ghazalKuch Alfaaz

कुशादा दस्त-ए-करम जब वो बे-नियाज़ करे नियाज़-मंद न क्यूँँ आजिज़ी पे नाज़ करे बिठा के अर्श पे रक्खा है तू ने ऐ वाइ'ज़ ख़ुदा वो क्या है जो बंदों से एहतिराज़ करे मिरी निगाह में वो रिंद ही नहीं साक़ी जो होशियारी ओ मस्ती में इम्तियाज़ करे मुदाम गोश-ब-दिल रह ये साज़ है ऐसा जो हो शिकस्ता तो पैदा नवा-ए-राज़ करे कोई ये पूछे कि वाइ'ज़ का क्या बिगड़ता है जो बे-अमल पे भी रहमत वो बे-नियाज़ करे सुख़न में सोज़ इलाही कहाँ से आता है ये चीज़ वो है कि पत्थर को भी गुदाज़ करे तमीज़-ए-लाला-ओ-गुल से है नाला-ए-बुलबुल जहाँ में वा न कोई चश्म-ए-इम्तियाज़ करे ग़ुरूर-ए-ज़ोहद ने सिखला दिया है वाइ'ज़ को कि बंदगान-ए-ख़ुदा पर ज़बाँ दराज़ करे हवा हो ऐसी कि हिन्दोस्ताँ से ऐ 'इक़बाल' उड़ा के मुझ को ग़ुबार-ए-रह-ए-हिजाज़ करे

Related Ghazal

برسوں پرانا دوست ملا چنو غیر ہوں دیکھا رکا جھجھک کے کہا جاناں عمیر ہوں ملتے ہیں مشکلوں سے ی ہاں ہم خیال لوگ تری تمام چاہنے والوں کی خیر ہوں کمرے ہے وہ ہے وہ سگریٹوں کا دھواں اور تیری مہک چنو شدید دھند ہے وہ ہے وہ باغوں کی سیر ہوں ہم مطمئن بے حد ہیں ا گر خوش نہیں بھی ہیں جاناں خوش ہوں کیا ہوا جو ہمارے بغیر ہوں پیروں ہے وہ ہے وہ ا سے کے سر کو دھریں التجا کریں اک التجا کہ جس کا لگ سر ہوں لگ پیر ہوں

Umair Najmi

59 likes

نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم اندھیرا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم خموشی سے ادا ہوں رسم دوری کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم یہ کافی ہے کہ ہم دشمن نہیں ہیں وفا داری کا دعویٰ کیوں کریں ہم وفا اخلاص قربانی محبت اب ان لفظوں کا پیچھا کیوں کریں ہم ہماری ہی تمنا کیوں کروں جاناں تمہاری ہی تمنا کیوں کریں ہم کیا تھا عہد جب لمحوں ہے وہ ہے وہ ہم نے تو ساری عمر ایفا کیوں کریں ہم نہیں دنیا کو جب پروا ہماری تو پھروں دنیا کی پروا کیوں کریں ہم یہ بستی ہے مسلمانوں کی بستی ی ہاں کار مسیحا کیوں کریں ہم

Jaun Elia

67 likes

چل خواہش کی بات کریںگے خالی ڈش کی بات کریںگے پہلے پیاسے تو بن جاؤ پھروں بارش کی بات کریںگے آنا ٹوٹا رشتہ لے کر گنجائش کی بات کریںگے بندے اک دو سجدے کر کے فرمائش کی بات کریںگے جاناں اوروں کے شعر سناؤ ہم تابش کی بات کریںگے

Zubair Ali Tabish

37 likes

بات کرنی ہے بات کون کرے درد سے دو دو ہاتھ کون کرے ہم ستارے تم تمہیں بلاتے ہیں چاند لگ ہوں تو رات کون کرے اب تجھے رب کہی یا بت سمجھیں عشق ہے وہ ہے وہ ذات پات کون کرے زندگی بھر کی تھے کمائی جاناں ا سے سے زیادہ زکات کون کرے

Kumar Vishwas

56 likes

کوئی اتنا پیارا کیسے ہوں سکتا ہے پھروں سارے کا سارا کیسے ہوں سکتا ہے کیسے کسی کی یاد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندہ رکھتی ہے ایک خیال سہارا کیسے ہوں سکتا ہے تجھ سے جب مل کر بھی اداسی کم نہیں ہوتی تری بغیر گزارا کیسے ہوں سکتا ہے یار ہوا سے کیسے آگ بھڑک اٹھتی ہے لفظ کوئی انگارا کیسے ہوں سکتا ہے کون زمانے بھر کی ٹھوکریں کھا کر خوش ہے درد کسی کو پیارا کیسے ہوں سکتا ہے ہم بھی کیسے ایک ہی بے وجہ کے ہوں کر رہ جائیں حقیقت بھی صرف ہمارا کیسے ہوں سکتا ہے کیسے ہوں سکتا ہے جو کچھ بھی ہے وہ ہے وہ چا ہوں بول نا مری یارا کیسے ہوں سکتا ہے

