دشمنی سے یا کسی کو دوستی سے خوف ہے آدمی کو اب تو کیول آدمی سے خوف ہے آپ یہ کہتے ہیں مجھ سے ڈر نہیں ہے وہ ہے وہ ساتھ ہوں سچ تو یہ ہے یار مجھ کو آپ ہی سے خوف ہے مری بربا گرا کا قصہ سن لیا تھا اک دفع ب سے تبھی سے عاشقوں کو کرنے والے سے خوف ہے چمچماتی آپ کی دنیا مبارک آپ کو ہم تو اندھے ہیں سو ہم کو روشنی سے خوف ہے لاکھ سب کہتے رہیں ا سے زندگی سے عشق ہے پر حقیقت یہ ہے سب کو زندگی سے خوف ہے ا سے طرح ڈر لگ لگے ہیں ہم تمہارے عشق سے ج سے طرح سے مجرموں کو ہتھکڑی سے خوف ہے
Related Ghazal
یہ سات آٹھ پڑوسی ک ہاں سے آئی مری تمہارے دل ہے وہ ہے وہ تو کوئی لگ تھا سوائے مری کسی نے پا سے بٹھایا ب سے آگے یاد نہیں مجھے تو دوست و ہاں سے اٹھا کے لائے مری یہ سوچ کر لگ کیے اپنے درد ا سے کے سپرد حقیقت لالچی ہے اساسے لگ بیچ کھائے مری ادھر کدھر تو نیا ہے ی ہاں کہ پاگل ہے کسی نے کیا تجھے قصے نہیں سنائے مری حقیقت آزمائے مری دوست کو ضرور م گر اسے کہو کہ طریقے لگ آزمائے مری
Umair Najmi
59 likes
ج سے طرح سمے گزرنے کے لیے ہوتا ہے آدمی شکل پہ مرنے کے لیے ہوتا ہے تیری آنکھوں سے ملاقات ہوئی تب یہ کھلا ڈوبنے والا ابھرنے کے لیے ہوتا ہے عشق کیوں پیچھے ہٹا بات نبھانے سے میاں حسن تو خیر مکرنے کے لیے ہوتا ہے آنکھ ہوتی ہے کسی راہ کو تکنے کے لیے دل کسی پاؤں پہ دھرنے کے لیے ہوتا ہے دل کی دہلی کا چناؤ ہی ا پیش ہے صاحب جب بھی ہوتا ہے یہ ہَرنے کے لیے ہوتا ہے کوئی بستی ہوں اجڑنے کے لیے بستی ہے کوئی مجمع ہوں گزرا کے لیے ہوتا ہے
Ali Zaryoun
61 likes
جب حقیقت مری شا لگ ب شا لگ چلتا ہے پ سے منظر ہے وہ ہے وہ کوئی گانا چلتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پوری ذمہ داری سے پیتا ہوں مری لغزش سے مےخا لگ چلتا ہے آوارہ گر گرا پر خواب ہے لیکن ایک گلی ہے وہ ہے وہ آنا جانا چلتا ہے پل پل ہے وہ ہے وہ بجلی کے جھٹکے دیتے ہوں ایسے تو ب سے پاگل خا لگ چلتا ہے آپ کسی موقعے پر ماتم کرتے ہیں ہم لوگوں کا تو روزا لگ چلتا ہے جاناں کو مری چال پہ فکرے ک سے نے تھے ک سے لو کمر تراش کو اب دیوا لگ چلتا ہے
Zubair Ali Tabish
43 likes
ا گر تو بےوفا ہے دھیان رکھنا مجھے سب کچھ پتا ہے دھیان رکھنا بچھڑتے سمے ہم نے کہ دیا تھا ہمارا دل دکھا ہے دھیان رکھنا خدا ج سے کی محبت ہے وہ ہے وہ بنی ہوں حقیقت کئیوں کا خدا ہے دھیان رکھنا جسے جاناں دوست کیول جانتی ہوں حقیقت جاناں کو چاہتا ہے دھیان رکھنا
Anand Raj Singh
54 likes
یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے
Tehzeeb Hafi
292 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Rituraj kumar.
Similar Moods
More moods that pair well with Rituraj kumar's ghazal.







