خرد کے پا سے خبر کے سوا کچھ اور نہیں ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں ہر اک مقام سے آگے مقام ہے تیرا حیات ذوق سفر کے سوا کچھ اور نہیں گراں بہا ہے تو حفظ خو گرا سے ہے ور لگ گوہر ہے وہ ہے وہ آب گوہر کے سوا کچھ اور نہیں رگوں ہے وہ ہے وہ گردش خوں ہے ا گر تو کیا حاصل حیات شمع مزار کے سوا کچھ اور نہیں عرو سے لالہ مناسب نہیں ہے مجھ سے حجاب کہ ہے وہ ہے وہ نسیم سحر کے سوا کچھ اور نہیں جسے کساد سمجھتے ہیں تاجران فرنگ حقیقت اجازت متاع ہنر کے سوا کچھ اور نہیں بڑا کریم ہے اقبال بے نوا لیکن عطا شعلہ شرر کے سوا کچھ اور نہیں
Related Ghazal
چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں
Ali Zaryoun
105 likes
پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا
Fahmi Badayuni
96 likes
تری پیچھے ہوں گی دنیا پاگل بن کیا بولا ہے وہ ہے وہ نے کچھ سمجھا پاگل بن صحرا ہے وہ ہے وہ بھی ڈھونڈ لے دریا پاگل بن ورنا مر جائےگا پیاسا پاگل بن آدھا دا لگ آدھا پاگل نہیں نہیں نہیں اس کا کا کو پانا ہے تو پورا پاگل بن دانائی دکھلانے سے کچھ حاصل نہیں پاگل خا لگ ہے یہ دنیا پاگل بن دیکھیں تجھ کو لوگ تو پاگل ہوں جائیں اتنا عمدہ اتنا اعلیٰ پاگل بن لوگوں سے ڈر لگتا ہے تو گھر ہے وہ ہے وہ بیٹھ ج ہنستے ہے تو مری جیسا پاگل بن
Varun Anand
81 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
More from Allama Iqbal
ہر اجازت مسافر ہر چیز راہی کیا چاند تارے کیا مرغ و ماہی تو مرد میدان تو میر لشکر نوری حضوری تری سپاہی کچھ دودمان اپنی تو نے لگ جانی یہ بے سوا گرا یہ کم نگاہی دنیا دوں کی کب تک غلامی یا راہبی کر یا پادشاہی پیر حرم کو دیکھا ہے ہے وہ ہے وہ نے کردار بے سوز گفتار واہی
Allama Iqbal
4 likes
لا پھروں اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی ہاتھ آ جائے مجھے میرا مقام اے ساقی تین سو سال سے ہیں ہند کے مے خانے بند اب مناسب ہے ترا فیض ہوں آم اے ساقی میری مینا غزل ہے وہ ہے وہ تھی ذرا سی باقی شیخ کہتا ہے کہ ہے یہ بھی حرام اے ساقی شعر مردوں سے ہوا بیش تحقیق تہی رہ گئے صوفی و سر دامن کے غلام اے ساقی عشق کی تیغ جگر دار قسمیں لی کہ سے نے علم کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ خالی ہے نیام اے ساقی سینا روشن ہوں تو ہے سوز سخن عین حیات ہوں نہ روشن تو سخن مرگ دوام اے ساقی تو مری رات کو مہتاب سے محروم نہ رکھ تری پیمانے ہے وہ ہے وہ ہے ماہ تمام اے ساقی
Allama Iqbal
3 likes
د گر گوں ہے ج ہاں تاروں کی گردش تیز ہے ساقی غوغا رستاخیز ہے وہ ہے وہ متاع دین و دانش ہے ساقی خیرو لٹ گئی اللہ والوں کی یہ ک سے کافر ادا کا غمزہ خون ریز ہے ساقی وہی دیری لگ بیماری وہی نا محکمی دل کی علاج ا سے کا وہی آب نشاط انگیز ہے ساقی حرم کے دل ہے وہ ہے وہ سوز آرزو پیدا نہیں ہوتا کہ پیدائی تری اب تک حجاب آمیز ہے ساقی لگ دل گیر پھروں کوئی رومی عجم کے لالہ زاروں سے وہی آب و گل ایران وہی تبریز ہے ساقی نہیں ہے نا امید حفیظ اپنی کشت ویران سے ذرا نمہ ہوں تو یہ مٹی بے حد زرخیز ہے ساقی فقیر راہ کو بخشی گئے اسرار سلطانی بہا مری نوا کی دولت پرویز ہے ساقی
Allama Iqbal
4 likes
اپنی جولان گاہ زیر آسمان سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ لو و گل خاک شہر یاراں کے کھیل کو اپنا ج ہاں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے حجابی سے تری ٹوٹا نگا ہوں کا طلسم اک ردا نیل گوں کو آ سماں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کارواں تھک کر فضا کے پیچ و خم ہے وہ ہے وہ رہ گیا تو مہر و تنخواہ و مشتری کو ہم اننا سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کی اک جست نے طے کر دیا قصہ تمام ا سے زمین و آ سماں کو بے کراں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ گئیں راز محبت پردہ داری ہا شوق تھی فغاں حقیقت بھی جسے ضبط فغاں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھی کسی درماندہ لائیں گی کی صدا دردناک ج سے کو آواز رحیل کارواں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ
Allama Iqbal
1 likes
سختیاں کرتا ہوں دل پر غیر سے غافل ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں یہ کیا اچھی کہی ظالم ہوں ہے وہ ہے وہ جاہل ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جبیں تک تھا کہ تیری جلوہ پیرائی لگ تھی جو نمود حق سے مٹ جاتا ہے حقیقت باطل ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ علم کے دریا سے نکلے غوطہ زن گوہر بدست وائے چھپتے خزف چین لب ساحل ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے مری ذلت ہی کچھ مری شرافت کی دلیل ج سے کی غفلت کو ملک روتے ہیں حقیقت غافل ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بزم ہستی اپنی آرائش پہ تو نازاں لگ ہوں تو تو اک تصویر ہے محفل کی اور محفل ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا پھرتا ہوں ہے وہ ہے وہ حفیظ اپنے آپ کو آپ ہی گویا مسافر آپ ہی منزل ہوں ہے وہ ہے وہ
Allama Iqbal
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Allama Iqbal.
Similar Moods
More moods that pair well with Allama Iqbal's ghazal.







