ایک پہنچا ہوا مسافر ہے دل بھٹکنے ہے وہ ہے وہ پھروں بھی ماہر ہے کون لایا ہے عشق پر ایمان ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی کافر ہوں تو بھی کافر ہے درد کا حقیقت جو حرف اول تھا درد کا حقیقت ہی حرف آخر ہے کام ادھورا پڑا ہے خوابوں کا آج پھروں نیند غیر حاضر ہے لاج رکھ لی تری سماعت نے ور لگ تابش بھی کوئی شاعر ہے
Related Ghazal
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا
Hasan Abbasi
235 likes
اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے
Mehshar Afridi
173 likes
پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا
Fahmi Badayuni
96 likes
More from Zubair Ali Tabish
چاند کو دامن ہے وہ ہے وہ لا کر رکھ دیا ا سے نے مری گود ہے وہ ہے وہ سر رکھ دیا آنکھ ہے وہ ہے وہ آنسو ہے ک سے کے نام کے ک سے نے کشتی ہے وہ ہے وہ سمندر رکھ دیا حقیقت بتانے لگ گیا تو مجبوریاں اور پھروں ہم نے ریسیور رکھ دیا
Zubair Ali Tabish
31 likes
ب سے اک نگاہ ناز کو دراڑیں ہوا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ حالانکہ شہر شہر ہے وہ ہے وہ پھیلا ہوا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مدت کے بعد آئی لگ دیکھا تو رو پڑا ک سے بہترین دوست سے روٹھا ہوا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہنا جو رین کوٹ تو بارش نہیں ہوئی لوٹا جو گھر تو شرم سے بھیگا ہوا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہلے بھی دی گئی تھی مجھے بزم کی دعا پہلے بھی ا سے دعا پہ اکیلا ہوا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی عجیب بات ہے نا تو ہی آ گیا تو تری ہی انتظار ہے وہ ہے وہ بیٹھا ہوا تھا ہے وہ ہے وہ
Zubair Ali Tabish
47 likes
اب ا سے کا وصل مہنگا چل رہا ہے تو ب سے یادوں پہ خرچہ چل رہا ہے محبت دو قدم پر تھک گئی تھی م گر یہ ہجر کتنا چل رہا ہے بے حد ہی دھیرے دھیرے چل رہے ہوں تمہارے ذہن ہے وہ ہے وہ کیا چل رہا ہے ب سے اک ہی دوست ہے دنیا ہے وہ ہے وہ اپنا م گر ا سے سے بھی جھگڑا چل رہا ہے دلوں کو توڑنے کا فن ہے جاناں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہارا کام کیسا چل رہا ہے سبھی یاروں کے مقطعے ہوں چکے ہیں ہمارا پہلا مصرعہ چل رہا ہے یہ تابش کیا ہے ب سے اک کھوٹا سکہ م گر یہ کھوٹا سکہ چل رہا ہے
Zubair Ali Tabish
30 likes
دل پھروں اس کا کوچے ہے وہ ہے وہ جانے والا ہے بیٹھے بٹھائے ٹھوکر خانے والا ہے ترک تعلق کا دھڑکا سا ہے دل کو حقیقت مجھ کو اک بات بتانے والا ہے کتنے ادب سے بیٹھے ہیں سوکھے پودے چنو بادل شعر سنہانے والا ہے یہ مت سوچ سرائے پر کیا بیتےگی تو تو بس اک رات بتانے والا ہے اینٹوں کو آپس ہے وہ ہے وہ ملانے والا بے وجہ اصل ہے وہ ہے وہ اک دیوار اٹھانے والا ہے گاڑی کی رفتار ہے وہ ہے وہ آئی ہے سستی شاید اب اسٹیشن آنے والا ہے آخری ہچکی لینی ہے اب آ جاؤ بعد ہے وہ ہے وہ جاناں کو کون بلانے والا ہے
Zubair Ali Tabish
33 likes
جب حقیقت مری شا لگ ب شا لگ چلتا ہے پ سے منظر ہے وہ ہے وہ کوئی گانا چلتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پوری ذمہ داری سے پیتا ہوں مری لغزش سے مےخا لگ چلتا ہے آوارہ گر گرا پر خواب ہے لیکن ایک گلی ہے وہ ہے وہ آنا جانا چلتا ہے پل پل ہے وہ ہے وہ بجلی کے جھٹکے دیتے ہوں ایسے تو ب سے پاگل خا لگ چلتا ہے آپ کسی موقعے پر ماتم کرتے ہیں ہم لوگوں کا تو روزا لگ چلتا ہے جاناں کو مری چال پہ فکرے ک سے نے تھے ک سے لو کمر تراش کو اب دیوا لگ چلتا ہے
Zubair Ali Tabish
43 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Zubair Ali Tabish.
Similar Moods
More moods that pair well with Zubair Ali Tabish's ghazal.







