke jao mat siwae apne kisi ke bhi ho nahin sakte hum aur log hain logo hamein satao mat hamare ahd mein ye rasm-e-ashiqi thahri faqir ban ke raho aur sada lagao mat wahi likho jo lahu ki zaban se milta hai sukhan ko parda-e-alfaz mein chhupao mat supurd kar hi diya aatish-e-hunar ke to phir tamam khak hi ho jao kuchh bachao mat

Related Ghazal

تماشا دیر و حرم دیکھتے ہیں تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں ہماری طرف اب حقیقت کم دیکھتے ہیں حقیقت نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں زمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں

Dagh Dehlvi

84 likes

کبھی ملیںگے تو یہ قرض بھی اتاریںگے تمہارے چہرے کو پہروں تلک نہہاریںگے یہ کیا ستم کہ کھلاڑی بدل دیا ا سے نے ہم ا سے امید پہ بیٹھے تھے ہم ہی ہاریںگے ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے بدن تو چو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے

Vikram Gaur Vairagi

70 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

More from Obaidullah Aleem

ہجر کرتے یا کوئی وصل گزارا کرتے ہم بہر حال بسر خواب تمہارا کرتے ایک ایسی بھی گھڑی عشق ہے وہ ہے وہ آئی تھی کہ ہم خاک کو ہاتھ لگاتے تو ستارہ کرتے اب تو مل جاؤ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کہ تمہاری خاطر اتنی دور آ گئے دنیا سے کنارہ کرتے محو آرائش رکھ ہے حقیقت خوشگوار سر بام آنکھ ا گر آئی لگ ہوتی تو نظارہ کرتے ایک چہرے ہے وہ ہے وہ تو ممکن نہیں اتنے چہرے ک سے سے کرتے جو کوئی عشق دوبارہ کرتے جب ہے یہ خا لگ دل آپ کی خلوت کے لیے پھروں کوئی آئی ی ہاں کیسے بے شرط کرتے کون رکھتا ہے اندھیرے ہے وہ ہے وہ دیا آنکھ ہے وہ ہے وہ خواب تیری جانب ہی تری لوگ اشارہ کرتے ظرف آئی لگ ک ہاں اور ترا حسن ک ہاں ہم تری چہرے سے آئی لگ سنوارا کرتے

Obaidullah Aleem

1 likes

वो रात बे-पनाह थी और मैं ग़रीब था वो जिस ने ये चराग़ जलाया अजीब था वो रौशनी कि आँख उठाई नहीं गई कल मुझ से मेरा चाँद बहुत ही क़रीब था देखा मुझे तो तब्अ रवाँ हो गई मिरी वो मुस्कुरा दिया तो मैं शाइ'र अदीब था रखता न क्यूँँ मैं रूह ओ बदन उस के सामने वो यूँँ भी था तबीब वो यूँँ भी तबीब था हर सिलसिला था उस का ख़ुदा से मिला हुआ चुप हो कि लब-कुशा हो बला का ख़तीब था मौज-ए-नशात ओ सैल-ए-ग़म-ए-जाँ थे एक साथ गुलशन में नग़्मा-संज अजब अंदलीब था मैं भी रहा हूँ ख़ल्वत-ए-जानाँ में एक शाम ये ख़्वाब है या वाक़ई मैं ख़ुश-नसीब था हर्फ़-ए-दुआ ओ दस्त-ए-सख़ावत के बाब में ख़ुद मेरा तजरबा है वो बे-हद नजीब था देखा है उस को ख़ल्वत ओ जल्वत में बार-हा वो आदमी बहुत ही अजीब-ओ-ग़रीब था लिक्खो तमाम उम्र मगर फिर भी तुम 'अलीम' उस को दिखा न पाओ वो ऐसा हबीब था

Obaidullah Aleem

0 likes

ایسی تیز ہوا اور ایسی رات نہیں دیکھی لیکن ہم نے مولا جیسی ذات نہیں دیکھی ا سے کی شان عجیب کا منظر دیکھنے والا ہے اک ایسا خورشید کہ ج سے نے رات نہیں دیکھی بستر پر موجود رہے اور سیر ہفت افلاک ایسی کسی پر رحمت کی برسات نہیں دیکھی ا سے کی آل وہی جو ا سے کے نقش قدم پر صرف ذات کی ہم نے آل سادات نہیں دیکھی ایک شجر ہے ج سے کی شاخیں پھیلتی جاتی ہیں کسی شجر ہے وہ ہے وہ ہم نے ایسی بات نہیں دیکھی اک دریا رحمت ہے جو بہتا جاتا ہے یہ شان برکات کسی کے ساتھ نہیں دیکھی جھونپڑیوں کی پوچھوں بھی ہم نے دیکھی ہے لیکن ا سے کے در کے گداؤں والی بات نہیں دیکھی ا سے کے نام پہ ماریں خا لگ اب اعزاز ہمارا اور کسی کی یہ عزت اوقات نہیں دیکھی صدیوں کی ا سے دھوپ چھاؤں ہے وہ ہے وہ کوئی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بتلائے پوری ہوئی کون سی ا سے کی بات نہیں دیکھی اہل ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کون سا ہم پر ظلم نہیں ڈھایا کون سی بھیگتا ہم نے ا سے کے ہاتھ نہیں دیکھی

Obaidullah Aleem

0 likes

عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے اب ا سے دودمان بھی لگ چاہو کہ دم نکل جائے ملے ہیں یوں تو بے حد آؤ اب ملیں یوں بھی کہ روح گرمی انف سے سے پگھل جائے محبتوں ہے وہ ہے وہ غضب ہے دلوں کو دھڑکا سا کہ جانے کون ک ہاں راستہ بدل جائے زہے حقیقت دل جو تمنا تازہ تر ہے وہ ہے وہ رہے خوشا حقیقت عمر جو خوابوں ہی ہے وہ ہے وہ بہل جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت چراغ سر رہ گزاری دنیا ہوں جو اپنی ذات کی تنہائیوں ہے وہ ہے وہ جل جائے ہر ایک لہجہ یہی آرزو یہی حسرت جو آگ دل ہے وہ ہے وہ ہے حقیقت شعر ہے وہ ہے وہ بھی ڈھل جائے

Obaidullah Aleem

1 likes

کچھ عشق تھا کچھ مجبوری تھی سو ہے وہ ہے وہ نے جیون وار دیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیسا زندہ آدمی تھا اک بے وجہ نے مجھ کو مار دیا اک سبز شاخ گلاب کی تھا اک دنیا اپنے خواب کی تھا حقیقت ایک بہار جو آئی نہیں ا سے کے لیے سب کچھ ہار دیا یہ سجا سجایا گھر ساتھی مری ذات نہیں میرا حال نہیں اے کاش کبھی جاناں جان سکو جو ا سے سکھ نے آزار دیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کھلی ہوئی اک سچائی مجھے جاننے والے جانتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کن لوگوں سے خوبصورت کی اور کن لوگوں کو پیار دیا حقیقت عشق بے حد مشکل تھا م گر آسان لگ تھا یوں جینا بھی ا سے عشق نے زندہ رہنے کا مجھے ظرف دیا پندار دیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ روتا ہوں اور آسمان سے تارے ٹوٹتے دیکھتا ہوں ان لوگوں پر جن لوگوں نے مری لوگوں کو آزار دیا مری بچوں کو اللہ رکھے ان تازہ ہوا کے جھونکوں نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ خشک پیڑ اڑائے کا تھا مجھے کیسا برگ و بار دیا

Obaidullah Aleem

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Obaidullah Aleem.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Obaidullah Aleem's ghazal.