ghazalKuch Alfaaz

کچھ عشق تھا کچھ مجبوری تھی سو ہے وہ ہے وہ نے جیون وار دیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیسا زندہ آدمی تھا اک بے وجہ نے مجھ کو مار دیا اک سبز شاخ گلاب کی تھا اک دنیا اپنے خواب کی تھا حقیقت ایک بہار جو آئی نہیں ا سے کے لیے سب کچھ ہار دیا یہ سجا سجایا گھر ساتھی مری ذات نہیں میرا حال نہیں اے کاش کبھی جاناں جان سکو جو ا سے سکھ نے آزار دیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کھلی ہوئی اک سچائی مجھے جاننے والے جانتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کن لوگوں سے خوبصورت کی اور کن لوگوں کو پیار دیا حقیقت عشق بے حد مشکل تھا م گر آسان لگ تھا یوں جینا بھی ا سے عشق نے زندہ رہنے کا مجھے ظرف دیا پندار دیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ روتا ہوں اور آسمان سے تارے ٹوٹتے دیکھتا ہوں ان لوگوں پر جن لوگوں نے مری لوگوں کو آزار دیا مری بچوں کو اللہ رکھے ان تازہ ہوا کے جھونکوں نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ خشک پیڑ اڑائے کا تھا مجھے کیسا برگ و بار دیا

Related Ghazal

چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں

Ali Zaryoun

105 likes

نہیں تھا اپنا م گر پھروں بھی اپنا اپنا لگا کسی سے مل کے بے حد دیر بعد اچھا لگا تمہیں لگا تھا ہے وہ ہے وہ مر جاؤں گا تمہارے بغیر بتاؤ پھروں تمہیں میرا مزاق کیسا لگا تجوریوں پہ نظر اور لوگ رکھتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آسمان چرا لوں گا جب بھی موقع لگا مہ لقا ہے بھری الماریاں بڑے دل سے بتاتی ہے کہ محبت ہے وہ ہے وہ کس کا کتنا لگا

Tehzeeb Hafi

94 likes

خوشی ضائع ہوں رہے تھے دیکھ کر روتا لگ تھا ج سے جگہ بنتا تھا رونا ہے وہ ہے وہ و ہاں روتا لگ تھا صرف تیری چپ نے مری گال گیلے کر دیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو حقیقت ہوں جو کسی کی موت پر روتا لگ تھا مجھ پر کتنے احسان ہے گزرے پر ان آنکھوں کو کیا میرا دکھ یہ ہے کے میرا ہم سفر روتا لگ تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کے وصل ہے وہ ہے وہ بھی ہجر کٹا ہے کہی حقیقت مری کندھے پہ رکھ لیتا تھا سر روتا لگ تھا پیار تو پہلے بھی ا سے سے تھا م گر اتنا نہیں تب ہے وہ ہے وہ اس کا کو چھو تو لیتا تھا م گر روتا لگ تھا گر یوں جاری کو بھی ایک خاص موسم چاہیے مری آنکھیں دیکھ لو ہے وہ ہے وہ سمے پر روتا لگ تھا

Tehzeeb Hafi

85 likes

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

غزل تو سب کو میٹھی لگ رہی تھی م گر نہاتک کو مرچی لگ رہی تھی تمہارے لب نہیں چومے تھے جب تک مجھے ہر چیز کڑوی لگ رہی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے دن چھوڑنے والا تھا اس کا کو حقیقت ا سے دن سب سے پیاری لگ رہی تھی

Zubair Ali Tabish

80 likes

More from Obaidullah Aleem

عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے اب ا سے دودمان بھی لگ چاہو کہ دم نکل جائے ملے ہیں یوں تو بے حد آؤ اب ملیں یوں بھی کہ روح گرمی انف سے سے پگھل جائے محبتوں ہے وہ ہے وہ غضب ہے دلوں کو دھڑکا سا کہ جانے کون ک ہاں راستہ بدل جائے زہے حقیقت دل جو تمنا تازہ تر ہے وہ ہے وہ رہے خوشا حقیقت عمر جو خوابوں ہی ہے وہ ہے وہ بہل جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت چراغ سر رہ گزاری دنیا ہوں جو اپنی ذات کی تنہائیوں ہے وہ ہے وہ جل جائے ہر ایک لہجہ یہی آرزو یہی حسرت جو آگ دل ہے وہ ہے وہ ہے حقیقت شعر ہے وہ ہے وہ بھی ڈھل جائے

