د گر گوں ہے ج ہاں تاروں کی گردش تیز ہے ساقی غوغا رستاخیز ہے وہ ہے وہ متاع دین و دانش ہے ساقی خیرو لٹ گئی اللہ والوں کی یہ ک سے کافر ادا کا غمزہ خون ریز ہے ساقی وہی دیری لگ بیماری وہی نا محکمی دل کی علاج ا سے کا وہی آب نشاط انگیز ہے ساقی حرم کے دل ہے وہ ہے وہ سوز آرزو پیدا نہیں ہوتا کہ پیدائی تری اب تک حجاب آمیز ہے ساقی لگ دل گیر پھروں کوئی رومی عجم کے لالہ زاروں سے وہی آب و گل ایران وہی تبریز ہے ساقی نہیں ہے نا امید حفیظ اپنی کشت ویران سے ذرا نمہ ہوں تو یہ مٹی بے حد زرخیز ہے ساقی فقیر راہ کو بخشی گئے اسرار سلطانی بہا مری نوا کی دولت پرویز ہے ساقی
Related Ghazal
مجھے ادا سے کر گئے ہوں خوش رہو مری مزاج پر گئے ہوں خوش رہو مری لیے لگ رک سکے تو کیا ہوا ج ہاں کہی ٹھہر گئے ہوں خوش رہو خوشی ہوئی ہے آج جاناں کو دیکھ کر بے حد نکھر سنور گئے ہوں خوش رہو ادا سے ہوں کسی کی بے وفائی پر وفا کہی تو کر گئے ہوں خوش رہو گلی ہے وہ ہے وہ اور لوگ بھی تھے آشنا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سلام بخیر کر گئے ہوں خوش رہو تمہیں تو مری دوستی پہ ناز تھا اسی سے اب مکر گئے ہوں خوش رہو کسی کی زندگی بنو کہ بندگی مری لیے تو مر گئے ہوں خوش رہو
Fazil Jamili
73 likes
اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے
Waseem Barelvi
107 likes
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں سو ا سے کے شہر ہے وہ ہے وہ کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے ا سے کو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز ا سے کی سو ہم بھی ا سے کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے ستارے تم تم بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے حشر ہیں ا سے کی غزال سی آنکھیں سنا ہے ا سے کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکليں ا سے کی سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کی سیاہ چشمگی خوشگوار ہے سو ا سے کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے آئی لگ تمثال ہے جبیں ا سے
Ahmad Faraz
65 likes
جھک کے چلتا ہوں کہ قد ا سے کے برابر لگ لگے دوسرا یہ کہ اسے راہ ہے وہ ہے وہ ٹھوکر لگ لگے یہ تری ساتھ تعلق کا بڑا فائدہ ہے آدمی ہوں بھی تو اوقات سے باہر لگ لگے نیم تاریک سا ماحول ہے درکار مجھے ایسا ماحول ج ہاں آنکھ لگے ڈر لگ لگے ماو نے چومنا ہوتے ہیں بریدا سر بھی ا سے سے کہنا کہ کوئی زخم جبیں پر لگ لگے یہ طلبگار نگا ہوں کے تقاضے ہر سو کوئی تو ایسی جگہ ہوں جو مجھے گھر لگ لگے یہ جو آئی لگ ہے دیکھوں تو خلا دکھتا ہے ا سے جگہ کچھ بھی لگ لگواؤں تو بہتر لگ لگے جاناں نے چھوڑا تو کسی اور سے ٹکراؤں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیسے ممکن ہے کہ اندھے کا کہی سر لگ لگے
Umair Najmi
46 likes
تو کیا یہ آخری خواہش ہے اچھا بھول جاؤں جہاں بھی جو بھی ہے تیرے علاوہ بھول جاؤں تو کیا یہ دوسرا ہی عشق اصلی عشق سمجھوں تو پہلا تجربے کی دین ہے وہ ہے وہ تھا بھول جاؤں تو کیا اتنا ہی آساں ہے کسی کو بھول جانا کہ ب سے باتوں ہی باتوں ہے وہ ہے وہ بھلاتا بھول جاؤں کبھی کہتا ہوں اس کا کو یاد رکھنا ٹھیک ہوگا مگر پھروں سوچتا ہوں فائدہ کیا بھول جاؤں یہ کوئی قتل تھوڑی ہے کہ بات آئی گئی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور اپنا نظر انداز ہونا بھول جاؤں ہے اتنی جزئیات ا سے سانحے کی پوچھیے مت ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کیا یاد رکھوں اور کیا کیا بھول جاؤں کوئی کب تک کسی کی بے وفائی یاد رکھے بہت ممکن ہے ہے وہ ہے وہ بھی رفتہ رفتہ بھول جاؤں تو کیا یہ کہ کے خود کو مطمئن کر لوگے جواد کہ حقیقت ہے بھی اسی جائیں گے لہذا بھول جاؤں
Jawwad Sheikh
42 likes
More from Allama Iqbal
