کوئی دھن ہوں ہے وہ ہے وہ تری گیت ہی گائے جاؤں درد سینے ہے وہ ہے وہ اٹھے شور مچائے جاؤں خواب بن کر تو برستا رہے شبنم شبنم اور بس ہے وہ ہے وہ اسی موسم ہے وہ ہے وہ نہائے جاؤں تیرے ہی رنگ اترتے چلے جائیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو لکھوں تری تصویر بنائے جاؤں جس کو ملنا نہیں پھروں اس کا سے محبت کیسی سوچتا جاؤں مگر دل ہے وہ ہے وہ اتاریں جاؤں اب تو اس کا کی ہوئی جس پہ مجھے پیار آتا ہے زندگی آ تجھے سینے سے لگائے جاؤں یہی چہرے مری ہونے کی گواہی دیں گے ہر نئے حرف ہے وہ ہے وہ جاں اپنی سمائے جاؤں جان تو چیز ہے کیا رشتہ جاں سے آگے کوئی آواز دیے جائے ہے وہ ہے وہ آئی جاؤں شاید اس کا راہ پہ کچھ اور بھی راہی آئیں دھوپ ہے وہ ہے وہ چلتا رہوں سائے بچھائے جاؤں اہل دل ہوں گے تو بھلاکر سخن کو میرے بزم ہے وہ ہے وہ آ ہی گیا تو ہوں تو سنائے جاؤں
Related Ghazal
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے
Tehzeeb Hafi
292 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
More from Obaidullah Aleem
ہجر کرتے یا کوئی وصل گزارا کرتے ہم بہر حال بسر خواب تمہارا کرتے ایک ایسی بھی گھڑی عشق ہے وہ ہے وہ آئی تھی کہ ہم خاک کو ہاتھ لگاتے تو ستارہ کرتے اب تو مل جاؤ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کہ تمہاری خاطر اتنی دور آ گئے دنیا سے کنارہ کرتے محو آرائش رکھ ہے حقیقت خوشگوار سر بام آنکھ ا گر آئی لگ ہوتی تو نظارہ کرتے ایک چہرے ہے وہ ہے وہ تو ممکن نہیں اتنے چہرے ک سے سے کرتے جو کوئی عشق دوبارہ کرتے جب ہے یہ خا لگ دل آپ کی خلوت کے لیے پھروں کوئی آئی ی ہاں کیسے بے شرط کرتے کون رکھتا ہے اندھیرے ہے وہ ہے وہ دیا آنکھ ہے وہ ہے وہ خواب تیری جانب ہی تری لوگ اشارہ کرتے ظرف آئی لگ ک ہاں اور ترا حسن ک ہاں ہم تری چہرے سے آئی لگ سنوارا کرتے
Obaidullah Aleem
1 likes
ایسی تیز ہوا اور ایسی رات نہیں دیکھی لیکن ہم نے مولا جیسی ذات نہیں دیکھی ا سے کی شان عجیب کا منظر دیکھنے والا ہے اک ایسا خورشید کہ ج سے نے رات نہیں دیکھی بستر پر موجود رہے اور سیر ہفت افلاک ایسی کسی پر رحمت کی برسات نہیں دیکھی ا سے کی آل وہی جو ا سے کے نقش قدم پر صرف ذات کی ہم نے آل سادات نہیں دیکھی ایک شجر ہے ج سے کی شاخیں پھیلتی جاتی ہیں کسی شجر ہے وہ ہے وہ ہم نے ایسی بات نہیں دیکھی اک دریا رحمت ہے جو بہتا جاتا ہے یہ شان برکات کسی کے ساتھ نہیں دیکھی جھونپڑیوں کی پوچھوں بھی ہم نے دیکھی ہے لیکن ا سے کے در کے گداؤں والی بات نہیں دیکھی ا سے کے نام پہ ماریں خا لگ اب اعزاز ہمارا اور کسی کی یہ عزت اوقات نہیں دیکھی صدیوں کی ا سے دھوپ چھاؤں ہے وہ ہے وہ کوئی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بتلائے پوری ہوئی کون سی ا سے کی بات نہیں دیکھی اہل ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کون سا ہم پر ظلم نہیں ڈھایا کون سی بھیگتا ہم نے ا سے کے ہاتھ نہیں دیکھی
