ghazalKuch Alfaaz

نہ آتے ہمیں ای سے ہے وہ ہے وہ تکرار کیا تھی مگر وعدہ کرتے ہوئے آر کیا تھی تمہارے پیامی نے سب راز کھولا غلطیاں ای سے ہے وہ ہے وہ بندے کی سرکار کیا تھی بھری بزم ہے وہ ہے وہ اپنے عاشق کو تڑا تری آنکھ مستی ہے وہ ہے وہ ہوشیار کیا تھی تامل تو تھا ان کو آنے ہے وہ ہے وہ شکایت مگر یہ بتا طرز انکار کیا تھی کھنچے خود بخود جانب طور موسی کشش تیری اے شوق دیدار کیا تھی کہیں ذکر رہتا ہے حفیظ تیرا فسوں تھا کوئی تیری گفتار کیا تھی

Related Ghazal

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

More from Allama Iqbal

لگ تو ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کے لیے ہے لگ آ سماں کے لیے ج ہاں ہے تری لیے تو نہیں ج ہاں کے لیے یہ عقل و دل ہیں شرر شعلہ محبت کے حقیقت خار و خ سے کے لیے ہے یہ نیستاں کے لیے مقام پرورش آہ و لالہ ہے یہ چمن لگ سیر گل کے لیے ہے لگ آشیاں کے لیے رہے گا راوی و نیل و فرات ہے وہ ہے وہ کب تک ترا سفی لگ کہ ہے بہر بے کراں کے لیے نشان راہ دکھاتے تھے جو ستاروں کو تر سے گئے ہیں کسی مرد راہ داں کے لیے نگہ بلند سخن دل نواز جاں پر سوز یہی ہے رخت سفر برق کے لیے ذرا سی بات تھی اندیشہ عزم نے اسے بڑھا دیا ہے فقط زیب داستان کے لیے مری گلو ہے وہ ہے وہ ہے اک نغمہ جبرائیل آشوب سنبھال کر جسے رکھا ہے لا مکان کے لیے

Allama Iqbal

1 likes

گلزار ہست و بود لگ بیگا لگ وار دیکھ ہے دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھ آیا ہے تو ج ہاں ہے وہ ہے وہ مثال شرار دیکھ دم دے لگ جائے ہستی نا پائیدار دیکھ مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو میرا شوق دیکھ میرا انتظار دیکھ کھولی ہیں ذوق دید نے آنکھیں تری ا گر ہر رہگزر ہے وہ ہے وہ نقش کف پا یار دیکھ

Allama Iqbal

1 likes

نالہ ہے بلبل شوریدہ ترا خام ابھی اپنے سینے ہے وہ ہے وہ اسے اور ذرا تھام ابھی پختہ ہوتی ہے ا گر مصلحت اندیش ہوں عقل عشق ہوں مصلحت اندیش تو ہے خام ابھی بے خطر کود پڑا آتش نمرود ہے وہ ہے وہ عشق عقل ہے محوتماشا لب بام ابھی عشق فرمودہ قاصد سے سبک گام عمل عقل سمجھی ہی نہیں معنی پیغام ابھی شیوا عشق ہے آزا گرا و دہر آشوبی تو ہے زناری بت خا لگ ایام ابھی عذر پرہیز پہ کہتا ہے بگڑ کر ساقی ہے تری دل ہے وہ ہے وہ وہی کاوش انجام ابھی سعی پیہم ہے ترازو کم و کیف حیات تیری میزان ہے شمار سحر و شام ابھی ابر نیساں یہ تنک بخشی شبنم کب تک مری کوہسار کے لالے ہیں تہی جام ابھی بادہ گردان عجم حقیقت عربی مری شراب مری میک اپ سے جھجکتے ہیں می آشام ابھی خبر حفیظ کی لائی ہے گلستاں سے نسیم گلزار ناز نو گرفتار فڑکتا ہے تہ دام ابھی

Allama Iqbal

3 likes

انوکھی وضع ہے سارے زمانے سے نرالے ہیں یہ عاشق کون سی بستی کے یا رب رہنے والے ہیں علاج درد ہے وہ ہے وہ بھی درد کی لذت پہ مرتا ہوں جو تھے چھالوں ہے وہ ہے وہ کانٹے نوک سوزن سے نکالے ہیں فلا پھولا رہے یا رب چمن مری امیدوں کا ج گر کا خون دے دے کر یہ بوٹے ہے وہ ہے وہ نے پالے ہیں رلاتی ہے مجھے راتوں کو خموشی ستاروں کی نرالا عشق ہے میرا نرالے مری نالے ہیں لگ پوچھو مجھ سے لذت خانماں برباد رہنے کی نشمن سیکڑوں ہے وہ ہے وہ نے بنا کر پھونک ڈالے ہیں نہیں بیگانگی اچھی رفیق راہ منزل سے ٹھہر جا اے شرر ہم بھی تو آخر مٹنے والے ہیں امید حور نے سب کچھ سکھا رکھا ہے واعظ کو یہ حضرت دیکھنے ہے وہ ہے وہ سیدھے سادھے بھولے بھالے ہیں مری اشعار اے حفیظ کیوں پیاری لگ ہوں مجھ کو مری ٹوٹے ہوئے دل کے یہ درد انگیز نالے ہیں

Allama Iqbal

0 likes

ہر اجازت مسافر ہر چیز راہی کیا چاند تارے کیا مرغ و ماہی تو مرد میدان تو میر لشکر نوری حضوری تری سپاہی کچھ دودمان اپنی تو نے لگ جانی یہ بے سوا گرا یہ کم نگاہی دنیا دوں کی کب تک غلامی یا راہبی کر یا پادشاہی پیر حرم کو دیکھا ہے ہے وہ ہے وہ نے کردار بے سوز گفتار واہی

Allama Iqbal

4 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Allama Iqbal.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Allama Iqbal's ghazal.