چل خواہش کی بات کریںگے خالی ڈش کی بات کریںگے پہلے پیاسے تو بن جاؤ پھروں بارش کی بات کریںگے آنا ٹوٹا رشتہ لے کر گنجائش کی بات کریںگے بندے اک دو سجدے کر کے فرمائش کی بات کریںگے جاناں اوروں کے شعر سناؤ ہم تابش کی بات کریںگے
Related Ghazal
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں سو ا سے کے شہر ہے وہ ہے وہ کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے ا سے کو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز ا سے کی سو ہم بھی ا سے کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے ستارے تم تم بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے حشر ہیں ا سے کی غزال سی آنکھیں سنا ہے ا سے کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکليں ا سے کی سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کی سیاہ چشمگی خوشگوار ہے سو ا سے کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے آئی لگ تمثال ہے جبیں ا سے
Ahmad Faraz
65 likes
دل کو تیری خواہش پہلی بار ہوئی ا سے صحرا ہے وہ ہے وہ بارش پہلی بار ہوئی مانگنے والے ہیرے اندھیرا مانگتے ہیں اشکوں کی فرمائش پہلی بار ہوئی ڈوبنے والے اک اک کر کے آ جائیں دریا ہے وہ ہے وہ گنجائش پہلی بار ہوئی
Abrar Kashif
46 likes
چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا
Waseem Barelvi
103 likes
More from Zubair Ali Tabish
چاند کو دامن ہے وہ ہے وہ لا کر رکھ دیا ا سے نے مری گود ہے وہ ہے وہ سر رکھ دیا آنکھ ہے وہ ہے وہ آنسو ہے ک سے کے نام کے ک سے نے کشتی ہے وہ ہے وہ سمندر رکھ دیا حقیقت بتانے لگ گیا تو مجبوریاں اور پھروں ہم نے ریسیور رکھ دیا
Zubair Ali Tabish
31 likes
بیٹھے بیٹھے اک دم سے چونکاتی ہے یاد تری کب دستک دے کر آتی ہے تتلی کے جیسی ہے مری ہر خواہش ہاتھ لگانے سے پہلے اڑ جاتی ہے مری سجدے راز نہیں رہنے والے ا سے کی چوکھٹ ماتھے کو چمکاتی ہے عشق ہے وہ ہے وہ جتنا بہکو اتنا ہی اچھا یہ گمراہی منزل تک پہنچاتی ہے پہلی پہلی بار غضب سا لگتا ہے دھیرے دھیرے عادت سی ہوں جاتی ہے جاناں ا سے کو بھی سمجھا کر پچھتاؤگے حقیقت بھی مری ہی جیسی جذباتی ہے
Zubair Ali Tabish
27 likes
تمہارے غم سے توبہ کر رہا ہوں ت غضب ہے ہے وہ ہے وہ ایسا کر رہا ہوں ہے اپنے ہاتھ ہے وہ ہے وہ اپنا گریبان لگ جانے ک سے سے جھگڑا کر رہا ہوں بے حد سے بند تالے کھل رہے ہیں تری سب خط اکٹھا کر رہا ہوں کوئی تتلی نشانے پر نہیں ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے رنگوں کا پیچھا کر رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ رسمًا کہ رہا ہوں پھروں ملیںگے یہ مت سمجھو کہ وعدہ کر رہا ہوں مری احباب سارے شہر ہے وہ ہے وہ ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے گاؤں ہے وہ ہے وہ کیا کر رہا ہوں مری ہر اک غزل اصلی ہے صاحب کئی برسوں سے دھندا کر رہا ہوں
Zubair Ali Tabish
38 likes
بھرے ہوئے جام پر سراحی کا سر جھکا تو برا لگے گا جسے تیری آرزو نہیں تو اسے ملا تو برا لگے گا یہ ایسا رستہ ہے ج سے پہ ہر کوئی بارہا لڑکھڑا رہا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہلی ٹھوکر کے بعد ہی گر سنبھل گیا تو تو برا لگے گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ خوش ہوں ا سے کے نکالنے پر اور اتنا آگے نکل چکا ہوں کے اب اچانک سے ا سے نے واپ سے بلا لیا تو برا لگے گا یہ آخری کمپکمپاتا جملہ کہ ا سے تعلق کو ختم کر دو بڑے جتن سے کہا ہے ا سے نے نہیں کیا تو برا لگے گا لگ جانے کتنے غموں کو پینے کے بعد تابش چڑھی اداسی کسی نے ایسے ہے وہ ہے وہ آ کے ہم کو ہنسا دیا تو برا لگے گا
Zubair Ali Tabish
28 likes
ایک پہنچا ہوا مسافر ہے دل بھٹکنے ہے وہ ہے وہ پھروں بھی ماہر ہے کون لایا ہے عشق پر ایمان ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی کافر ہوں تو بھی کافر ہے درد کا حقیقت جو حرف اول تھا درد کا حقیقت ہی حرف آخر ہے کام ادھورا پڑا ہے خوابوں کا آج پھروں نیند غیر حاضر ہے لاج رکھ لی تری سماعت نے ور لگ تابش بھی کوئی شاعر ہے
Zubair Ali Tabish
18 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Zubair Ali Tabish.
Similar Moods
More moods that pair well with Zubair Ali Tabish's ghazal.