Obaidullah Aleem
0 likes
عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے اب ا سے دودمان بھی لگ چاہو کہ دم نکل جائے ملے ہیں یوں تو بے حد آؤ اب ملیں یوں بھی کہ روح گرمی انف سے سے پگھل جائے محبتوں ہے وہ ہے وہ غضب ہے دلوں کو دھڑکا سا کہ جانے کون ک ہاں راستہ بدل جائے زہے حقیقت دل جو تمنا تازہ تر ہے وہ ہے وہ رہے خوشا حقیقت عمر جو خوابوں ہی ہے وہ ہے وہ بہل جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت چراغ سر رہ گزاری دنیا ہوں جو اپنی ذات کی تنہائیوں ہے وہ ہے وہ جل جائے ہر ایک لہجہ یہی آرزو یہی حسرت جو آگ دل ہے وہ ہے وہ ہے حقیقت شعر ہے وہ ہے وہ بھی ڈھل جائے
Obaidullah Aleem
1 likes
تری پیار ہے وہ ہے وہ رسوا ہوں کر جائیں ک ہاں دیوانے لوگ جانے کیا کیا پوچھ رہے ہیں یہ جانے پہچانے لوگ ہر لمحہ احسا سے کی صحبا روح ہے وہ ہے وہ ڈھلتی جاتی ہے آب و زیست کا نشہ کچھ کم ہوں تو ہوں آئیں مے خانے لوگ چنو تمہیں ہم نے چاہا ہے کون بھلا یوں چاہےگا مانا اور بے حد آئیں گے جاناں سے پیار جتانے لوگ یوں گلیوں بازاروں ہے وہ ہے وہ آوارہ پھرتے رہتے ہیں چنو ا سے دنیا ہے وہ ہے وہ سبھی آئی ہوں عمر گنوانے لوگ آگے پیچھے دائیں چل کر سائے سے لہراتے ہیں دنیا بھی تو دشت بلا ہے ہم ہی نہیں دیوانے لوگ کیسے دکھوں کے موسم آئی کیسی آگ لگی یاروں اب صحراؤں سے لاتے ہیں پھولوں کے نظرانے لوگ کل ماتم بے قیمت ہوگا آج ان کی توقیر کروں دیکھو خون ج گر سے کیا کیا لکھتے ہیں افسانے لوگ
Obaidullah Aleem
1 likes
کچھ عشق تھا کچھ مجبوری تھی سو ہے وہ ہے وہ نے جیون وار دیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیسا زندہ آدمی تھا اک بے وجہ نے مجھ کو مار دیا اک سبز شاخ گلاب کی تھا اک دنیا اپنے خواب کی تھا حقیقت ایک بہار جو آئی نہیں ا سے کے لیے سب کچھ ہار دیا یہ سجا سجایا گھر ساتھی مری ذات نہیں میرا حال نہیں اے کاش کبھی جاناں جان سکو جو ا سے سکھ نے آزار دیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کھلی ہوئی اک سچائی مجھے جاننے والے جانتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کن لوگوں سے خوبصورت کی اور کن لوگوں کو پیار دیا حقیقت عشق بے حد مشکل تھا م گر آسان لگ تھا یوں جینا بھی ا سے عشق نے زندہ رہنے کا مجھے ظرف دیا پندار دیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ روتا ہوں اور آسمان سے تارے ٹوٹتے دیکھتا ہوں ان لوگوں پر جن لوگوں نے مری لوگوں کو آزار دیا مری بچوں کو اللہ رکھے ان تازہ ہوا کے جھونکوں نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ خشک پیڑ اڑائے کا تھا مجھے کیسا برگ و بار دیا
Obaidullah Aleem
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Obaidullah Aleem.
Similar Moods
More moods that pair well with Obaidullah Aleem's ghazal.