اپنی جولان گاہ زیر آسمان سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ لو و گل خاک شہر یاراں کے کھیل کو اپنا ج ہاں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے حجابی سے تری ٹوٹا نگا ہوں کا طلسم اک ردا نیل گوں کو آ سماں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کارواں تھک کر فضا کے پیچ و خم ہے وہ ہے وہ رہ گیا تو مہر و تنخواہ و مشتری کو ہم اننا سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کی اک جست نے طے کر دیا قصہ تمام ا سے زمین و آ سماں کو بے کراں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ گئیں راز محبت پردہ داری ہا شوق تھی فغاں حقیقت بھی جسے ضبط فغاں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھی کسی درماندہ لائیں گی کی صدا دردناک ج سے کو آواز رحیل کارواں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ
Allama Iqbal
1 likes
خرد کے پا سے خبر کے سوا کچھ اور نہیں ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں ہر اک مقام سے آگے مقام ہے تیرا حیات ذوق سفر کے سوا کچھ اور نہیں گراں بہا ہے تو حفظ خو گرا سے ہے ور لگ گوہر ہے وہ ہے وہ آب گوہر کے سوا کچھ اور نہیں رگوں ہے وہ ہے وہ گردش خوں ہے ا گر تو کیا حاصل حیات شمع مزار کے سوا کچھ اور نہیں عرو سے لالہ مناسب نہیں ہے مجھ سے حجاب کہ ہے وہ ہے وہ نسیم سحر کے سوا کچھ اور نہیں جسے کساد سمجھتے ہیں تاجران فرنگ حقیقت اجازت متاع ہنر کے سوا کچھ اور نہیں بڑا کریم ہے اقبال بے نوا لیکن عطا شعلہ شرر کے سوا کچھ اور نہیں
Allama Iqbal
0 likes
دل سوز سے خالی ہے نگہ پاک نہیں ہے پھروں ا سے ہے وہ ہے وہ غضب کیا کہ تو بےباک نہیں ہے ہے نرا بھی اسی خاک ہے وہ ہے وہ پن ہاں غافل تو صاحب ادراک سرمہ فرنگ نہیں ہے حقیقت آنکھ کہ ہے پرکار سے روشن سخن ساز و ملا ہے نمنک نہیں ہے کیا صوفی و سر دامن کو خبر مری جنوں کی ان کا محکومی انجم بھی ابھی چاک نہیں ہے کب تک رہے گردش افلاک ہے وہ ہے وہ مری خاک یا ہے وہ ہے وہ نہیں یا بیاباں نہیں ہے بجلی ہوں نظر کوہ و شایاں پہ ہے مری مری لیے خ سے و خاشاک مومن جانباز نہیں ہے عالم ہے فقط صاحب لولاک کی میرا سے مومن نہیں جو حرف راز نہیں ہے
Allama Iqbal
1 likes
سختیاں کرتا ہوں دل پر غیر سے غافل ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں یہ کیا اچھی کہی ظالم ہوں ہے وہ ہے وہ جاہل ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جبیں تک تھا کہ تیری جلوہ پیرائی لگ تھی جو نمود حق سے مٹ جاتا ہے حقیقت باطل ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ علم کے دریا سے نکلے غوطہ زن گوہر بدست وائے چھپتے خزف چین لب ساحل ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے مری ذلت ہی کچھ مری شرافت کی دلیل ج سے کی غفلت کو ملک روتے ہیں حقیقت غافل ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بزم ہستی اپنی آرائش پہ تو نازاں لگ ہوں تو تو اک تصویر ہے محفل کی اور محفل ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا پھرتا ہوں ہے وہ ہے وہ حفیظ اپنے آپ کو آپ ہی گویا مسافر آپ ہی منزل ہوں ہے وہ ہے وہ
Allama Iqbal
0 likes
نہ آتے ہمیں ای سے ہے وہ ہے وہ تکرار کیا تھی مگر وعدہ کرتے ہوئے آر کیا تھی تمہارے پیامی نے سب راز کھولا غلطیاں ای سے ہے وہ ہے وہ بندے کی سرکار کیا تھی بھری بزم ہے وہ ہے وہ اپنے عاشق کو تڑا تری آنکھ مستی ہے وہ ہے وہ ہوشیار کیا تھی تامل تو تھا ان کو آنے ہے وہ ہے وہ شکایت مگر یہ بتا طرز انکار کیا تھی کھنچے خود بخود جانب طور موسی کشش تیری اے شوق دیدار کیا تھی کہیں ذکر رہتا ہے حفیظ تیرا فسوں تھا کوئی تیری گفتار کیا تھی
Allama Iqbal
2 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Allama Iqbal.
Similar Moods
More moods that pair well with Allama Iqbal's ghazal.







