ghazalKuch Alfaaz

تری پیار ہے وہ ہے وہ رسوا ہوں کر جائیں ک ہاں دیوانے لوگ جانے کیا کیا پوچھ رہے ہیں یہ جانے پہچانے لوگ ہر لمحہ احسا سے کی صحبا روح ہے وہ ہے وہ ڈھلتی جاتی ہے آب و زیست کا نشہ کچھ کم ہوں تو ہوں آئیں مے خانے لوگ چنو تمہیں ہم نے چاہا ہے کون بھلا یوں چاہےگا مانا اور بے حد آئیں گے جاناں سے پیار جتانے لوگ یوں گلیوں بازاروں ہے وہ ہے وہ آوارہ پھرتے رہتے ہیں چنو ا سے دنیا ہے وہ ہے وہ سبھی آئی ہوں عمر گنوانے لوگ آگے پیچھے دائیں چل کر سائے سے لہراتے ہیں دنیا بھی تو دشت بلا ہے ہم ہی نہیں دیوانے لوگ کیسے دکھوں کے موسم آئی کیسی آگ لگی یاروں اب صحراؤں سے لاتے ہیں پھولوں کے نظرانے لوگ کل ماتم بے قیمت ہوگا آج ان کی توقیر کروں دیکھو خون ج گر سے کیا کیا لکھتے ہیں افسانے لوگ

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

More from Obaidullah Aleem

वो रात बे-पनाह थी और मैं ग़रीब था वो जिस ने ये चराग़ जलाया अजीब था वो रौशनी कि आँख उठाई नहीं गई कल मुझ से मेरा चाँद बहुत ही क़रीब था देखा मुझे तो तब्अ रवाँ हो गई मिरी वो मुस्कुरा दिया तो मैं शाइ'र अदीब था रखता न क्यूँँ मैं रूह ओ बदन उस के सामने वो यूँँ भी था तबीब वो यूँँ भी तबीब था हर सिलसिला था उस का ख़ुदा से मिला हुआ चुप हो कि लब-कुशा हो बला का ख़तीब था मौज-ए-नशात ओ सैल-ए-ग़म-ए-जाँ थे एक साथ गुलशन में नग़्मा-संज अजब अंदलीब था मैं भी रहा हूँ ख़ल्वत-ए-जानाँ में एक शाम ये ख़्वाब है या वाक़ई मैं ख़ुश-नसीब था हर्फ़-ए-दुआ ओ दस्त-ए-सख़ावत के बाब में ख़ुद मेरा तजरबा है वो बे-हद नजीब था देखा है उस को ख़ल्वत ओ जल्वत में बार-हा वो आदमी बहुत ही अजीब-ओ-ग़रीब था लिक्खो तमाम उम्र मगर फिर भी तुम 'अलीम' उस को दिखा न पाओ वो ऐसा हबीब था

Obaidullah Aleem

0 likes

عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے اب ا سے دودمان بھی لگ چاہو کہ دم نکل جائے ملے ہیں یوں تو بے حد آؤ اب ملیں یوں بھی کہ روح گرمی انف سے سے پگھل جائے محبتوں ہے وہ ہے وہ غضب ہے دلوں کو دھڑکا سا کہ جانے کون ک ہاں راستہ بدل جائے زہے حقیقت دل جو تمنا تازہ تر ہے وہ ہے وہ رہے خوشا حقیقت عمر جو خوابوں ہی ہے وہ ہے وہ بہل جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت چراغ سر رہ گزاری دنیا ہوں جو اپنی ذات کی تنہائیوں ہے وہ ہے وہ جل جائے ہر ایک لہجہ یہی آرزو یہی حسرت جو آگ دل ہے وہ ہے وہ ہے حقیقت شعر ہے وہ ہے وہ بھی ڈھل جائے

Obaidullah Aleem

1 likes

ہجر کرتے یا کوئی وصل گزارا کرتے ہم بہر حال بسر خواب تمہارا کرتے ایک ایسی بھی گھڑی عشق ہے وہ ہے وہ آئی تھی کہ ہم خاک کو ہاتھ لگاتے تو ستارہ کرتے اب تو مل جاؤ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کہ تمہاری خاطر اتنی دور آ گئے دنیا سے کنارہ کرتے محو آرائش رکھ ہے حقیقت خوشگوار سر بام آنکھ ا گر آئی لگ ہوتی تو نظارہ کرتے ایک چہرے ہے وہ ہے وہ تو ممکن نہیں اتنے چہرے ک سے سے کرتے جو کوئی عشق دوبارہ کرتے جب ہے یہ خا لگ دل آپ کی خلوت کے لیے پھروں کوئی آئی ی ہاں کیسے بے شرط کرتے کون رکھتا ہے اندھیرے ہے وہ ہے وہ دیا آنکھ ہے وہ ہے وہ خواب تیری جانب ہی تری لوگ اشارہ کرتے ظرف آئی لگ ک ہاں اور ترا حسن ک ہاں ہم تری چہرے سے آئی لگ سنوارا کرتے

Obaidullah Aleem

1 likes

کوئی دھن ہوں ہے وہ ہے وہ تری گیت ہی گائے جاؤں درد سینے ہے وہ ہے وہ اٹھے شور مچائے جاؤں خواب بن کر تو برستا رہے شبنم شبنم اور بس ہے وہ ہے وہ اسی موسم ہے وہ ہے وہ نہائے جاؤں تیرے ہی رنگ اترتے چلے جائیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو لکھوں تری تصویر بنائے جاؤں جس کو ملنا نہیں پھروں اس کا سے محبت کیسی سوچتا جاؤں مگر دل ہے وہ ہے وہ اتاریں جاؤں اب تو اس کا کی ہوئی جس پہ مجھے پیار آتا ہے زندگی آ تجھے سینے سے لگائے جاؤں یہی چہرے مری ہونے کی گواہی دیں گے ہر نئے حرف ہے وہ ہے وہ جاں اپنی سمائے جاؤں جان تو چیز ہے کیا رشتہ جاں سے آگے کوئی آواز دیے جائے ہے وہ ہے وہ آئی جاؤں شاید اس کا راہ پہ کچھ اور بھی راہی آئیں دھوپ ہے وہ ہے وہ چلتا رہوں سائے بچھائے جاؤں اہل دل ہوں گے تو بھلاکر سخن کو میرے بزم ہے وہ ہے وہ آ ہی گیا تو ہوں تو سنائے جاؤں

Obaidullah Aleem

1 likes

گزرو لگ لگ ا سے طرح کہ تماشا نہیں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سمجھو کہ اب ہوں اور دوبارہ نہیں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک طبع رنگ رنگ تھی سو نذر گل ہوئی اب یہ کہ اپنے ساتھ بھی رہتا نہیں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں نے بھی مری ساتھ اٹھائے ہیں دکھ بے حد خوش ہوں کہ راہ شوق ہے وہ ہے وہ تنہا نہیں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پیچھے لگ بھاگ سمے کی اے ناشنا سے دھوپ سائے کے درمیان ہوں سایہ نہیں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو کچھ بھی ہوں ہے وہ ہے وہ اپنی ہی صورت ہے وہ ہے وہ ہوں علیم تاکتے نہیں ہوں میر و یگا لگ نہیں ہوں ہے وہ ہے وہ

Obaidullah Aleem

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Obaidullah Aleem.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Obaidullah Aleem's ghazal.