Obaidullah Aleem

1 likes

ہجر کرتے یا کوئی وصل گزارا کرتے ہم بہر حال بسر خواب تمہارا کرتے ایک ایسی بھی گھڑی عشق ہے وہ ہے وہ آئی تھی کہ ہم خاک کو ہاتھ لگاتے تو ستارہ کرتے اب تو مل جاؤ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کہ تمہاری خاطر اتنی دور آ گئے دنیا سے کنارہ کرتے محو آرائش رکھ ہے حقیقت خوشگوار سر بام آنکھ ا گر آئی لگ ہوتی تو نظارہ کرتے ایک چہرے ہے وہ ہے وہ تو ممکن نہیں اتنے چہرے ک سے سے کرتے جو کوئی عشق دوبارہ کرتے جب ہے یہ خا لگ دل آپ کی خلوت کے لیے پھروں کوئی آئی ی ہاں کیسے بے شرط کرتے کون رکھتا ہے اندھیرے ہے وہ ہے وہ دیا آنکھ ہے وہ ہے وہ خواب تیری جانب ہی تری لوگ اشارہ کرتے ظرف آئی لگ ک ہاں اور ترا حسن ک ہاں ہم تری چہرے سے آئی لگ سنوارا کرتے

Obaidullah Aleem

1 likes

वो रात बे-पनाह थी और मैं ग़रीब था वो जिस ने ये चराग़ जलाया अजीब था वो रौशनी कि आँख उठाई नहीं गई कल मुझ से मेरा चाँद बहुत ही क़रीब था देखा मुझे तो तब्अ रवाँ हो गई मिरी वो मुस्कुरा दिया तो मैं शाइ'र अदीब था रखता न क्यूँँ मैं रूह ओ बदन उस के सामने वो यूँँ भी था तबीब वो यूँँ भी तबीब था हर सिलसिला था उस का ख़ुदा से मिला हुआ चुप हो कि लब-कुशा हो बला का ख़तीब था मौज-ए-नशात ओ सैल-ए-ग़म-ए-जाँ थे एक साथ गुलशन में नग़्मा-संज अजब अंदलीब था मैं भी रहा हूँ ख़ल्वत-ए-जानाँ में एक शाम ये ख़्वाब है या वाक़ई मैं ख़ुश-नसीब था हर्फ़-ए-दुआ ओ दस्त-ए-सख़ावत के बाब में ख़ुद मेरा तजरबा है वो बे-हद नजीब था देखा है उस को ख़ल्वत ओ जल्वत में बार-हा वो आदमी बहुत ही अजीब-ओ-ग़रीब था लिक्खो तमाम उम्र मगर फिर भी तुम 'अलीम' उस को दिखा न पाओ वो ऐसा हबीब था

Obaidullah Aleem

0 likes

صاحب مہر و وفا عرض و سما کیوں چپ ہے ہم پہ تو سمے کے پہرے ہیں خدا کیوں چپ ہے بے سبب غم ہے وہ ہے وہ سلگنا مری عادت ہی صحیح ساز خاموش ہے کیوں شعلہ نوا کیوں چپ ہے پھول تو سہم گئے دست کرم سے دم صبح خارج ہوئی آوارہ صبا کیوں چپ ہے ختم ہوگا لگ کبھی سلسلہ اہل وفا سوچ اے داور مقتل یہ فضا کیوں چپ ہے مجھ پہ تاری ہے رہ عشق کی آسودہ تھکن تجھ پہ کیا گزری مری چاند بتا کیوں چپ ہے جاننے والے تو سب جان گئے ہوں گے علیم ایک مدت سے ترا ذہن رسا کیوں چپ ہے

Obaidullah Aleem

0 likes

کوئی دھن ہوں ہے وہ ہے وہ تری گیت ہی گائے جاؤں درد سینے ہے وہ ہے وہ اٹھے شور مچائے جاؤں خواب بن کر تو برستا رہے شبنم شبنم اور بس ہے وہ ہے وہ اسی موسم ہے وہ ہے وہ نہائے جاؤں تیرے ہی رنگ اترتے چلے جائیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو لکھوں تری تصویر بنائے جاؤں جس کو ملنا نہیں پھروں اس کا سے محبت کیسی سوچتا جاؤں مگر دل ہے وہ ہے وہ اتاریں جاؤں اب تو اس کا کی ہوئی جس پہ مجھے پیار آتا ہے زندگی آ تجھے سینے سے لگائے جاؤں یہی چہرے مری ہونے کی گواہی دیں گے ہر نئے حرف ہے وہ ہے وہ جاں اپنی سمائے جاؤں جان تو چیز ہے کیا رشتہ جاں سے آگے کوئی آواز دیے جائے ہے وہ ہے وہ آئی جاؤں شاید اس کا راہ پہ کچھ اور بھی راہی آئیں دھوپ ہے وہ ہے وہ چلتا رہوں سائے بچھائے جاؤں اہل دل ہوں گے تو بھلاکر سخن کو میرے بزم ہے وہ ہے وہ آ ہی گیا تو ہوں تو سنائے جاؤں

Obaidullah Aleem

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Obaidullah Aleem.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Obaidullah Aleem's ghazal.