انوکھی وضع ہے سارے زمانے سے نرالے ہیں یہ عاشق کون سی بستی کے یا رب رہنے والے ہیں علاج درد ہے وہ ہے وہ بھی درد کی لذت پہ مرتا ہوں جو تھے چھالوں ہے وہ ہے وہ کانٹے نوک سوزن سے نکالے ہیں فلا پھولا رہے یا رب چمن مری امیدوں کا ج گر کا خون دے دے کر یہ بوٹے ہے وہ ہے وہ نے پالے ہیں رلاتی ہے مجھے راتوں کو خموشی ستاروں کی نرالا عشق ہے میرا نرالے مری نالے ہیں لگ پوچھو مجھ سے لذت خانماں برباد رہنے کی نشمن سیکڑوں ہے وہ ہے وہ نے بنا کر پھونک ڈالے ہیں نہیں بیگانگی اچھی رفیق راہ منزل سے ٹھہر جا اے شرر ہم بھی تو آخر مٹنے والے ہیں امید حور نے سب کچھ سکھا رکھا ہے واعظ کو یہ حضرت دیکھنے ہے وہ ہے وہ سیدھے سادھے بھولے بھالے ہیں مری اشعار اے حفیظ کیوں پیاری لگ ہوں مجھ کو مری ٹوٹے ہوئے دل کے یہ درد انگیز نالے ہیں
Related Ghazal
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا
Hasan Abbasi
235 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
More from Allama Iqbal
ہر اجازت مسافر ہر چیز راہی کیا چاند تارے کیا مرغ و ماہی تو مرد میدان تو میر لشکر نوری حضوری تری سپاہی کچھ دودمان اپنی تو نے لگ جانی یہ بے سوا گرا یہ کم نگاہی دنیا دوں کی کب تک غلامی یا راہبی کر یا پادشاہی پیر حرم کو دیکھا ہے ہے وہ ہے وہ نے کردار بے سوز گفتار واہی
Allama Iqbal
4 likes
اپنی جولان گاہ زیر آسمان سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ لو و گل خاک شہر یاراں کے کھیل کو اپنا ج ہاں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے حجابی سے تری ٹوٹا نگا ہوں کا طلسم اک ردا نیل گوں کو آ سماں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کارواں تھک کر فضا کے پیچ و خم ہے وہ ہے وہ رہ گیا تو مہر و تنخواہ و مشتری کو ہم اننا سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کی اک جست نے طے کر دیا قصہ تمام ا سے زمین و آ سماں کو بے کراں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ گئیں راز محبت پردہ داری ہا شوق تھی فغاں حقیقت بھی جسے ضبط فغاں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھی کسی درماندہ لائیں گی کی صدا دردناک ج سے کو آواز رحیل کارواں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ
Allama Iqbal
1 likes
خرد کے پا سے خبر کے سوا کچھ اور نہیں ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں ہر اک مقام سے آگے مقام ہے تیرا حیات ذوق سفر کے سوا کچھ اور نہیں گراں بہا ہے تو حفظ خو گرا سے ہے ور لگ گوہر ہے وہ ہے وہ آب گوہر کے سوا کچھ اور نہیں رگوں ہے وہ ہے وہ گردش خوں ہے ا گر تو کیا حاصل حیات شمع مزار کے سوا کچھ اور نہیں عرو سے لالہ مناسب نہیں ہے مجھ سے حجاب کہ ہے وہ ہے وہ نسیم سحر کے سوا کچھ اور نہیں جسے کساد سمجھتے ہیں تاجران فرنگ حقیقت اجازت متاع ہنر کے سوا کچھ اور نہیں بڑا کریم ہے اقبال بے نوا لیکن عطا شعلہ شرر کے سوا کچھ اور نہیں
Allama Iqbal
0 likes
कुशादा दस्त-ए-करम जब वो बे-नियाज़ करे नियाज़-मंद न क्यूँँ आजिज़ी पे नाज़ करे बिठा के अर्श पे रक्खा है तू ने ऐ वाइ'ज़ ख़ुदा वो क्या है जो बंदों से एहतिराज़ करे मिरी निगाह में वो रिंद ही नहीं साक़ी जो होशियारी ओ मस्ती में इम्तियाज़ करे मुदाम गोश-ब-दिल रह ये साज़ है ऐसा जो हो शिकस्ता तो पैदा नवा-ए-राज़ करे कोई ये पूछे कि वाइ'ज़ का क्या बिगड़ता है जो बे-अमल पे भी रहमत वो बे-नियाज़ करे सुख़न में सोज़ इलाही कहाँ से आता है ये चीज़ वो है कि पत्थर को भी गुदाज़ करे तमीज़-ए-लाला-ओ-गुल से है नाला-ए-बुलबुल जहाँ में वा न कोई चश्म-ए-इम्तियाज़ करे ग़ुरूर-ए-ज़ोहद ने सिखला दिया है वाइ'ज़ को कि बंदगान-ए-ख़ुदा पर ज़बाँ दराज़ करे हवा हो ऐसी कि हिन्दोस्ताँ से ऐ 'इक़बाल' उड़ा के मुझ को ग़ुबार-ए-रह-ए-हिजाज़ करे
Allama Iqbal
0 likes
د گر گوں ہے ج ہاں تاروں کی گردش تیز ہے ساقی غوغا رستاخیز ہے وہ ہے وہ متاع دین و دانش ہے ساقی خیرو لٹ گئی اللہ والوں کی یہ ک سے کافر ادا کا غمزہ خون ریز ہے ساقی وہی دیری لگ بیماری وہی نا محکمی دل کی علاج ا سے کا وہی آب نشاط انگیز ہے ساقی حرم کے دل ہے وہ ہے وہ سوز آرزو پیدا نہیں ہوتا کہ پیدائی تری اب تک حجاب آمیز ہے ساقی لگ دل گیر پھروں کوئی رومی عجم کے لالہ زاروں سے وہی آب و گل ایران وہی تبریز ہے ساقی نہیں ہے نا امید حفیظ اپنی کشت ویران سے ذرا نمہ ہوں تو یہ مٹی بے حد زرخیز ہے ساقی فقیر راہ کو بخشی گئے اسرار سلطانی بہا مری نوا کی دولت پرویز ہے ساقی
Allama Iqbal
4 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Allama Iqbal.
Similar Moods
More moods that pair well with Allama Iqbal's ghazal.







