ghazalKuch Alfaaz

اعزاز ہے کسی کا یا گردش زما لگ ٹوٹا ہے ایشیا ہے وہ ہے وہ سحر فرنگیا لگ تعمیر آشیاں سے ہے وہ ہے وہ نے یہ راز پایا اہل نوا کے حق ہے وہ ہے وہ بجلی ہے آشیا لگ یہ بندگی خدائی حقیقت بندگی گدائی یا بندہ خدا بن یا بندہ زما لگ غافل لگ ہوں خو گرا سے کر اپنی پاسبانی شاید کسی حرم کا تو بھی ہے آستا لگ اے لا الہ کے اجداد باقی نہیں ہے تجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ گفتار دلبرا لگ کردار قاہرا لگ تیری نگاہ سے دل سینوں ہے وہ ہے وہ کانپتے تھے کھویا گیا تو ہے تیرا جذب قلندرا لگ راز حرم سے شاید حفیظ با خبر ہے ہیں ا سے کی گفتگو کے انداز محرماؑ

Related Ghazal

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

جاناں حقیقت نہیں ہوں حسرت ہوں جو ملے خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت دولت ہوں جاناں ہوں خوشبو کے خواب کی خوشبو اور اتنے ہی بے مروت ہوں ک سے طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں جاناں مری زندگی کی عادت ہوں ک سے لیے دیکھتے ہوں آئی لگ جاناں تو خود سے بھی خوبصورت ہوں داستان ختم ہونے والی ہے جاناں مری آخری محبت ہوں

Jaun Elia

315 likes

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

More from Allama Iqbal

لا پھروں اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی ہاتھ آ جائے مجھے میرا مقام اے ساقی تین سو سال سے ہیں ہند کے مے خانے بند اب مناسب ہے ترا فیض ہوں آم اے ساقی میری مینا غزل ہے وہ ہے وہ تھی ذرا سی باقی شیخ کہتا ہے کہ ہے یہ بھی حرام اے ساقی شعر مردوں سے ہوا بیش تحقیق تہی رہ گئے صوفی و سر دامن کے غلام اے ساقی عشق کی تیغ جگر دار قسمیں لی کہ سے نے علم کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ خالی ہے نیام اے ساقی سینا روشن ہوں تو ہے سوز سخن عین حیات ہوں نہ روشن تو سخن مرگ دوام اے ساقی تو مری رات کو مہتاب سے محروم نہ رکھ تری پیمانے ہے وہ ہے وہ ہے ماہ تمام اے ساقی

Allama Iqbal

3 likes

لگ تو ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کے لیے ہے لگ آ سماں کے لیے ج ہاں ہے تری لیے تو نہیں ج ہاں کے لیے یہ عقل و دل ہیں شرر شعلہ محبت کے حقیقت خار و خ سے کے لیے ہے یہ نیستاں کے لیے مقام پرورش آہ و لالہ ہے یہ چمن لگ سیر گل کے لیے ہے لگ آشیاں کے لیے رہے گا راوی و نیل و فرات ہے وہ ہے وہ کب تک ترا سفی لگ کہ ہے بہر بے کراں کے لیے نشان راہ دکھاتے تھے جو ستاروں کو تر سے گئے ہیں کسی مرد راہ داں کے لیے نگہ بلند سخن دل نواز جاں پر سوز یہی ہے رخت سفر برق کے لیے ذرا سی بات تھی اندیشہ عزم نے اسے بڑھا دیا ہے فقط زیب داستان کے لیے مری گلو ہے وہ ہے وہ ہے اک نغمہ جبرائیل آشوب سنبھال کر جسے رکھا ہے لا مکان کے لیے

Allama Iqbal

1 likes

د گر گوں ہے ج ہاں تاروں کی گردش تیز ہے ساقی غوغا رستاخیز ہے وہ ہے وہ متاع دین و دانش ہے ساقی خیرو لٹ گئی اللہ والوں کی یہ ک سے کافر ادا کا غمزہ خون ریز ہے ساقی وہی دیری لگ بیماری وہی نا محکمی دل کی علاج ا سے کا وہی آب نشاط انگیز ہے ساقی حرم کے دل ہے وہ ہے وہ سوز آرزو پیدا نہیں ہوتا کہ پیدائی تری اب تک حجاب آمیز ہے ساقی لگ دل گیر پھروں کوئی رومی عجم کے لالہ زاروں سے وہی آب و گل ایران وہی تبریز ہے ساقی نہیں ہے نا امید حفیظ اپنی کشت ویران سے ذرا نمہ ہوں تو یہ مٹی بے حد زرخیز ہے ساقی فقیر راہ کو بخشی گئے اسرار سلطانی بہا مری نوا کی دولت پرویز ہے ساقی

Allama Iqbal

4 likes

سختیاں کرتا ہوں دل پر غیر سے غافل ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں یہ کیا اچھی کہی ظالم ہوں ہے وہ ہے وہ جاہل ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جبیں تک تھا کہ تیری جلوہ پیرائی لگ تھی جو نمود حق سے مٹ جاتا ہے حقیقت باطل ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ علم کے دریا سے نکلے غوطہ زن گوہر بدست وائے چھپتے خزف چین لب ساحل ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے مری ذلت ہی کچھ مری شرافت کی دلیل ج سے کی غفلت کو ملک روتے ہیں حقیقت غافل ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بزم ہستی اپنی آرائش پہ تو نازاں لگ ہوں تو تو اک تصویر ہے محفل کی اور محفل ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا پھرتا ہوں ہے وہ ہے وہ حفیظ اپنے آپ کو آپ ہی گویا مسافر آپ ہی منزل ہوں ہے وہ ہے وہ

Allama Iqbal

0 likes

اپنی جولان گاہ زیر آسمان سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ لو و گل خاک شہر یاراں کے کھیل کو اپنا ج ہاں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے حجابی سے تری ٹوٹا نگا ہوں کا طلسم اک ردا نیل گوں کو آ سماں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کارواں تھک کر فضا کے پیچ و خم ہے وہ ہے وہ رہ گیا تو مہر و تنخواہ و مشتری کو ہم اننا سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کی اک جست نے طے کر دیا قصہ تمام ا سے زمین و آ سماں کو بے کراں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ گئیں راز محبت پردہ داری ہا شوق تھی فغاں حقیقت بھی جسے ضبط فغاں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھی کسی درماندہ لائیں گی کی صدا دردناک ج سے کو آواز رحیل کارواں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ

Allama Iqbal

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Allama Iqbal.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Allama Iqbal's ghazal.