Jawwad Sheikh

39 likes

More from Allama Iqbal

اپنی جولان گاہ زیر آسمان سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ لو و گل خاک شہر یاراں کے کھیل کو اپنا ج ہاں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے حجابی سے تری ٹوٹا نگا ہوں کا طلسم اک ردا نیل گوں کو آ سماں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کارواں تھک کر فضا کے پیچ و خم ہے وہ ہے وہ رہ گیا تو مہر و تنخواہ و مشتری کو ہم اننا سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کی اک جست نے طے کر دیا قصہ تمام ا سے زمین و آ سماں کو بے کراں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ گئیں راز محبت پردہ داری ہا شوق تھی فغاں حقیقت بھی جسے ضبط فغاں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھی کسی درماندہ لائیں گی کی صدا دردناک ج سے کو آواز رحیل کارواں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ

Allama Iqbal

1 likes

خرد کے پا سے خبر کے سوا کچھ اور نہیں ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں ہر اک مقام سے آگے مقام ہے تیرا حیات ذوق سفر کے سوا کچھ اور نہیں گراں بہا ہے تو حفظ خو گرا سے ہے ور لگ گوہر ہے وہ ہے وہ آب گوہر کے سوا کچھ اور نہیں رگوں ہے وہ ہے وہ گردش خوں ہے ا گر تو کیا حاصل حیات شمع مزار کے سوا کچھ اور نہیں عرو سے لالہ مناسب نہیں ہے مجھ سے حجاب کہ ہے وہ ہے وہ نسیم سحر کے سوا کچھ اور نہیں جسے کساد سمجھتے ہیں تاجران فرنگ حقیقت اجازت متاع ہنر کے سوا کچھ اور نہیں بڑا کریم ہے اقبال بے نوا لیکن عطا شعلہ شرر کے سوا کچھ اور نہیں

Allama Iqbal

0 likes

دل سوز سے خالی ہے نگہ پاک نہیں ہے پھروں ا سے ہے وہ ہے وہ غضب کیا کہ تو بےباک نہیں ہے ہے نرا بھی اسی خاک ہے وہ ہے وہ پن ہاں غافل تو صاحب ادراک سرمہ فرنگ نہیں ہے حقیقت آنکھ کہ ہے پرکار سے روشن سخن ساز و ملا ہے نمنک نہیں ہے کیا صوفی و سر دامن کو خبر مری جنوں کی ان کا محکومی انجم بھی ابھی چاک نہیں ہے کب تک رہے گردش افلاک ہے وہ ہے وہ مری خاک یا ہے وہ ہے وہ نہیں یا بیاباں نہیں ہے بجلی ہوں نظر کوہ و شایاں پہ ہے مری مری لیے خ سے و خاشاک مومن جانباز نہیں ہے عالم ہے فقط صاحب لولاک کی میرا سے مومن نہیں جو حرف راز نہیں ہے

Allama Iqbal

1 likes

ہر اجازت مسافر ہر چیز راہی کیا چاند تارے کیا مرغ و ماہی تو مرد میدان تو میر لشکر نوری حضوری تری سپاہی کچھ دودمان اپنی تو نے لگ جانی یہ بے سوا گرا یہ کم نگاہی دنیا دوں کی کب تک غلامی یا راہبی کر یا پادشاہی پیر حرم کو دیکھا ہے ہے وہ ہے وہ نے کردار بے سوز گفتار واہی

Allama Iqbal

4 likes

نالہ ہے بلبل شوریدہ ترا خام ابھی اپنے سینے ہے وہ ہے وہ اسے اور ذرا تھام ابھی پختہ ہوتی ہے ا گر مصلحت اندیش ہوں عقل عشق ہوں مصلحت اندیش تو ہے خام ابھی بے خطر کود پڑا آتش نمرود ہے وہ ہے وہ عشق عقل ہے محوتماشا لب بام ابھی عشق فرمودہ قاصد سے سبک گام عمل عقل سمجھی ہی نہیں معنی پیغام ابھی شیوا عشق ہے آزا گرا و دہر آشوبی تو ہے زناری بت خا لگ ایام ابھی عذر پرہیز پہ کہتا ہے بگڑ کر ساقی ہے تری دل ہے وہ ہے وہ وہی کاوش انجام ابھی سعی پیہم ہے ترازو کم و کیف حیات تیری میزان ہے شمار سحر و شام ابھی ابر نیساں یہ تنک بخشی شبنم کب تک مری کوہسار کے لالے ہیں تہی جام ابھی بادہ گردان عجم حقیقت عربی مری شراب مری میک اپ سے جھجکتے ہیں می آشام ابھی خبر حفیظ کی لائی ہے گلستاں سے نسیم گلزار ناز نو گرفتار فڑکتا ہے تہ دام ابھی

Allama Iqbal

3 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Allama Iqbal.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Allama Iqbal's ghazal.